صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے


ذُوالقعدۃِ الحرام اسلامی سال کا گیارھواں (11) مہینا ہے۔ اس میں جن اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے131کا مختصر ذکر ماہنامہ فیضانِ مدینہ ذُوالقعدۃِ الحرام 1438ھ تا1445ھ کے شماروں میں کیا چکا ہے، مزید 12کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(1)باباریشی مول صاحب حضرت ہردی حیدرسہروردی کشمیری  رحمۃُ اللہ علیہ  تارکُ الدنیا، صاحبِ کرامت ولی اللہ اور محبوبِ عالم شیخ حمزہ مخدوم سہروردی کشمیری کے مرید و خلیفہ تھے۔ ان کی پیدائش29رجب909ھ اور وصال یکم ذوالقعدہ 986ھ کو ہوا۔ مزار اسلام آباد (اننت نگر) کشمیر میں مرجع خلائق ہے۔ ([1])

(2)سلطان اولیاء خواجہ محمد زمان کلاں صدیقی نقشبندی لواری شریف  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش 21رمضان1125ھ اور وصال 4ذوالقعدہ1188ھ میں ہوا، عالیشان مزار لواری شریف ضلع بدین، سندھ میں ہے۔ آپ خواجہ ابوالمساکین مظہر ٹھٹھوی کے مرید و خلیفہ، کثیرالفیض، صاحب کرامت اور مشہور ولی اللہ تھے۔ آپ کے مشہور خلیفہ شیخ عبدالرحیم گرھوڑی اور جانشین محبوب الصمد خواجہ گل محمد نقشبندی ہیں۔([2])

(3)حضرت سید احمد شاہ مشہدی قادری  رحمۃُ اللہ علیہ  صاحب کرامت ولی اللہ تھے،والدکا نام سیدنورشاہ مشہدی ہے،وصال 28ذوالقعدہ 1329ھ کو فرمایا۔مزاراحاطہ جامع مسجدخضرا (ہری مسجد) نانک واڑہ کراچی میں ہے۔([3])

(4)عالم ربانی مولانا حافظ میاں محمد صادق نقشبندی  رحمۃُ اللہ علیہ  1366ھ کو سلیمان آباد، تحصیل جنڈ ضلع اٹک میں پیدا ہوئے اور 17ذوالقعدہ 1436ھ کو وصال فرمایا، مزار متصل مدرسہ انوار العلوم، قادر آباد تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین، پنجاب میں ہے۔ آپ حافظِ قراٰن، فاضل دارالعلوم محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف، مرید و تلمیذ حافظ الحدیث علامہ جلال الدّین مشہدی، خلیفہ میاں محمد حیات نقشبندی ننکانوی، بانی جامعۃ الحمیرا للبنات قادر آباد اور صاحب تقویٰ بزرگ تھے۔([4])

علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(5)حضرت امام ابومحمد عبداللہ بن محمد طائی اندلسی قرطبی  رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت رمضان 603ھ کو ہوئی اور وصال 11 ذوالقعدہ 702ھ کو فرمایا۔ آپ محدث و مسند، عالم و ادیب، صدوق و حسن الحديث اور علم و عمل کے جامع اور فقیہ مالکی تھے۔([5])

(6)مفتیِ الگوں حضرت مولانا مفتی ابو التمیز عبد العزیز مجددی  رحمۃُ اللہ علیہ  فاضل دارالعلوم حزب الاحناف لاہور، شاگرد امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ محدث الوری اور بانی مدرسہ عربیہ احیاء العلوم (جامع مسجد غلہ منڈی بورے والا، ضلع وہاڑی پنجاب) ہیں۔ آپ نے 10ذوالقعدہ 1380ھ مطابق 26 اپریل 1961ء کو وصال فرمایا۔ خلیفۂ قطب مدینہ علامہ سید محفوظ الحق شاہ ضیائی آپ کے مشہور شاگرد ہیں۔([6])

(7)مولانا تاج الدین احمد عرفانی مجددی  رحمۃُ اللہ علیہ  ایک بلند پایہ شاعر، بہترین صحافی،مصنف کتب و رسائل اور صاحبِ دیوان ادیب تھے۔آپ کی ولادت جمادی الاخریٰ 1301ھ اور وصال 3 ذوالقعدہ 1378ھ مطابق 11مئی 1959ء کو لاہور میں ہوا، تدفین قبرستان میانی صاحب میں احاطۂ علامہ طاہر بندگی مجددی میں کی گئی۔آپ نے متعدد ماہنامے، ہفتہ وار اور یومیہ اخبارات جاری کیے، جن میں ماہنامہ المجدد، رسالہ قتیل ناز، یومیہ امام، ہفتہ وار انوار الاعظم،اخبار نشتر اور اخبار ہنٹر شامل ہیں۔ تصانیف میں آفتابِ تاج، بہارِ جاوداں، انوارِ صدیقی، انوارِ فاروقی، ہندوؤں سے ترکِ موالات اور تہذیبِ قادیانی قابلِ ذکر ہیں۔([7])

(8)حضرت مولانا محمدنعیم اللہ خاں چھپروی  رحمۃُ اللہ علیہ  نائب مہتمم دارالعلوم جامعہ حبیبہ الٰہ آباد، سیکریٹری مسجدِ اعظم دریا آباد، صاحب استقامت، مرید و شاگرد مجاہدِ ملت علامہ حبیب الرحمٰن الٰہ آبادی، جذبۂ ایمانی سے سرشار اور کارکن آل انڈیا تبلیغ سیرت تھے، آپ کا وصال 5ذوالقعدہ 1382ھ کو ہوا۔ تدفین قبرستان الٰہ آباد (پریاگ راج) یوپی ہند میں کی گئی۔([8])

(9)سید السادات حضرت علامہ مولانا سیّد فضل حسین شاہ نقشبندی قادری  رحمۃُ اللہ علیہ  کی ولادت معین الدین سیداں نزد گجرات سٹی، پنجاب میں غالباً 1325ھ میں ہوئی اور یہیں 19 ذوالقعدہ 1390ھ کو وصال فرمایا،تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی۔ آپ جید عالمِ دین، فاضل دارالعلوم حزب الاحناف لاہور، مرید و تلمیذ امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ محدث الوری اور ماہنامہ معین الدین لاہور کے ایڈیٹر تھے۔([9])

(10)خطیب العصر حضرت مولانا حافظ محمد مسعود احمد دہلوی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش 1325ھ کو دہلی میں ہوئی۔ آپ حسین و جمیل، ذہین و فطین فاضل دارُالعلوم نعیمیہ مراد آباد، امام و خطیب صابری مسجد رنچھوڑ لائن، مارکیٹ ایریا کراچی اور واعظ دلپذیر تھے۔ آپ کا وصال 22 ذوالقعدہ1406ھ میں ہوا۔ تدفین نیو کراچی کے قبرستان میں ہوئی، مشہور عالمِ دین مفتی جمیل احمد نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  آپ کے داماد ہیں۔([10])

(11)حضرت مولانا حافظ محمد منظورالحق سیالوی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش 1357ھ میں سکا ضلع تلہ گنگ، پنجاب کے علمی گھرانے میں ہوئی، دارالعلوم امجدیہ کراچی سے فارغ التحصیل ہوئے، کراچی، دوبئی اور راولپنڈی میں دینی خدمات سرانجام دیں، وصال 27ذوالقعدہ1412ھ کو ہوا، مقامِ پیدائش میں تدفین کی گئی۔([11])

(12)یادگارِ اسلاف حضرت مولانا محمد بشیر قادری برکاتی  رحمۃُ اللہ علیہ  سیّدالمحدثین حضرت شاہ ابوالبرکات سید احمد قادری کے مرید و خلیفہ، دارالعلوم حزب الاحناف کے فارغ التحصیل، خود دار و قناعت پسند، علم و تقویٰ کے جامع اور امام و خطیب جامع مسجد حنفیہ رضویہ بوہڑ والی مین بازار گڑھی شاہو لاہور تھے۔ آپ کی پیدائش موضع پڑی درویزہ ضلع جہلم پنجاب میں 1340ھ کو ایک دینی گھرانے میں ہوئی اور لاہور میں 12ذوالقعدہ 1424ھ کو وصال فرمایا۔ تصانیف میں دو کتب رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا اور قرآنی دعائیں (مطبوعہ فیروز سنز لاہور) یادگار ہیں۔([12])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)



([1])واقعات کشمیر، تاریخ کشمیراعظمی،ص216، 217،لوح مزار

([2])تذکرۃ اولیائے کرام نقشبندیہ لواری شریف،ص12تا33

([3])تذکرہ اولیاء سندھ،93

([4])حیات صادق از مولاناتصورمدنی،ص 38، 39، 44، 97، 107

([5])الوافی بالوفيات،17/316-الدرر الکامنہ،2/303

([6])تذکرہ اکابر اہل سنت، ص 234

([7])تذکرہ شعرائے جماعتیہ، ص70تا74-تاریخ رفتگان، 2/39-معدن التواریخ، ص9

([8])ماہنامہ پاسبان الٰہ آباد، ہند، ذوالحجہ 1382ھ مطابق مئی 1963ء، ص4تا6

([9])حیات محدث الوری،ص 452تا456

([10])روشن دریچے، ص91تا104، انوارعلمائے اہل سنت سندھ، ص900تا902

([11])تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع چکوال،ص 117

([12])حیات محدث الوری،ص 441تا444


Share