اخلاص کی اہمیت حدیث کی روشنی میں


اخلاص کی اہمیت حدیث کی روشنی میں


انسانی اعمال کی اصل روح اخلاص ہے۔ اخلاص کے بغیر نہ عبادت میں جان باقی رہتی ہے اور نہ ہی عمل میں قبولیت کی ضمانت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ دکھاوے، شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ یہی وہ صفت ہے جو معمولی عمل کو عظیم بنا دیتی ہے اور بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو بے وزن ہو جاتا ہے دینِ اسلام میں اخلاص کو بنیاد قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے ظاہری شکل و صورت کو نہیں ، اسی لیے ایک مومن کی کامیابی کا راز اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہے اور یہی اخلاص انسان کو اللہ کے قریب اور اس کے اعمال کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بناتا ہے، اخلاص کی اہمیت و فوائد کے متعلق  5 احادیث پڑھیے:

(1) دین میں مخلص ہو جاؤ:

 حضرت معاذ بن جبل  رضی اللہ عنہ  نے یمن کی طرف جاتے وقت عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے کچھ نصیحت فرمائیے تو نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(دیکھیے:مستدرک، 5/435، حدیث: 7914)

(2) اخلاص کے سبب امت کی مدد:

حضرت مصعب بن سعد  رضی اللہ عنہ ما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابۂ کرام  علیہمُ الرضوان  پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔ (نسائی، ص518، حدیث: 3175)

(3) مخلصین کی وجہ سے آزمائش دور ہوتی ہے:

حضرت ثوبان  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیںانہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔(جنت میں لے جانے والے اعمال،ص 708)

 (4) اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال مقبول:

نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہٰذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہے۔ اے لوگو! اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتا ہے۔ (مجمع الزوائد، 10/379، حدیث: 17653)

(5) دنیا ملعون ہے:

حضرت ابو درداء  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے اللہ پاک کی رضا چاہی جائے۔( جنت میں لے جانے والے اعمال،ص 708)

پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے۔ دکھاوے ،ریا اور شہرت کی خواہش سے اپنے دل کو پاک کرے کیونکہ اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر اعمال کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت، خالص عمل اور دائمی اخلاص نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share