تیز آندھی والی جنگ
بچّوں کی دلچسپی تو پہلے ہی اسلامیات کے لیکچر میں بہت زیادہ ہوتی تھی لیکن آج کل مزیدبڑھ چکی تھی کیونکہ تاریخِ اسلامی سے متعلّق باب( Chapter) شروع ہو چکا تھاتو جیسے جیسے اسلامی تاریخ سے آگاہی بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے انہیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر بھی بڑھتا جا رہاتھا۔
سر بلال کا کہنا تھا کہ تاریخ بھی آئینے( Mirror )کی طرح ہوتی ہے جس میں انسان خود کو پہچان کر اپنی اصلاح اور تعمیر کر سکتا ہے۔ سر نے آج کلاس میں آتے ہی وائٹ بورڈ پر باب کے نام کے ساتھ ساتھ آج کے سبق کا عنوان بھی لکھ دیا تھا: تاریخِ اسلامی ؛ غزوۂ خندق
تو بچّو بات ہے آج سے چودہ سو سال پرانی جب نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مدینۂ پاک کی طرف ہجرت کیے پانچ برس گزر چکے تھے ان پانچ برسوں میں بھی اسلام کے دشمنوں نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے ساتھی صحابہ کو امن و سکون کے ساتھ نہ رہنے دیا تھا کبھی بدر کے میدان میں تو کبھی احد پہاڑ کے دامن میں پوری جنگی قوّت کے ساتھ مسلمانوں سے مقابلہ کرنے آئے لیکن ہر بار منہ کی کھانی پڑی، آخِر پانچویں برس مدینہ سے نکالے ہوئے یہودیوں نے قریشِ مکہ سے ملاقات کی اور چند دوسرے قبیلوں کو بھی ساتھ ملا کر سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اِتّحادی فوج (Allied Forces) تیار کی، اس لیے اسے جنگِ اَحْزاب کہتے ہیں، کیونکہ اَحْزاب کا معنیٰ ہے کئی جماعتیں اور یہاں بھی بہت ساری جماعتیں مل گئی تھیں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ اس فوج کی تعداد دس ہزار تھی اور بالآخر ذُوالقعدہ کے مہینے میں یہ بڑالشکر مسلمانوں پر دھاوا بولنے کے اِرادے سے مدینۂ پاک کی طرف چل پڑا۔([1])
سر یہ ذُوالقعدہ کا مہینا کون سا ہوتا ہے؟ ایک بچّے نے پوچھا۔
سر بلال: بچّو! عید الاضحیٰ یعنی بڑی عید سے پہلے والا مہینا ذُوالقعدہ کہلاتا ہے۔ تو عرب کی پوری تاریخ میں کسی قوم کے خلاف اتنے بڑے لشکر نے حملہ نہیں کیا تھا، اس لشکر کی خبر مدینے پاک پہنچی تو اللہ پاک کے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منصوبہ بندی شروع کر دی اور صحابۂ کرام کو جمع کرکے مشورہ مانگا کہ کیسے اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیا جائے؟
حضرت سلمان فارسی جو عرب کے باہر سے آئے تھے، انہوں نے بڑا دلچسپ مشورہ دیا،”یارسولَ اللہ! فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم خندق کھودتے تھے۔“ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس مشورے کو قبول فرما لیا اور تین ہزار صحابہ کا لشکر لے کر آپ مدینہ میں ہی ایک پہاڑ کے پاس آٹھہرے، پیچھے سے تو پہاڑ کی ڈھال تھی لہٰذا سامنے کی طرف خندق بنانے کا کام شروع ہو گیا۔([2])
ریحان: سر یہ خندق کیا ہوتا ہے؟
سر بلال: بچو!دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لیے زمین کھود کر مورچے بنائے جاتے ہیں، اسے انگریزی زبان میں Trench بھی کہتے ہیں۔تو تقریباً چھ دنوں میں خندق کھود لی گئی، پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود بھی اس کام میں حصّہ لیا۔([3])
اُسید رضا: اسی لیے سر کتاب میں اس غزوہ کا نام غزوۂ خندق لکھا ہوا ہے۔
سر بلال: بِالکل درست بیٹا،جنگ اَحزاب کا دوسرا نام غزوۂ خندق بھی ہے، بہرحال جب دس ہزار سپاہی لیے دشمن کی جنگی فوج مدینہ حملے کرنے پہنچی تو سامنے خندق دیکھ کر حیران و پریشان کھڑی رہ گئی، اسلام اور مسلمانوں کو دنیا سے مٹانے کی ان کی ساری اُمیدوں اور اِرادوں کے سامنے خندق آڑ بن گئی تھی، کچھ سوچ کر انہوں نے خندق کے پاس ہی فوج کے مورچے بنا لیے۔ بعض نے تنگ جگہ سے خندق عبور کرنے کی کوشش بھی کی اور ان میں سے کچھ کامیاب بھی ہوئے مگر خندق کے اِس پار آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جاں نثاروں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے۔کچھ روز دونوں جانب سے ایک دوسرے کی فوج پر تیر اندازی کی گئی اس کے علاوہ باقاعدہ جنگ نہ ہوسکی۔([4]) مسلمان تو چلو اپنے شہر میں ہی تھے لیکن کافر فوج کے سپاہی اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر آئے ہوئے تھے پھر آگے سے نتیجہ بھی من چاہا نہیں مل رہا تھا بلکہ خوراک کا جو ذخیرہ ساتھ لائے تھے اس کے ختم ہونے اور آپس میں ایک دوسرے سے دغابازی کی خبروں نے دس ہزار ہوتے ہوئے بھی کافر سپاہیوں کو بددل کر دیا تھا اور ان سب پر آخری ضرب اللہ پاک کے کرم سے یہ لگی کہ ایسی سخت آندھی آئی کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں،خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ سوائے بھاگنے کے انہیں کچھ نہ سُوجھا، چنانچہ الرّحیل الرّحیل (چلو! چلو!) کی صداؤں میں مشرکین دُم دباکر بھاگ نکلے اور یہودی بھی اپنے قلعوں کی طرف چل دئیے، اب مدینۃ الرّسول کی سرزمین اس ناپاک لشکر کے وُجود سے پاک صاف ہو چکی تھی اور اسلامی لشکر بھی واپس گھروں کو لوٹ آیا۔([5])
تو بچو! ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب ہم اللہ کا نام لے کر اس کے دین کے لیے نکلتے ہیں تو پھر اللہ پاک کی مدد بھی ضَرور پہنچتی ہے، یہ کہتے ہوئے سر باہر کی طرف چل پڑے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی
Comments