بھلائی میں تعاون کا قراٰنی مفہوم
قراٰنی تعلیمات میں ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات موجود ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی، دنیوی اور اُخروی زندگی کے تمام پہلوؤں کو منظّم کرتا ہے۔ انہی جامع تعلیمات میں سے ایک یہ تعلیم بھی ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دو اور گُناہ اور ظُلم کے کاموں سے باز رہو۔ چنانچہ اللہ کریم کا فرمان ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیتِ کریمہ اسلامی معاشرے کی تشکیل کا بنیادی اُصول بیان کرتی ہے۔ اس میں چار اَہم عناصر کا ذکر ہے: اَلْبِرّ (نیکی)، اَلتَّقْوٰى (پرہیزگاری)، اَلْاِثْم (گناہ) اور اَلْعُدْوَان (زیادتی)۔ پہلے دو عناصر وہ ہیں جن میں تعاون اور معاونت کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ آخری دو عناصر وہ ہیں جن میں معاونت سے منع کیا گیا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃُ المجادلۃ میں مؤمنوں کو ہدایت دی:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹)
ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گُناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں اللہ کریم نے انہی چار عناصر کاذکر فرمایا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ جب لوگ آپس میں سرگوشی کریں تو نیکی اور بھلائی کی باتیں کریں، نہ کہ گُناہ اور بُرائی کی۔
ان چاروں عناصر یعنی ”اَلْبِرّ، اَلتَّقْوٰى، اَلْاِثْم اور اَلْعُدْوَان“ کو قراٰنِ کریم نے مختلف سیاق و سباق میں کئی بار ذکر فرمایا ہے، چنانچہ اس مضمون میں ہم ان چاروں عناصر کو قراٰنِ کریم کی آیات کی روشنی میں تفصیل سے بیان کریں گے، تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ قراٰنِ کریم نے کن اعمال، نظریات اور عقائد کو ان کے زمرے میں رکھا ہے۔
”اَلْبِرّ“ قراٰنِ کریم کی روشنی میں
لفظ ”اَلْبِرّ“ عربی زبان میں خیر، نیکی، احسان، بھلائی اور ہر اس عمل کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اللہ پاک کو پسند ہو اور جس میں دنیا و آخِرت کی بھلائی ہو۔ ”اَلْبِرّ“ کا مفہوم انتہائی وسیع ہے اور یہ تمام نیکیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
قراٰنِ کریم میں ”اَلْبِرّ“ کا لفظ مختلف معانی میں استِعمال ہوا ہے۔ کبھی یہ لفظ عقیدہ و ایمان کے معنیٰ میں آیا ہے، کبھی عبادات کے معنیٰ میں، کبھی اخلاق و معاملات کے معنیٰ میں، اور کبھی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے معنیٰ میں۔
”اَلْبِرّ“ کےاطلاقات
اللہ تعالیٰ نے سورۃُ البقرۃ میں ”اَلْبِرّ“ کے اطلاقات کے بارے میں فرمایا:
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)
ترجَمۂ کنزالایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ”اَلْبِرّ“ کے چھ اَہم طریقے ارشاد فرمائے ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ، یومِ آخِرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہمُ السّلام پر ایمان لانا (۲)اللہ تعالیٰ کی محبّت میں مستحق افراد کو اپنا پسندیدہ مال دینا (۳)نماز قائم کرنا (۴)زکوٰۃ دینا (۵)عہد پورا کرنا (۶)مصیبت، سختی اور جہاد میں صبر کرنا۔
اسی طرح سورۃُ البقرۃ میں دوسرے مقام پر فرمایا:
وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰىۚ-وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۱۸۹)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ گھروں میں پچھیت(پچھلی دیوار) توڑ کرآؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اس اُمید پر کہ فلاح پاؤ۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حج کے لیے احرام باندھ لیتے تواپنے مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے،اگر ضَرورت ہوتی تو پچھلی دیوار توڑ کر آتے اور اس کو نیکی جانتے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے پیچھے سے آؤ۔ اصل نیکی تقویٰ، خوفِ خدا اور احکامِ الٰہی کی اطاعت ہے۔([5])
اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو بغیر ممانعت کے ناجائز سمجھنا جُہلاء کا کام ہے۔اپنی طرف سے غلط قسم کی رسمیں اور پابندیاں لگالینا جائز نہیں۔([6])
سورۃُ البقرۃ کی آیت 177 کے آخر میں فرمایا:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)
ترجَمۂ کنزالایمان: یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچّی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔([7])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور سورۃُ البقرۃ کی آیت 189 کے آخر میں فرمایا:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۱۸۹)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ سے ڈرتے رہو اس اُمید پر کہ فلاح پاؤ۔([8])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس سے معلوم ہوا کہ ”اَلْبِرّ“اور ”اَلتَّقْوٰى“ ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ جو شخص متّقی ہوگا وہی حقیقی معنوں میں نیک ہوگا۔
”اَلْبِرّ“ اور اِنْفَاق فِی سَبِیلِ اللہ
سورۂ اٰل عمرٰن میں فرمایا:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ
ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت کریمہ اَلْبِرّ کے ایک اَہم پہلو ”اللہ کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ کرنا“ بیان کرتی ہے۔ اور تاکید کرتی ہے کہ جب تک انسان اپنی محبوب اور پسندیدہ چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا، وہ کامل نیکی کو نہیں پہنچ سکتا۔
والدین کے ساتھ نیکی
اسی طرح قراٰنِ کریم میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے لیے بھی لفظ ”بِرّ“ استِعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السّلام کی تعریف میں فرمایا:
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا(۱۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا اور زبردست و نافرمان نہ تھا۔([10])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں فرمایا:
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(۳۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور اپنی ماں سے اچّھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا۔([11])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
”اَلْبِرّ“کے دیگر پہلو اور اجر کا بیان
اسی طرح کچھ آیاتِ کریمہ میں ”اَلْبِرّ“ یعنی نیکی و بھلائی وغیرہ کی تعلیم دینے کے ساتھ خود بھی عمل کرنے کا فرمایا گیا، نیکی اور بھلائی والوں یعنی ”اَبرار“ کا ساتھ طلب کرنے کی دُعا کی ترغیب دلائی گئی، ان کا ٹھکانا جنّت اور نعمتیں ہونے کا ذکر فرمایا گیا، انہیں عزّت والے شمار کیا گیا، انہیں جنّت میں کافور ملے مشروبات پلائے جانے اور جنّتی باغات جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، کی بشارت دی گئی جیسا کہ سورۂ اٰلِ عمرٰن میں فرمایا:
وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ(۱۹۳)
ترجَمۂ کنزالایمان: (اے ہمارے رب!) اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر۔([12])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اَبرار کے لیے جنّت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ(۱۹۸)
ترجَمۂ کنزالایمان: لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچی نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی مہمانی اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لیے سب سے بھلا۔([13])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اَبرار کے لیے نعمتوں کا تفصیلی ذکر آیا ہے:
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ(۵)
ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی مِلُونی(آمیزش) کافور ہے ۔([14])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ(۱۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: جو کرم والے نکوئی والے۔([15])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ(۱۳)
ترجَمۂ کنزالایمان: بےشک نکوکار ضرور چین میں ہیں۔([16])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ(۱۸)
ترجَمۂ کنزالایمان: ہاں ہاں بے شک نیکوں کی لکھت سب سے اونچے محل عِلِّیّین میں ہے۔([17])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ تمام آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو لوگ دنیا میں نیک اعمال کریں گے، اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں عظیم اَجر سے نوازے گا۔
”اَلْبِرّ“ کے ترک کی مذمت
سورۃُ البقرۃ میں بنٓی اسرآءیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔([18])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت کریمہ ایک اَہم اُصول بیان کرتی ہے کہ لوگوں کو نیکی کی تعلیم دینا بہت اچّھا کام ہے، لیکن اگر خود عمل نہ کیا جائے تو یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ بنی اسرائیل کی یہ عادت تھی کہ وہ دوسروں کو تو نیکی کی تلقین کرتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس روش کی سخت مذمّت فرمائی۔
”اَلْبِرّ“ کا خلاصہ اور ترغیب
قراٰنِ کریم کی مذکورہ بالا آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اَلْبِرّ ایک جامع اصطلاح ہے جو تمام نیکیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ان آیاتِ کریمہ سے ”اَلْبِرّ“ کے بارے میں خلاصہ یہ حاصل ہوا ہے کہ *ہمیشہ نیکی اور بھلائی کی بات کرو اور خود بھی عمل کرو *اللہ پاک، یومِ آخرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور انبیا علیہمُ السّلام پر ایمان رکھو *اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر، اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنا پسندیدہ مال خرچ کرو *نماز قائم کرو *زکوٰۃ ادا کرو *عہد پورا کرو *مصیبت، سختی اور جہاد میں صبر کرو *ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ *نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی کوشش کرو *اپنی نجی محافل اور مشاورتوں اور سرگوشیوں میں بھی ان نیکیوں ہی کو شامل کرو *اور ان جملہ امور میں ایک دوسرے کا ساتھ دو، باہم تعاون کرو۔
(نوٹ: دوسرے عنصر ”اَلتَّقْوٰى“ کی تفصیلات اگلے ماہ ”مئی 2026ء“ کے شمارے میں پڑھیے۔ اِن شآءَ اللہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments