تکبّر کی قراٰنی مذمّت
شاہد رضا عطاری
(درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ عثمان غنی کراچی )
قراٰنِ مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وہ جامِع کتاب ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کی مکمل رَہنمائی کرتی ہے۔ قراٰنِ مجید انسان کو اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے اور بُرے اخلاق سے بچنے کی واضح تعلیم دیتا ہے۔ اس میں جہاں اعلیٰ اخلاق مثلاً تواضع، اخلاص، صبر اور حلم کی ترغیب دی گئی ہے، وہیں اُن اخلاقی بُرائیوں سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے جو انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔ انہی مہلک باطِنی اَمْراض میں ایک نہایت خطرناک مرض تکبّر ہے۔
تکبّر سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بَرتَر سمجھے۔ (مفردات الفاظ القرآن،کبر، ص697)
(1)قراٰنِ کریم میں متکبّرین کی سخت مذمّت کی گئی اور انہیں اللہ پاک کی ناراضی کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)
ترجَمۂ کنز الایمان: بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ (پ14، النحل:23)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2)قراٰنِ مجید نے واضح فرمایا کہ تکبّر انسان کو ہدایت سے مَحروم کر دیتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-
ترجَمۂ کنزالایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔
(پ9، الاعراف: 146)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(3)تکبّر کی سب سے پہلی اور عبرتناک مثال ابلیس کی ہے، جس نے محض غرور اور بڑائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور ہمیشہ کے لیے مَردود ہو گیا۔ قراٰنِ کریم میں اس واقعے کو یوں بیان کیا گیا ہے:
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1، البقرۃ: 34)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح قراٰنِ مجید میں قومِ عاد، قومِ ثمود اور فرعون جیسے سرکش حکمرانوں کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے تکبّر اور غرور کی بنیاد پر اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور بالآخِر عذابِ الٰہی کا شکار ہوئے۔
(4)قراٰنِ کریم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ متکبّر لوگ قِیامت کے دن ذلّت و رسوائی کا سامنا کریں گے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ(۷۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: فرمایا جائے گا داخل ہو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبّروں کا۔ (پ24، الزمر: 72)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(5)الغرض تکبّر ایک ایسا گُناہ ہے جو انسان کے ایمان، اخلاق اور انجام سب کو تباہ کر دیتا ہے۔ جبکہ اس کے بَرعکس قراٰنِ مجید عاجزی اور تواضع کو محبوب صِفت قرار دیتا ہے۔ اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا
ترجَمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ (پ19، الفرقان: 63)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
لہٰذا آدمی تکبّر جیسی مہلک بیماری سے خود کو بچائے اور عاجزی و انکساری کو اپنا شعار بنائے، کیونکہ عزّت، کامیابی اور نَجات تکبّر میں نہیں بلکہ عاجزی، تواضع اور تقویٰ میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا ایک مؤمن کے لیے ضَروری ہے کہ وہ عاجزی و انکساری کو اپنائے۔
مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ ہمارے اَذہان میں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تکبّر انسان کو ہلاکت، گمراہی اور اللہ تعالیٰ کی رَحمت سے دوری کی طرف لے جاتا ہے۔
خَلّاقِ عالَم کی بارگاہ میں دُعاگو ہوں اللہ کریم ہمیں زندَگی کے بقیہ ایّام تکبّر و تمام برے اخلاق والے اعمال سے بچنے کی توفیقِ رفیق مرحمت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Comments