بے دینی کی عیاریاں
پردہ شریعتِ اسلامیہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ شریعت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں نیک چلنی اور پاک بازی کو رواج دیا جائے اور نفس کو بہیمی و شیطانی خصائل سے بچایا جائے۔ پاکیزہ اخلاق اور پسندیدہ جذبات سے اُس کو زینت دی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بدیوں اور گناہوں کا قوت کے ساتھ سدِّ باب کیا جائے اور وہ اسباب جو گناہوں کے باعث ہوتے ہیں اور نفس کو ہیجان میں لاتے ہیں، اس کا استیصال کر دیا جائے۔ درحقیقت جب کوئی شخص کسی چیز کو روکنا چاہے تو اُس پر لازم ہے کہ اس کے دواعی اور محرکات کو قطع کر دے۔ موسمی امراض اور وباؤں سے بچنے کے لیے پہلے سے صفائی کا اہتمام اور حفظ ما تقدم کی تدابیر اسی اصول کے ماتحت کی جاتی ہیں جن سے نقض امن یا فساد کا اندیشہ ہو۔ ایسے مجامع کو خلاف قانون اسی لیے قرار دیا جاتا ہے۔ مورچوں پر حربی سامان ہر وقت اسی مقصد کے لیے تیار رکھا جاتا ہے۔ اہم مقامات پر چھاؤنیاں اسی غرض سے ڈالی جاتی ہیں۔ ہر مکان میں احاطہ کی دیوار اور بند ہونے والے مضبوط دروازے اسی لیے بنائے جاتے ہیں۔ خزانوں کا مقفل کرنا، ان پر پہرے مقرر کرنا، ورود عام کو وہاں ممنوع قرار دے دینا، یہ سب دولت کی حفاظت ہی کے لیے ہے۔ مضر چیزوں سے پرہیز اسی لیے کیا جاتا ہے۔
غرض یہ کہ دنیا میں جس چیز کی حفاظت منظور ہوتی ہے اُس کو ہر ایسی چیز سے بچایا جاتا ہے جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ یا خطرہ ہو۔ کیا وجہ ہے کہ انسانی اخلاق اور بہترین صفات کی حفاظت کے لیے شہوت انگیزی کے اسباب اور گناہوں کے محرکات کو ممنوع قرار نہ دیا جائے۔ عورت مرد با ہم ایک دوسرے کے لیے طبعاً مرغوب ہیں۔ حُسن و اَدا اور خوبی لباس مشوق ہے۔ نگاہ سے نگاہ مل کر اشاروں میں وہ گفتگوئیں ہو جایا کرتی ہیں جس کو عبارت میں ادا کیا جائے تو صفحے کے صفحے بھر جائیں جب عورتوں کو بے حجاب کر دیا جائے اور مردوں سے اختلاط میں انہیں کوئی رکاوٹ باقی نہ ر ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس اختلاط سے فساد پیدا ہی نہ ہو۔ شہوت پرست انسان جس کی نگاہیں خیانت کی عادی ہوگئی ہوں، اور جس کا دل ناجائز خواہشات سے لبریز رہتا ہو، وہ تو پردہ کے حکم اور اختلاط کی ممانعت کو اپنی تمناؤں کا خون سمجھے گا اور دشمن ہو جائے گا لیکن وہ ہادی جو انسانی بد کار کو عیب سے بچانا چاہتا ہے وہ یقیناً فساد کی راہوں کو روکے گا جس چیز اور جس خبر میں مظنۂ فساد ہو اس کو ممنوع فرمائے گا۔
اسی حکمت کے لیے شریعت اسلامیہ نے پردہ کا حکم دیا تا کہ دنیا سے بد کاری اور بد نیتی کا استیصال کیا جائے اور خلقِ خدا شہوات کے سمندروں میں غوطہ کھانے سے محفوظ رہے جب تک یہ انتظام نہ ہو تو انسان خدا پرستی کے لیے فراغت نہیں پاسکتا۔ شریعتِ اسلامیہ کے اس قانون کا یہ نتیجہ ہوا کہ انسانوں میں پر ہیز گاری آگئی اور قُویٰ اپنے محل پر صرف ہونے لگے۔ بد نیتوں سے جو فساد و خون ریزیاں ہوتی تھیں اُن سے امن ہو گیا۔ انسان اپنے اہل وعیال کے حقوق ادا کرنے کی طرف مائل ہو گئے۔ خدا پرستی اور پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ معاشرت بہتر ہو گئی اور نسلیں قوی پیدا ہونے لگیں۔ اس قانون کی بدولت مسلمانوں کے اوقات ضروریات میں صرف ہونے لگے۔ صبح شام سیرگاہوں میں عورتوں مردوں کے ہجوم کا اس قانون کے عہد میں نام و نشان نہیں ملتا۔ نہ عورتیں بے پردہ پھرتی ہیں نہ کسی کے دل میں شوق دیدار کے ولولے پیدا ہوتے ہیں نہ ناچ گھر آباد ہوتے ہیں، نہ پُر فساد مجامع دیکھے جاتے ہیں۔ انسان ایک سادہ زندگی کے معیار پر لے آیا گیا ہے۔ رات اپنے گھر میں اپنے اہل کے ساتھ انسانی متانت کے ساتھ گزارتا ہے۔ صبح قراٰن پاک لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ عورتیں اور مرد سب تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں۔ یادِ الٰہی کے جذبے اور ذکرِ الٰہی کا شوق قلب کو منور کرتا ہے۔ اس سے فارغ ہو کر معاش کے کاموں میں دن گزارتا ہے۔ دن کے آخری حصہ میں جب اپنے کاموں سے فارغ ہو جاتا ہے تو مسجد میں بعدِ عصر بہ نیتِ اعتکاف بیٹھتا ہے یا اپنے شب کی ضروریات بہم پہچانے میں مشغول ہوا ہے۔ اس طرح اُس کے رات دن نہایت پاکیزگی کے ساتھ گزرتے ہیں۔ عورتیں مکانوں میں پردہ نشین ہیں۔ اُن کے خیالات منتشر نہیں ہیں۔ وہ خانہ داری اور تربیت اولاد کے کام میں مصروف ہیں۔ عبادتوں کے اوقات یادِ الٰہی میں گزارتی ہیں۔ طہارت کا لحاظ رکھتی ہیں۔ ان کی محنتوں کا مرکز ایک شوہر ہے اور اس وجہ سے ان کو بڑی نفیس معاشرت اور عیش غیر مکدر حاصل ہوتا ہے۔ اس صفت میں مسلمان دنیا کی تمام قوموں میں فرد تھے۔ اُن کی خواتین کا آنچل کسی آنکھ نے نہ دیکھا تھا۔ اُن کے زیور کی جھنکار کسی کان نے نہیں سنی تھی۔ ان کے نام سے نامحرم واقف نہیں ہو سکتا تھا۔ مرنے کے بعد قبر میں بھی پردے کے اہتمام سے اتاری جاتی تھیں۔ اُن کی باندیاں بھی پردہ کرتی تھیں۔ باہر کی پھرنے والی عورتوں تک کا گھر میں آنا انہیں ناگوار تھا اور دُنیا کی وہ قومیں جن کے یہاں پردہ نہیں ہے، مسلمانوں سے شرماتی تھیں اور سمجھتی تھیں کہ حمیت و غیرت مسلمانوں کا حصہ ہے، اس میں کوئی ان کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ اپنی حالتوں پر ان کو شرم آتی تھی۔ اس لیے انہوں نے پردہ کی مخالفت شروع کی اور طرح طرح کے پروپیگنڈے شروع کیے تاکہ مسلمان کی یہ عزت و امتیاز جس کے سامنے اقوامِ عالم کو شرمندہ و رسوا ہونا پڑتا ہے، معدوم کر دی جائے۔ اغیار تو اس کوشش میں تھے ہی اُن کے حسدو عناد کا اس امر کو مقتضی ہونا چنداں بعید بھی نہ تھا۔
کُوزه پشت ( کبڑا ) بھی چاہتا ہے کہ دنیا کے سرو قامت نو جوان اسی طرح خمیدہ ہو جائیں لیکن قابلِ رنج بات یہ ہے کہ ہمارے نوتعلیم یافتہ، مغربیت پرست، دشمنوں کی اس تمنا کو پورا کرنے کے لیے آلہ کار بن گئے اور وہ مسلمانوں کو غلط راہ پر لے جانے کی سعی میں سرگرم ہیں۔ ان سادہ لوحوں کو دشمنوں کا رٹایا ہوا کلمۂ ناحق تو یاد ہے، مگر وہ جذبہ خوش اعتقادی میں دشمن کی چال بازی و عیاری سے بالکل بے خبر اور غافل ہیں۔ شہوانی، غیرت سوز، امنگیں اُن کے ساتھ ہیں اور وہ اپنی بیبیوں کو بے پردہ اور بے حجاب بازاروں میں اور سیر گاہوں میں ریلوے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارموں پر، بلکہ تھیڑوں اور سنیماؤں تک میں ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ غیر مردوں سے اُن کے ہاتھ ملواتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ لباس وہ پہناتے ہیں جس کو لباسِ عریانی یا لباسِ بے حیائی کہنا بالکل صحیح ہے۔ ہیں تو بیگم صاحب مگر سر کھلا ہے، بال کٹے ہیں، آستینیں ندارد ہیں، کلائیاں اور بازو نظر آ رہے ہیں، گریبان تِرچھا تَر شا ہوا ہے جس میں سینہ اور کچھ حصہ زنانہ جسم تک کے نمودار ہیں۔ گھٹنوں تک پاؤں بھی کھلے ہیں، جن پر جسم کے ہم رنگ ریشمی موزے ہیں۔ ایک محترم خاتون کی بے عزتی کے لیے وہ سب کچھ کر لیا گیا ہے جس کا تصور کرنے سے مر جانا اس سے بدرجہا زیادہ پیارا معلوم ہوتا تھا۔ اس میں شریعتِ مطہرہ کی صریح مخالفت ہے اور غیرت کا تو نام و نشان بھی باقی نہ رہا کہ آدمی اپنی بی بی کو منظر عام پر لیے پھرتا ہے اور دنیا کے بد سے بد شخص کو اُس پر نظر ڈالنے کے موقعے دیتا ہے۔ ایسے ہی منحوس کو دیوث کہتے ہیں۔ بعض غیرت مند جانور تک اس طرح کی بے حیائی گوارا نہیں کرتے۔ اس بے غیرتی کو رواج دینے کے لیے تقریریں کی جاتی ہیں، مضمون لکھے جاتے ہیں، اور پردہ توڑ کر باہر نکل آنے والی حیادار عورتیں پردے کی مخالفت میں بہت غوغا کرتی ہیں۔ زنانہ مدرسوں میں تعلیم دینے والی عورتیں پردہ کی برائیاں لڑکیوں کے ذہن نشین کر کے حیا کی چادر اُتار ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔
جو مرد اپنی شرم و حیا بالائے طاق رکھ کر عورتوں کو پردے سے باہر نکال لائے اور اُن کو بے حجابی کا شکار بھی بنا چکے، وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اسی میں مبتلا کریں۔ آج کل ایک چھوٹا رسالہ میونسپلٹی مراد آباد میں تقسیم کیا گیا یہ رسالہ چھوٹی تقطیع کے ۴ صفحے پر ہے۔ لوہے کے حرفوں سے چھاپا ہوا ہے۔ ہیلتھ کی جانب سے چھاپا گیا ہے۔ اُس میں اکبر و جمیلہ کی ایک کہانی لکھی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ جمیلہ پردے کی پابندی کی وجہ سے تپ دق میں مبتلا ہو کر مرگئی اور اپنی لڑکیوں کو پردہ نہ کرنے کی وصیت کر گئی۔ اول تو یہ بات بے جا ہے کہ کوئی پبلک محکمہ کسی قوم کے مذہبی جذبات کے خلاف پراپیگنڈہ کرے اور اگر ایسے رسالوں کی اشاعت پر پبلک ہی کا روپیہ بھی صرف ہو تو یہ اور زیادہ قابل مواخذہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ آنکھ کھولیں اور پبلک کا روپیہ اپنے مذہب کی مخالفت میں نہ صَرف ہونے دیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ پردہ شکنی جیسے غیرت سوز و دشمنِ حیا مقصد کے لیے تمام ادلۂ عقلیہ و شرعیہ کے جواب میں صرف کہانیاں ... ہو سکتی ہیں اور تعلیمِ جدید کا اصولِ برہان یہ کہانیاں رہ گئی ہیں اور وہ بھی باطل محکمہ ہیلتھ، یعنی صحت کی طرف سے اس کا شائع ہونا اور زیادہ تعجب خیز ہے کیوں کہ ماہرین علم صحت کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ صدیوں کے تجربے افسانوں اور کہانیوں سے رد نہیں ہوتے۔ تیرہ سو برس سے مسلمان پردہ کے نہایت اہتمام کے ساتھ پابند ہیں۔ اگر پردے سے تپ دق پیدا ہوتی تو ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تمام عورتیں تپ دق ہی میں مرتیں اور مسلمانوں کی نسل روز بروز گھٹتی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا تو کسی عورت کی تپ دق کا سبب پردے کو قرار دینا ایک غلط تخیل اور باطل وہم ہے۔ مسلمانوں کی عورتیں تو ابتدا ہی سے پردے کی خوگر اور عادی ہوتی ہیں انہیں پردے سے وحشت اور گھبراہٹ نہیں ہوتی بلکہ پردہ جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے اور بے پردگی انہیں موت سے زیادہ شاق و ناگوار معلوم ہوتی ہے۔
انہیں پردے سے کیا تپ دق ہوگی جو مرد ہیں اور ابتدائے عمر سے آزاد پھرنے کے عادی ہیں جب انھیں لمبی لمبی قیدیں ہو جاتی ہیں اور جیل خانوں میں وہ نہ صرف دنیا کے سیر و تفریح سے روکے جاتے ہیں بلکہ عزیز و اقارب اہل واولاد کو دیکھنے کو ترس جاتے ہیں، بد نامی و رسوائی کا روبار کی خرابی گھر کی ویرانی اہل و عیال کی پریشانی کے سبب سے غم اُن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پھر اس پر مشقتیں، جیل کی صُعوبتیں، وحشت انگیز لباس، زمین پر بیٹھنا سونا، غذاؤں کی پا بندیاں یہ سب چیزیں مل کر بھی تپ دق کا سبب نہیں ہوتیں تو عورتوں کے لیے پردہ جس کو وہ اپنی عزت و حرمت جانتی ہیں اور جس کے ساتھ عزیز و اقارب سے ملنے رشتہ داروں کے یہاں جانے شادی غمی میں شرکت کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہوتی۔ حسب حیثیت آسائش کے سامان مہیا ہیں، وہ کس طرح تپ دق کا سبب ہو سکتا ہے اور اگر ماہرینِ حفظانِ صحت کے نزدیک اتنی سی پابندی بھی تپ دق کا سبب ہے تو پہلے انہیں یہ چاہئے کہ گورنمنٹ سے قید کی سزا کو مخالف صحت وسبب ہلاک ثابت کر کے موقوف کرائیں کیوں کہ قید کی سزا دینے سے جان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہوتا۔ اگر وہ جان کے لیے خطرناک ہے تو ضرور موقوف ہونی چاہیے۔
بہت افسوس ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق بگاڑنے کے لیے ایسی رکیک کہانیوں سے کام لیا جائے، اور اس مقصد کے لیے ان کہانیوں کا پیش کرنا اہل نظر کے لیے اس کی دلیل ہے کہ بے پردگی کے حامیوں کے پاس اُن کے طریق عمل کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی تعلیم اور دین داروں کی صحبت سے بے پردہ ہو کر انسان قوائے شہوانیہ سے اتنا مغلوب ہو جاتا ہے کہ غیرت وحمیت تک اُس میں باقی نہیں رہتی، اور یہ حالت اُس کو بہترین جذبات کی پاسداری سے معطل کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے نوجوانوں کو مسلمانوں کی پختگیِ اعتقاد کا بھی کچھ اندازہ کرنا چاہئے کہ وہ پابندیِ شریعت کو ہر چیز سے زیادہ قیمتی اور عزیز سمجھتے ہیں۔ وہ ایسے و ہمیات کی طرف کیا التفات کریں گے۔(السواد الاعظم، شوال، ذیقعده ۱۳۵۰، ص 2تا 12)
Comments