اسلام کمزوروں کا محافظ
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری
اسلام ایسا کامل و اکمل دین ہے جو طاقتور کو کمزوروں کی ذمہ داری سونپتا اور کمزور کو محفوظ بناتا ہے۔ قراٰن و سنت بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرے کے طاقتور لوگ کمزور طبقوں کا خیال رکھیں۔ اسلام کی تعلیمات میں اللہ پاک نے وہ اعتدال تناسب اور توازن رکھا ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان، یا کسی بھی مخلوقِ خدا پر ظلم و زیادتی نہیں کر سکتا، اسلامی تعلیمات میں ایسا ہرگز نہیں ہے کہ طاقت ور اپنی طاقت، قوت، عہدے، منصب،روپے پیسے اور بینک بیلنس کے نشہ میں بدمست دندناتا پھرے،جسے چاہے قتل کر دے،جس سے چاہے اس کی جمع پونجی چھین لے،جس کو چاہے زدوکوب کرے،جس کی چاہے عزت تار تار کرے یہ سب اور ایسا بہت کچھ زمانۂ جاہلیت میں تو ضرور ہوتا تھا لیکن اسلام نے اس طرح کی ہر اخلاق باختہ حرکت پر نہ صرف پابندی عائد کی بلکہ ایسے لوگوں کی دنیوی حدود و تعزیر اور اخروی سزا کو بھی بیان فرمایا۔ اسلام میں کمزوروں کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ عام طور پر معاشرے کے پسے ہوئے افراد جن میں ملازم و خادم، ضعیف و ناتواں، پسماندہ، خواتین، معذور و یتیم، مسکین، بیمار، غریب اور دیگر کمزور طبقات کے لوگ شامل ہیں نہ صرف انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ اسلام میں ایسا باقاعدہ نظام موجود ہے جو کمزوروں کی حفاظت کرتا، ان کی عزت بڑھاتا، ان کی مدد کرنے کی ترغیب دِلاتااور ان کے ساتھ حسنِ سُلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اللہ کریم اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بار بار کمزوروں کے حقوق کی تاکید فرمائی ہے اور ان کے ساتھ ظلم کو سخت گناہ قرار دیا ہے۔ ایک سرسری نگاہ اسلام سے پہلے کے زمانے پر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ دور کمزوروں کے ساتھ ظلم، زیادتی اور مادّی طاقت کی بالادستی کا دور تھا۔غلاموں پر ظلم و ستم کی وہ داستانیں ملتی ہیں جنہیں پڑھ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کمزورو بے بس اور معذور افراد کو بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے معاشرے کے ایسے تمام پسے ہوئے افراد کو تحفظ فراہم کیا،ان کی خدمت کو عبادت،ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو ثواب اور ان کے کام آنے کو رزق اور فتح ملنے کا ذریعہ اور سبب قرار دیا تاکہ کوئی انہیں بوجھ نہ سمجھے بلکہ اپنی دنیا و آخرت کی خیرخواہی اور بھلائی جان کر ان کی خدمت کرے جیسا کہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ اِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ یعنی تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی تمہاری مدد کی جاتی اور تمہیں رِزق دیا جاتا ہے۔([1]) حضرت علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیثِ پاک کی وضاحت میں لکھتے ہیں: حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ اے لوگو!دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری جو مدد کی جاتی ہے اور مالِ غنیمت وغیرہ کی صورت میں تمہیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ ان غریبوں اور فقیروں کی برکت سے دیا جاتا ہے جو تمہارے درمیان موجود ہیں، لہٰذا تم اِن کی تعظیم کیا کرو اور اُن پر فخر و بڑائی کا اظہار نہ کیا کرو۔([2]) اسلام کی بے مثال تعلیمات پر ہماری جان قربان! کیسے پیارے انداز سے کمزوروں کی مدد کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی جا رہی ہے تاکہ کمزورو بے آسرا لوگوں کی مدد بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی آخرت کی بھلائی اور دنیا کی ترقی سمجھ کر کی جائے۔اسلام کمزوروں کا کیسا محافظ ہے اس بات کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے بھی لگایا جا سکتا ہے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْاُمَّةَ بِضَعِيفِهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَ اِخْلَاصِهِمْ یعنی اللہ کریم اِس امت کے کمزور اور بے بس لوگوں کی دعا، اِن کی نماز اور ان کے اِخلاص کی وجہ سے اِس اُمّت کی مدد فرماتا ہے۔([3]) یہ روایت بھی کمزوروں کی خیرخواہی کا درس دے رہی ہے،کمزور لوگوں کی دُعا ان کی نماز، ان کی عبادت کی اس لیے اہمیت ہے کہ ان کی عبادت اور دعا میں بہت زیادہ اخلاص اور خشوع ہوتا ہے، اس لیے کہ ان کے دل دنیا کی چمک دمک اور زینت سے خالی ہوتے ہیں، اور ان کے باطن ہر اس چیز سے پاک ہوتے ہیں جو انہیں اللہ کریم سے دور کرتی ہے۔ یوں انہوں نے اپنا ایک ہی مقصد بنایا ہوتا ہے (یعنی صرف اللہ کی رضا)۔ چنانچہ ان کے اعمال پاکیزہ اور ان کی دعائیں قبول ہو گئیں۔([4])اسلام اپنے ماننے والوں کو کمزوروں کی حفاظت، ان کی خدمت کی کیسی ترغیب دیتا ہے اس واقعہ سے خوب سمجھا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک زمانے میں دو بھائی تھے، ایک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر رہتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے نبیِّ اکرم نورِ مجسّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اپنے بھائی ( کے کام نہ کرنے) کی شکایت کی تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہ یعنی شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔([5])خیال رہے! حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ”لَعَلَّ یعنی شاید“ فرمانا ”شک“ کے لیے نہیں۔ کریموں کی ”شاید“ بھی یقینی بلکہ حَقُّ الْیَقِیْنِیْ ہوتی ہے۔([6])حضرت علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیثِ پاک کی وضاحت میں لکھتے ہیں: ان دو بھائیوں میں سے ایک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس علم و حکمت کی باتیں سیکھنے آتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا اور ان کا کھانا پینا ایک ساتھ تھا۔کام کرنے والے نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کی کہ نہ یہ خود کماتا ہے، نہ میرے ساتھ کام کرتا ہے۔آپ نے فرمایا: میرا گمان ہے کہ تیری کمائی سے اسے رزق نہیں مل رہا بلکہ تجھے اس کی وجہ سے رزق مل رہا ہے۔ لہٰذاتو اس پر اپنی کمائی کا احسان مت جتا۔([7]) حضرت علاّمہ محمد بن عَلَّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے بھائی کے طلب معاش نہ کرنے اور اس کے اکیلے کمانے پر اسے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اپنے بھائی کی وجہ سے تمہارا طلبِ معاش کے لیے نکلنا تمہارے رزق کی آسانی کا سبب ہو کیونکہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ پاک اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔([8]) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر واضح دلیل ہے کہ فقراء بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔([9]) حضرت ابودرداء عویمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم مجھے کمزور اور بےکس لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔([10]) اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ اے لوگو!تم فقراء کے ساتھ احسان اور مظلوموں کی داد رسی کر کے میری رضاتلاش کرو کیونکہ تم میں کمزور لوگوں کے موجود ہونے کی برکت سے تمہیں حسی اور معنوی رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کی جاتی ہے۔([11]) الغرض اسلام وہ دینِ کامل ہے کہ جو طاقت کو ظلم کا ذریعہ نہیں بلکہ اسے خدائی امانت بناتا ہے۔اسلام کمزوری کو حقارت نہیں بلکہ حفاظت کا مستحق قرار دیتا ہے۔ آج اگر ہم اجتماعی طور پر اسلامی تعلیمات کی روح کو تروتازہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کمزوروں کی ڈھال، یتیموں کا سہارا، محتاجوں کی امید اور مظلوموں کا داد رس بننا ہوگا۔ یاد رکھیے! جس معاشرے میں کمزور محفوظ ہوں، وہ معاشرہ اللہ پاک کی نصرت، برکت اور رحمت کا مستحق بنتا ہے۔ آئیے! عہد کریں کہ اپنی طاقت، عہدہ، منصب، وسائل اور اثر و رسوخ کو کمزوروں کی مدد، ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے استعمال کریں گے۔ اس لئے کہ معاشرے کا امن کمزوروں کا محافظ بننے میں پوشیدہ ہے۔
Comments