بچوں کو نظر انداز مت کیجیے
والدین کے لیے اس بات کی سمجھ بوجھ بہت ضَروری ہے کہ کب بچّے کو نظر انداز کرنا ہے اور کب مناسب انداز میں تربیَت کرنی ہے۔بعض والدین سمجھتے ہیں بچّوں کو نظر انداز کرنا معمولی بات ہے، حالانکہ بعض مواقع پر بچّوں کی بات سننا،ان کی طرف متوجّہ ہونا اور ان کی ضَرورت کو سمجھنا بے حَد ضَروری ہوتا ہے، جبکہ کچھ حالات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں معمولی باتوں کو نظر انداز کرنا تربیَت کا حصّہ ہوتا ہے۔
اس مضمون میں والدین کی اس طرف توجّہ دلائی گئی ہے کہ بچّوں کو کب نظر انداز کریں اور کب نہ کریں؟ نظر انداز کرنے کے کیا نقصانات ہیں؟
نظر انداز کرنے کے انداز
بچّوں کو نظر انداز کرنا بعض اوقات معمولی بات لگتی ہے لیکن اس کے اَثرات گہرے ہوتے ہیں۔ چند نمایاں طریقے درج ذیل ہیں:
بچّوں کی بات نہ سننا:
بعض اوقات بچّے اپنے دل کی بات کہنا چاہتے ہیں لیکن والدین کسی غیر اَہَم کام میں مصروفیّت، یا تھکن کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں کہ ”بعد میں بات کرنا“ یا بچّے کی بات توجّہ سے نہیں سنتے جس کی وجہ سے بچہ اَہم باتیں بھی والدین سے شیئر کرنا پسند نہیں کرتا جو کبھی بھی کسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
موبائل یا ٹی وی دیکھنے میں مصروف رہنا:
بعض والدین کی عادت ہوتی ہے کہ جو وقت بچّوں کو دینا چاہیے وہ موبائل فون استِعمال کرنے یا ٹی وی دیکھنے میں گُزار دیتے ہیں۔اس طرح والدین کا بچّوں کو نظر انداز کرنا بچّوں کی تربیَت پر منفی اَثر ڈال سکتا ہے۔
خوف،خوشی یا غم کو اہمیت نہ دینا:
خوف،خوشی یا غم یہ بچّے کے احساسات ہیں۔والدین کا بچّوں کے احساسات کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہے۔ جب بچّہ خوف، خوشی یا غم کا اظہار کرتا ہے تو والدین کی طرف سے یہ کہہ کر بات ٹال دی جاتی ہے کہ ”یہ کوئی بات نہیں“یا ”ایسی باتوں پر رونا یا غمگین نہیں ہونا چاہیے“۔ والدین کا یہ رویہ انتہائی غلط ہے۔
اچّھائیوں کو نظر انداز کرنا:
کچھ والدین بچّوں کی صرف غلطیوں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی خوبیوں اور اچّھی عادات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔صرف غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، اچّھائیوں پر حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔
سُوالات کو بوجھ سمجھنا:
بچّوں کے سُوالات ان کے سیکھنے کی جستجو کو ظاہر کرتے ہیں لیکن بعض اوقات بڑوں کو یہ سوالات فُضول یا وقت کا ضیاع محسوس ہوتے ہیں۔ بعض والدین بچّوں کے سُوال پوچھنے پر ان کو جھڑک دیتے ہیں جس سے بچّے میں سیکھنے کی جستجو آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچّوں کے سُوالات کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
دوسروں سےتقابل کرنا:
بعض والدین بچّوں کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں جس سے حوصلہ شکنی اور نظر انداز کرنے کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
وقت پر رَہنمائی نہ دینا:
بعض والدین بچّوں کو یوں بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ وقت پر ان کو رَہنمائی نہیں دیتے، تربیَت کے اَہم مواقع پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
کب نظر انداز کریں؟
بعض معاملات ایسے بھی ہیں جن میں نظر انداز کرنا فائدہ مند بھی ہوتا ہے۔مثلاً
چھوٹی موٹی شرارتیں:
بچّوں سے کبھی کبھی ایسی معمولی شرارتیں ہو جاتی ہیں جس سے نہ کسی کو نقصان ہوتا ہے اور نہ کسی بڑے مسئلے کا سبب بنتی ہیں، جیسے ہلکا پھلکا مذاق، تھوڑا سا شور، یا کھیل میں ہلکی پھلکی گڑبڑ۔ ایسی صورت میں بار بار ڈانٹنے کے بجائے اگر والدین نظر انداز کریں تو اکثر بچّہ خود ہی رک جاتا ہے، کیونکہ اسے خاص توجّہ نہیں ملتی۔
توجّہ حاصل کرنے کی ضد:
بعض بچے صرف توجّہ حاصل کرنے کے لیے بلا وجہ رونا، چیخنا، ضد کرنا یا زمین پر لوٹ پوٹ ہونا شُروع کر دیتے ہیں۔ اگر والدین ہر بار ان کی ضد کو مان لیں تو بچہ یہ عادت بنا لیتا ہے۔ ایسے وقت میں مناسب انداز سے نظر انداز کرنا فائدہ دیتا ہے، تاکہ بچے کو سمجھ آئے کہ ضد کر کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
انجانے میں ہونے والی غلطی:
کبھی بچّے سے کوئی غلطی لاعلمی، ناسمجھی یا بھول چوک کی وجہ سے ہو جاتی ہے، جیسے چیز گر جانا، کوئی برتن گرکر ٹوٹ جانا، پانی گرا دینا یا کوئی کام ٹھیک نہ کر پانا۔ ایسی غلطیوں پر سختی کرنے کے بجائے اگر والدین نظر انداز کریں یا نرمی سے سمجھا دیں تو یہ تربیَت کا حصّہ بن سکتا ہے۔
اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ والدین کسی بات پر پہلے سمجھا چکے ہوتے ہیں، مگر بچہ پھر بھی کبھی کبھار وہی معمولی غلطی دُہرا دیتا ہے۔ اگر ہر بار سختی کی جائے تو بچہ ضدی بن سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں وقتی طور پر نظر انداز کرنا اور مناسب وقت پر دوبارہ یاد دہانی کروانا زیادہ مناسب ہوتاہے۔
بچّوں کی آپس کی معمولی نوک جھونک:
بہن بھائیوں کے درمیان ہلکی پھلکی تکرار کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر ہر چھوٹی بات پر والدین بیچ میں مداخلت کریں تو بچّے زیادہ ضدی اور جھگڑالو ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر جھگڑا معمولی ہو اور کسی کو تکلیف نہ پہنچ رہی ہو تو بہتر ہے کہ والدین نظر انداز کریں اور بعد میں مناسب موقع دیکھ کرسمجھادیں۔
غصّے میں کہی گئی باتیں:
بچے کبھی غصے میں آ کر ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جو نہیں کہنے چاہئیں۔ایسے وقت میں بہتر ہے کہ والدین نظر انداز کریں اور خاموشی اختِیار کریں، بچے کو پُرسُکون ہونے دیں، پھر بعد میں محبّت سے سمجھا دیں کہ غصّے میں بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے۔
نظر انداز کرنے کا نقصان
اگر والدین بچّوں کی بات نہ سنیں، ان کی خوشی غمی،دُکھ دَرد اور خوف جیسے احساسات کو اہمیّت نہ دیں، یا ان کی اچّھائیوں کو مسلسل نظر انداز کریں تو بچّے احساسِ محرومی اور اعتماد کی کمی کے علاوہ اور بھی کئی خرابیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔
محترم والدین! ہر معاملے میں نظر انداز کرنا یا بات بات پر سختی کرنا درست نہیں۔ سمجھ داری اور حکمت سے کام لیتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کب بچے کو نظر انداز کرنا ہے اور کب نہیں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی بہتر تربیت کے لیے صرف اور صرف مدنی چینل اور کڈز مدنی چینل کو عام کیجیے۔ کڈز مدنی چینل وزٹ کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کیجیے۔
اللہ پاک ہمیں اپنے بچّوں کی اچّھی تربیَت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Comments