آخری نبی محمد عربی ﷺ کا انداز تبسم (دوسری اور آخری قسط)


آخری نبی محمد عربی کااندازِ تبسم (دوسری اور آخری قسط)


(3)تعجب و حیرت کے وقت مسکراہٹ:

بارگاہِ رسالت میں اَزواجِ مُطَہّرات میں سےقریشی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں جوآپ سے محوِگفتگو تھیں،زیادہ بخشش کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جب فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ نے اِجازت ما نگی تو وہ جلدی سے اُٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔ رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی،جب یہ اندر داخل ہوئے تورسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تَبسُّم فرما رہے تھے۔یہ عرض گُزار ہوئے:اَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یارسولَ اللہ!اللہ آپ کو مسکراتا رکھے (کیا بات ہے؟)آپ نے فرمایا:مجھے اِن عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس حاضر تھیں کہ انہوں نے جب تمہاری آواز سنی تو جلدی سے اُٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔ عرض گُزار ہوئے: یارسولَ اللہ! آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ آپ سے ڈرتیں۔ پھرفاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  نےان کی جانب مُتَوجّہ ہو کرکہا: تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا:ہاں، آپ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی طرح نہیں بلکہ غُصّے والے اور سخت گیر ہیں۔حُضُورِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ تمہارے راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ ([1])

(4)حاضرجوابی پر مسکراہٹ:

(1)اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےایک دن دیہاتی کی موجودگی میں یہ گفتگو فرمائی: ایک جنّتی اپنے ربّ سےکھیتی باڑی کی اجازت مانگے گا تو اللہ پاک فرمائے گا:کیا تجھے وہ نہیں ملاجو تونےچاہا (یعنی جو نعمتیں تجھےملی ہیں کیا تو اُن سے راضی نہیں ؟)وہ عرض کرے گا:ہاں بِالکل ہوں مگرمیں کھیتی کرنا چاہتا ہوں۔( اس کی خواہش پر اسے بیج دیے جائیں گے) چنانچہ وہ بیج بوئے گا تواُس کا اُگنا، سیدھاہونا اورکٹائی کےقابل ہونا پلک جھپکنے سےپہلے ہوجائے گااوروہ مقدار میں پہاڑوں کےبرابر ہوگا۔تب اللہ پاک فرمائےگا: اے ابنِ آدم! کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھرتی۔ یہ سُن کر وہ دیہاتی بول پڑا: ربّ کی قسم! ایسا آدمی آپ قریشی یا انصاری ہی کو پائیں گے کہ وہ لوگ کھیتی باڑی والے ہیں،رہے ہم (دیہاتی)،ہم تو کھیتی والے ہیں ہی نہیں(بلکہ ہم عموماً جانور پال کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں) رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اُس کی حاضر جوابی پر مسکرادیے۔([2])

(2)حضرت صہیب رومی  رضی اللہ عنہ  کی آنکھ دُکھ رہی تھی اور وه کھجور كھا رہے تھے، رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: تمہاری آنکھ دُکھ رہی ہے اور تم کھجور کھا رہے ہو؟ عرض کی: میں دوسری طرف سے کھا رہا ہوں۔ یہ سُن کر آخِری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مسکرا دیے۔([3])

(5)فیصلہ تبدیل کرنےپر مسکراہٹ:

جب رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے طائف کا محاصرہ کیا اور فائدہ کچھ حاصل نہ ہوا تو فرمایا : اِن شاء اللہ تعالیٰ ہم کل واپس لوٹ جائیں گے۔ لوگوں پر یہ بات شاق گُزری اور کہنے لگے: فتح کیے بغیر ہم چلے جائیں گے؟ کبھی کہتے: ہم ناکام لوٹ جائیں گے۔ فرمایا :کل ہم پھر لڑیں گے۔ چنانچہ اگلے روزانہوں نے جہاد کیا اور بہت سے افراد زخمی ہوگئے۔ آپ نے پھر فرمایا : کل اِن شاء اللہ تعالیٰ ہم یہاں سے واپس لوٹ جائیں گے۔ اب اِن لوگوں کو یہ بات بہت بھلی معلوم ہوئی تو نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مسکرادیے۔([4])

(6)مشکل کو آسان کرنے کے لیے مسکراہٹ:

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی:یارسولَ اللہ! میں نے اِس طرح کاخواب دیکھا کہ میراسرکاٹ دیا گیاہے۔تو اِس کی بات سُن کر سیّدِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مسکرادیے اور فرمایا: جب تم میں سے کسی کے خواب میں شیطان آکر کھیل کرےتو وہ لوگوں کو مت بتائے۔([5])

اپنے بندوں کی مدد فرمائیے

پیارے حامی مسکراتے آئیے ([6])

(7)اللہ کی قدرت کے اقرار پر مسکراہٹ:

رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ایک موقع پر قِیامت کے دن جنّتیوں کی مہمان نوازی کے لیے زمین کے روٹی بن جانے کاذکر فرمایا تو اِس موقع پرایک یہودی عالم نے عرض کی:اے ابوالقاسم! رحمٰن آپ پر برکت نازل کرے؛ کیا میں آپ کو بروزِ قیامت جنتیوں کی مہمان نوازی کے بارے میں بتاؤں؟ فرمایا: ہاں۔ پھراُس نےبات کی تصدیق کرتے ہوئے عرض کی: زمین ایک روٹی جیسی ہوجائے گی جیسے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا۔یہ سُن کر آپ مسکرادیے۔ وہ پھر بولا: کیا میں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں بتاؤں؟ بالام اور مچھلی۔صحابَۂ کرام نے کہا :وہ کیا چیز ہے؟یہودی عالم نے جواب دیا: بیل اور مچھلی کہ ان دونوں کی کلیجی کےٹکڑے سے ستّر ہزار کھائیں گے۔([7])

(8)تائیدی مسکراہٹ:

حضرت عبداﷲ بن مغفل  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: خیبر کے دن مجھے چربی کا ایک تھیلا ملا تو میں اس سے لپٹ گیا میں نے کہا:آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا۔پھر میں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اللہ کے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  (مجھے دیکھ کر) مسکرارہے تھے۔([8]) یعنی حضور انور نے مجھے اس ارادے سے اور اس قبضہ سے روکا نہیں بلکہ تبسم فرمایا جس سے اجازت معلوم ہوئی کیونکہ کسی عمل کو دیکھ کر منع نہ فرمانا اجازت کی علامت ہے۔([9])

اِک بار مسکرا کے مجھے دیکھ لیجئے

دم توڑ دوں گا قدموں میں وارفتگی کے ساتھ ([10])

(9)تکلیف دہ رویّے کے باوُجُودمسکراہٹ:

ایک مرتبہ رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے مو ٹے تھے، ایک دیہاتی نے بطورِ امداد مال مانگنے کے لیےچادرمبارک پکڑ کر بڑے زور سے کھینچی یہاں تک کہ مبارَک کندھے پر رگڑ کا نشان بن گیا۔ ساتھ ہی اَعرابی نے بڑے سخت جملے بھی بولے۔رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے جواباًصرف اتنا فرمایا : مال تو اللہ پاک کا ہی ہے اور میں تو ا س کا بندہ ہوں۔ پھر ارشاد فرمایا: اے اَعرابی! کیا تم سے اس سُلوک کا بدلہ لیا جائے جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔فرمایا:کیوں نہیں؟ اَعرابی نے جواب دیا:کیونکہ آپ کی یہ عادتِ کریمہ ہی نہیں کہ آپ بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیں۔ اس کی یہ بات سُن کر رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مسکرا دیے اور ارشاد فرمایا: اِس کے ایک اونٹ کو جَو سے اور دوسرے کو کھجور سے بھردو۔([11])

خَزاں کا سخت پَہرا ہے غموں کا گُھپ اندھیرا ہے

ذرا سا مسکرا دو گے تو دِل میں روشنی ہوگی ([12])

(10) علم کا اشتِیاق پیدا کرنے کےلیےمسکراہٹ:

رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ایک موقع پرتبسّم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرایا؟ عرض کی گئی: اللہ اور اس کا رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہی بہتر جانتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا:بندے کے اپنے پروردگار سے کلام کرنے کی وجہ سے مسکرا رہا ہوں کہ وہ کہے گا: ’’اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی۔“ اللہ ارشاد فرمائے گا:’’ کیوں نہیں۔‘‘ وہ عرض کرے گا :’’آج کے دن میں اپنے خلاف اپنے سوا کسی اور کی گواہی قبول نہیں کروں گا۔‘‘ تو اللہ ارشاد فرمائے گا: ’’آج تو خود اور کِرَامًا کَاتِبِیْن تیرے خلاف بطورِ گواہ کافی ہیں۔‘‘ آپ فرماتے ہیں: پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا:’’ بولو۔‘‘ تو اس کے اعضاءاس کے اعمال کے متعلّق بولنے لگ جائیں گے، پھر اللہ اس کے اور اس کے کلام کے درمیان تنہائی پیدا کرے گا تو وہ اپنے اعضاء سے کہے گا:دور ہو جاؤ، دفع ہو جاؤ، میں تمہارا ہی تو دفاع کر رہا تھا۔ ([13])

اللہ کریم اپنے پیارے محبوب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے صدقے مسکراہٹ لبوں پر سجائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])بخاری،2/403، حديث: 3294

([2])بخاری، 2/93، حديث: 2348

([3])ابن ماجہ، 4/91، حدیث:3443

([4])بخاری، 3/115، حديث: 4325

([5])مسلم،ص959،حدیث:5927

([6])ذوقِ نعت،ص295

([7])بخاری،4/252، حدیث: 6520

([8])بخاری،2/360،حدیث:3153، مسلم، ص755، حدیث:4605واللفظ لہ

([9])مراٰۃُ المناجیح،5/580

([10])وسائل بخشش،ص211

([11])بخاری،4/53، حدیث:5809، الشفاء، 1/108

([12])وسائل بخشش،ص391

([13])مسلم،ص1214، حدیث:7439


Share