دار الافتاءاہلسنت
(1) تلبیہ چھوڑنے کی صورت میں عمرہ کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پہلے عمرہ کرنے کے بعد مکہ میں ہی کچھ دن ٹھہر گیا پھر میں نے دوسرا عمرہ کرنے کے لیے مسجد عائشہ سے جاکر احرام باندھا اور وہیں دو رکعت نفل ادا کرکے یہ نیت کی ”اے اللہ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں، میرے لیے اسے آسان بنا اور قبول فرما“۔لیکن چونکہ ٹیکسی ڈرائیور بار بار مجھے جلدی کرنے کا کہہ رہا تھا جس کی وجہ سے میں تلبیہ پڑھنا بھول گیا جب ہم حرم میں واپس پہنچ گئے تو مجھے یاد آیا کہ میں نے تلبیہ نہیں پڑھی تھی لہٰذا میں نے وہیں تلبیہ پڑھ کر عمرہ کرلیا ،کیا اس صورت میں مجھ پر کوئی کفارہ لازم ہوگا؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جب آپ نے ایک عمرہ کرلیا تو اب آپ مکی کے حکم میں ہوگئے اور مکی عمرہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ حرم سے باہر جاکر عمرہ کا احرام باندھ کر آئے اور عمرہ کے احرام کے لیے عمرہ کی نیت اور اس کے ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام الفاظ کہنا ضروری ہیں بغیر اس کے احرام میں داخل نہیں ہوگا لہٰذا دریافت کردہ صورت میں اگر آپ نے حدودِ حرم میں آنے سے پہلے تلبیہ کے قائم مقام کوئی لفظ جیسے ”سبحان اللہ، الحمد للہ یا لا الہ الا اللہ“ وغیرہ کہہ لیے تھے تو آپ حالتِ احرام میں داخل ہوگئے اور عمرہ درست ہوگیا لیکن اگر بیرون حرم تلبیہ بھی نہیں کہا اور اس کے قائم مقام الفاظ بھی نہیں کہے اور حرم میں آکراس نیت سے تلبیہ یا قائم مقام ذکر کیا تو اس صورت میں حرم کے اندر احرام باندھنا پایا گیا جس کی وجہ سے آپ پر دم لازم ہوگیا ایسی صورت میں حکم یہ ہوتا ہے کہ بیرونِ حرم جاکر وہاں سے دوبارہ تلبیہ پڑھ کر آئے تو اس پر جو دم لازم ہوچکا وہ ساقط ہوجائے گا اور اگر بیرون حرم جانے سے پہلے عمرہ شروع کرلے تو اب دَم مؤکد و متعین ہوجاتا ہے لہٰذا جب آپ نے حرم کے اندر ہی تلبیہ پڑھ کر عمرہ کرلیا تو آپ پر ایک دم اوراس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہوگی۔
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2) جماعت فوت ہونے کے اندیشے میں سنتوں کی تکمیل کامسئلہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنت مؤکدہ کی ایک رکعت پڑھی اور خدشہ ہے کہ اگر دوسری رکعت ملائیں گے تو امام سلام پھیر دے گا،اب کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر کوئی شخص نفل،سنتِ مؤکدہ یا سنتِ غیر مؤکدہ شروع کرچکا تھا ،تو اس کےلیے ضروری ہے کہ دو رکعت مکمل کیے بغیر سلام نہ پھیرے،ایک رکعت پر سلام پھیردینا جائز نہیں، اگرچہ جماعت میں امام کے سلام پھیر دینے کا خوف ہو،کہ یہ تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ابطال کےلیے نماز توڑنا ہوگاجو کہ ناجائز ہے،البتہ اگر چار رکعت والی سنتِ مؤکدہ جیسے ظہر کی سنتِ قبلیہ شروع کرچکا تھا،اور فرضوں کی جماعت کھڑی ہوگئی، تو اب دو رکعت پڑھ کر سلام پھیردے یا چار مکمل کرے؟ اس میں اختلاف ہے۔ایک قول یہ ہے کہ دو رکعت پر سلام پھیر دے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ چار رکعت پوری کرےکیونکہ ان سنتوں کی تمام رکعتیں نماز واحد کی طرح ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں اقوال میں سے ہر طرف نہایت قوت اور تصحیح موجود ہے، دونوں اقوال میں سے جس پر انسان عمل کرے، تو کوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن راجح، دوسرا قول ہی ہےاور سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرّحمہ نےبھی اسی طرف میلان ظاہر فرمایا۔
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(3) متعدد کپڑوں پر نجاستِ غلیظہ کا مجموعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ مسئلہ شرعیہ ہے کہ ” کپڑے پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے، تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد“۔ اب اس میں یہ پوچھنا ہے کہ اگرنجاست ایک سے زائد کپڑوں میں لگی ہومثلاً کچھ قمیص پر لگی ہو اور تھوڑی سی شلوار پر ،اور دونوں جگہ درہم سے کم ہو لیکن مجموعہ درہم سے زائد ہو تو کیا یہ بھی مانعِ نماز ہوگی یعنی قمیص و شلوار دونوں کی نجاست مجموعاً مانع کہلائے گی یا الگ الگ کپڑے کا اعتبار کیا جائے گا؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
قوانینِ شرعیہ کی رُو سے نمازی کے بدن پر موجود ایک سے زائد کپڑوں پر متفرق نجاست لگی ہو تو مانع مقدار شمار کرنے میں مستقل طور پر الگ الگ کپڑے کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ تمام کپڑوں کی مجموعی نجاست کا اعتبار ہوگا،لہٰذا اگر قمیص اور شلوار پر تھوڑی تھوڑی نجاستِ غلیظہ لگی ہو اور دونوں میں ایک درہم کے برابر نہ ہو لیکن جمع کرنے کی صورت میں درہم سے زائد ہو جائے تو مجموعاً درہم سے زائد ہی سمجھی جائے گی اور جوازِ نماز سے مانع ہوگی،یونہی نجاستِ خفیفہ کا معاملہ ہے۔
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(4) انعامی اسکیم اور جوئےکی شرعی حیثیت
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی موبائل کی دوکان ہے وہ ہر مہینے ایک قیمتی ٹچ موبائل کی قرعہ اندازی کرتا ہےجس کا طریقہ کار یہ ہے کہ زید نے سو روپے انٹری فیس رکھی ہوئی ہے جو شخص اس کو سو روپے دیتا جاتا ہے اس کا نام قرعہ اندازی کی لسٹ میں شامل کردیتا ہے اس طرح سینکڑوں کے حساب سے افراد اس کے پاس آتے ہیں پھر جن کا نام قرعہ اندازی کی لسٹ میں شامل ہوتا ہے مہینے کے آخر میں ان کے نام کی پرچیاں بنا کر اس سے پرچی اٹھاتا ہے جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلتا ہے اس کو ٹچ موبائل دےدیتا ہے اور بقیہ کی رقم اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ قرعہ اندازی شرعا درست ہے ؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں زید کا مذکورہ طریقہ کے ساتھ موبائل کی قرعہ اندازی کرنا ناجائزو حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، کیونکہ مذکورہ انعامی طریقہ کار جوا ہے اور جوئے کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے، قرآن کریم میں اسے شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے ۔
اس کے جواہونے کی تفصیل یوں ہے کہ جس کا نام نکلا اس کو تو موبائل فون ملے گا ، اور جن کا نام نہیں نکلے گا ان کے سو روپے ضائع ہو جائیں گے۔ تو یہ اپنا مال خطرے پر پیش کرنا ہے کہ یا تو زیادہ مال ملے گا یا اپنا مال بھی چلا جائے گا ، اور یہی جوا ہے ۔لہٰذا اس ناجائز وحرام کام میں شامل تمام افراد پر یہ کام چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس فعل سےسچی توبہ کرنااور آئندہ اس برے کام سے باز رہنا بھی ضروری ہے ۔ نیز اس طریقے سے حاصل شدہ موبائل اور پیسوں وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ وہ ان کے مالکان کو واپس کیے جائیں یا جیسے بنے ان سے معاف کروا لیے جائیں، وہ نہ ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کیے جائیں۔ اور جن لوگوں کا پتا کسی طرح نہ چلے نہ ان کا نہ ان کے ورثاء کا تو ان لوگوں کا مال ان کی طرف سے خیرات کردے۔
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شیخ الحدیث و مفتی دارُالافتاء اہلسنت لاہور
Comments