نفلی طواف میں عورت کے چہرہ ڈھانپنے کا مسئلہ


(1) نفلی طواف میں عورت کے چہرہ  ڈھانپنے کا مسئلہ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نفلی طواف میں  کیا عورت چہرے کا نقاب کر سکتی ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جب عمرہ یا حج کی نیت سے احرام باندھا ہو تو مرد عورت دونوں کے لیے چہرہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔کیونکہ حالتِ احرام میں چہرہ نہ ڈھانپنا احرام کی پابندیوں میں سے ہے۔لیکن جب عورت نے عمرہ یا حج کی نیت نہیں کی بلکہ ویسے ہی نفلی طواف کر رہی ہے تو اب اس پر احرام کی پابندیاں  لازم نہیں ہوں گی۔  لہٰذا  ایسی صورت میں عورت چہرے کو  نقاب وغیرہ کے ذریعے چھپا کر طواف کر سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ  غیر محرمہ  عورت کےلیے حکم ہے کہ وہ اجنبی مردوں   کی نظر وں سے بچنے کےلیے چہرہ ڈھانپ کر ہی نفلی  طواف کرے کیونکہ عورت کا چہرہ اگرچہ  ستر میں شامل نہیں لیکن  فی زمانہ فتنہ سے بچنے اور فساد کی روک تھام کے لیے فقہاء ِکرام نے بغیر ضرورت جوان  عورت کا غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولناممنوع قرار دیا ہےاور اس کو چھپانا لازم قرار دیا ہے۔بلکہ حالتِ احرام میں  بھی اجنبیوں سے پردہ کرنے کی  صورت بیان فرمائی ہے کہ  چہرے کے سامنے چہرے سے جُدا کسی چیز کی آڑ کرلے مثلاً گَتَّاوغیرہ یا ہاتھ والا پنکھا چہرے کے سامنے رکھےتاکہ احرام کی پابندی پر بھی عمل ہوجائے اور پردے کے احکام کی بھی رعایت ہوجائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2) ماموں زاد سے پردے کا شرعی حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان شرع متین اس مسئلے  کے بارےمیں کہ کیا  لڑکی کا اپنے ماموں کے بیٹوں  سے  اور لڑکے کا اپنی ممانی  اور ماموں کی بیٹیوں  سے پردہ کرنا لازم ہے ؟اور اگر ان میں شرعاً پردہ لازم ہے تو اس کی خلاف ورزی کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال میں بیان کردہ رشتے  داروں کا ایک دوسرے سے پردہ فرض ہے، اور اس طرح بے پردہ ہونا حرام ہے کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان کے سامنے ان میں سے کچھ کھلا رکھیں؛ جیسے سرکے بالوں کا کچھ حصہ، یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز  کھلا ہو ۔ بلکہ فی زمانہ فتنوں کی کثرت کے باعث علمائے کرام نے  تو عورتوں کو اجنبی مرد کے سامنے اپنے چہرے کو بھی ظاہر کرنے سے منع فرمایا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شیخ الحدیث و مفتی دارُالافتاء اہلسنت لاہور


Share