درزی نے کپڑے خراب سیے تو کیا حکم ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نےدرزی کو سلائی کے لیے کپڑےدیئے اور جو ناپ درزی کو دیا گیا تھا اس نےاس ناپ سے چھوٹے سی دیئے۔ اب وہ کپڑے اس شخص کو آ بھی نہیں رہے۔ تو میری رہنمائی فرمائیں کہ اس شخص کا درزی سے اپنے کپڑے کا تاوان لینا جائز ہے ؟ نیز اس صورت میں اس شخص پر درزی کو اجرت دینا لازم ہوگی؟اگر ہوگی تو کتنی؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: اس طرح کپڑا سینا کہ وہ ناپ سے اتنا چھوٹا ہو کہ آہی نہ رہا ہو، درزیوں کے نزدیک بہت زیادہ فرق شمار ہوتا ہے اس صورت میں شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ درزی سے اپنے اس بغیر سلےکپڑے کا تاوان لےسکتا ہے اور اس صورت میں اجرت لازم نہیں ہوگی۔ یہ بھی اختیار ہے کہ جیسا کپڑا سل چکا ہے وہ لےلے اور طے شدہ اجرت کے بجائے وہ اجرت دے جو اجرت ایسا کپڑا سینے پر دی جاتی ہے۔
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تفاوت ہو یعنی اس کام کے کرنے والے یہ کہیں کہ یہ فرق ہے تو اختیار ہے کہ کپڑے کی قیمت لے یا وہی سلا ہوا کپڑا اور اس صورت میں سلائی وہ دے جو خراب سلے ہوئے کی ہونی چاہیے نہ وہ جو باہم ٹھہر چکی اور تھوڑا فرق ہو تو تاوان لینا جائز نہیں ہے۔“ (فتاویٰ امجدیہ،3/269)
آپ رحمہ اللہ بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں: ”درزی سے کہہ دیا کہ اتنالمبا اور اتنا چوڑا ہوگا اور اتنی آستین ہوگی مگر سی کرلایا تو اُس سے کم ہے جتنا بتایا اگرایک آد ھ ا ونگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اُسے تاوان دینا پڑے گا۔“(بہار شریعت،3/133)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
پکنک سے بچ جانے والی رقم کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے دوستوں سے برابر برابر پیسے جمع کیے اور خود بھی پیسے ملائے اور ان پیسوں سے سب کے لیے فارم ہاؤس بک کروایا، سواری اور کھانے وغیرہ کا ایک جیسا انتظام کیا لیکن آخر میں کچھ پیسے بچ گئے۔ سوال میرا یہ ہے کہ کیا یہ بچے ہوئے پیسے میں خود رکھ سکتا ہوں یا اپنے دوستوں کو واپس کرنے ہوں گے؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں ان بچے ہوئے پیسوں میں سے جو باقی دوستوں کے پیسے ہیں وہ آپ کے لیے خود رکھنا جائز نہیں بلکہ آپ کے پاس وہ پیسے امانت ہیں،چونکہ تمام دوستوں نے برابر برابر پیسے دیئے تھے تو آپ پر لازم ہے کہ ان کے بچے ہوئے پیسے انہیں برابر برابر لوٹا دیں کیونکہ آپ اپنے دوستوں کی طرف سے فارم ہاؤس بک کروانے،کھانے اور سواری وغیرہ کا انتظام کرنے کے وکیل تھے اور وکیل ان چیزوں کے جتنے پیسے ادا کرے گا اتنے ہی مؤکل (یعنی وکیل بنانے والے ) کے حق میں نافذ ہوں گے،اور وکیل چونکہ امین ہوتا ہے تو مؤکل کے دیئے ہوئے پیسوں میں سے جو بچ جائے وہ بھی وکیل کے پاس امانت ہوتے ہیں جسے وہ خود نہیں رکھ سکتا بلکہ مؤکل کو واپس لوٹانا لازم ہوتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
بس کا کرایہ ادا کرنا بھول گئے تو کیا حکم ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کراچی کی لوکل بس میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کیا، دورانِ سفر کنڈیکٹر نے مجھ سے کرایہ طلب نہیں کیا اور میں بھی اسے کرایہ دینا بھول گیا، منزل پر اترنے کے بعد یاد آیا۔ اب اس بس کو ڈھونڈنا بھی مشکل ہے۔ اب میں کرائے کی رقم کا کیا کروں؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ پر لازم ہے کہ اس بس کو تلاش کرکے یہ رقم ان تک پہنچائیں، فی زمانہ یہ کام زیادہ مشکل بھی نہیں ہے، عموماً روٹ کی لوکل بسیں روزانہ ملتے جلتے ٹائم پر مخصوص مقامات سے گزرتی ہیں لہٰذا ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کرائے کی رقم اصل مالک تک پہنچ جائے، پھر اگر کسی طرح بھی مالک کے ملنے کی امید باقی نہ رہے تو کرائے کی رقم اصل مالک کی طرف سے صدقہ کردیں۔ ہاں صدقہ کرنے کے بعد اگر کسی طرح وہ بس مل جائے اوربس کا اصل مالک صدقہ کرنے پر راضی نہ ہو ا تو اب آپ کو وہ رقم اسے ادا کرنی ہوگی۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃُ اللہِ علیہ سے ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے گاڑی میں سفر کیا اور کسی وجہ سے کرایہ ادا نہ کرسکا تو اب اسے کیا کرنا چاہیے؟ جواباً ارشاد فرمایا: ”اسٹیشن پرجانے والی گاڑیاں اگرکوئی مانع قوی نہ ہوتو ہرگاڑی کہ آمدورفت پرضرور آتی جاتی ہیں۔ اگرزیداسٹیشن پر تلاش کرتا، ملناآسان تھا، اب بھی خودیابذریعہ کسی متدیّن معتمد کے تلاش کرائے،اگرملے دے دئیے جائیں، ورنہ جب یاس و نااُمیدی ہوجائے اس کی طرف سے تصدّق کردے، اگر پھر كبھی وہ ملے اور اس تصدّق پرراضی نہ ہو،تو اسے اپنے پاس سے دے۔“ (فتاویٰ رضویہ،25/55)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
چیز کی قیمت پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے صدقہ کرنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست کی اناج کی دوکان ہے۔ میں نے اس سے دوہزار روپے کا سامان خریداتو اس نے مجھ سے سامان کی قیمت نہیں لی اور کہا کہ یہ پیسے میرے فلاں دوست کو نفلی صدقے کے طور پر دے دینا۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم میں اپنے اس دوست کی طرف سے دوسرے دوست کو دے سکتا ہوں،یا صدقہ کرنے سے پہلے اس رقم پر دوکاندار کا قبضہ ہونا ضروری ہے ؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ یہ دو ہزار روپے دوکاندار کے قبضے میں دیے بغیر بھی دوسرے دوست کو صدقے کے طور پر دے سکتے ہیں۔ کیونکہ قواعدِ شرعیہ کی روشنی میں فروخت کنندہ اگر ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے وہ رقم صدقہ کرناچاہے تو کرسکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرّحمہ لکھتے ہیں: ”ثمن میں قبضہ کرنے سے پہلے تصرف جائز ہے اُس کو بیع و ہبہ و اجارہ وصدقہ و وصیت سب کچھ کرسکتے ہیں۔ “ (بہار شریعت،2/749)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی

Comments