بیٹیوں کو مسائل کا حل تلاش کرنا سکھائیں


بیٹیوں کو مسائل کا حل تلاش کرنا سکھائیں

”بیٹی یہ لفظ سنتے ہی دل میں محبّت، نرمی اور سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ بیٹی وہ نازک پھول ہے جو اپنے وجود سے گھر کو جنّت کا رنگ دیتی ہے۔ مگر یاد رکھیے! یہ نازک پھول صرف حفاظت کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ اسے زندَگی کی تیز و تند آندھی و طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے حوصلے اور دانائی کی ضَرورت بھی ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں زندَگی نت نئے امتحانات سے بھری ہوئی ہے، ہم اپنی بیٹیوں کو صرف روایتی تعلیم تک محدود نہ رکھیں بلکہ اُنہیں مسائل کا حل تلاش کرنے کا حوصلہ اور شعور بھی دیں۔ ہماری بیٹیوں کو سکھانے کی اَہَم چیز سوچنا، سمجھنا اور اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی ہے کیونکہ وہ بیٹی جو مشکل وقت میں ہمّت نہ ہارے، جو حالات کے طوفان میں بھی اپنی راہ خود تلاش کر لے، دراصل وہی بیٹی حقیقی معنوں میں کامیاب اور باوقار بنتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو فیصلہ کرنے کا حوصلہ دیں۔ جب کوئی چھوٹا مسئلہ درپیش ہو، چاہے وہ گھر کی کوئی ذمّہ داری ہو یا تعلیم کا معاملہ، اُن سے رائے لیں، اُنہیں غوروفکر کا موقع دیں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی سوچ کی قدر ہے، ان کی رائے اَہَم ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے مواقع آگے چل کر اُن کے اندر اعتِماد، بصیرت اور خود اِنحصاری پیدا کرتے ہیں۔ بیٹی کو زندگی کے اُتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا سکھانا دراصل اُس کے اندر یہ یقین بٹھانا ہے کہ ”میں کمزور نہیں، میں اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکتی ہوں۔ “ جب ہم اپنی بیٹیوں کو صرف سہارا نہیں بلکہ حوصلہ دینا سیکھ جاتے ہیں، تب وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے چراغ روشن کرتی ہیں۔ وہ ماں بن کر اولاد کی رَہنمائی کرتی ہیں، استاد بن کر نسلوں کو روشنی دیتی ہیں، ساس بن کر خاندان میں محبّت، حکمت اور فہم و فراست سے خوشی، اتحاد اور استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں، نانی دادی، پھوپھی خالہ بن کر وہ نرمی، محبّت اور عِلم سے بچّوں کی شخصیت سنوارتی ہیں، بیوی بن کر اپنے ہمسفر کے سکھ دُکھ کی ساتھی بنتی ہیں۔  آیئے! ہم اپنی بیٹیوں کو کمزور نہیں، مضبوط بنائیں۔ انہیں شکایت کرنا نہیں، سوچنا اور حل تلاش کرنا سکھائیں۔ بیٹیوں کی تربیَت میں سب سے اَہم پہلو یہ ہے کہ انہیں نہ صرف دینی و دنیاوی تعلیم دی جائے بلکہ زندگی کے مسائل کو پہچاننے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیّت بھی سکھائی جائے۔ بیٹیوں کو مسائل کا حل قراٰن کی روشنی میں سکھائیں۔ یہ عنوان تین بنیادی اسلامی اُصولوں کو یکجا کرتا ہے، (1)صَبْر: مشکلات میں ثابت قدمی۔ (2)شُعور: علم و فہم کے ذریعے مسئلے کو پہچاننا۔ (3)ہمت و حوصلہ : حل کی طرف عملی قدم اٹھانا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹیوں کو مسائل کا حل تلاش کرنا سکھانا ایک اہم تربیتی فریضہ ہے، جو ان کی خود اعتمادی، فہم اور روحانی ترقّی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ مضمون اسی تربیتی اُصول کو اُجاگر کرتا ہے۔

قراٰن کی تعلیمات:

 قراٰنِ مجید میں حضرت مریم، حضرت آسیہ  رضی اللہ عنہما  اور دیگر خواتین کے واقعات  ہمیں سکھاتے ہیں کہ عورت بھی مشکلات میں صبر، حکمت اور تدبّر سے کام لے سکتی ہے۔ حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہما  اور دیگر مثالی خواتین کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں۔ بیٹیوں کو اسلام کی بزرگ خواتین کے واقعات سے سبق سکھایا جائے کہ وہ اپنے مسائل کو اللہ پر توکّل کے ساتھ حل کریں۔

تعلیماتِ نبوی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم:

 رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا کو نہ صرف محبّت دی بلکہ عملی زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی تربیَت بھی دی۔ ان کی زندگی سادگی، صبر اور فہم کی مثال ہے۔

دُعا اور مشورہ:

 اسلام میں دُعا کو مسئلے کے حل کا اَہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ بیٹیوں کو سکھائیں کہ وہ ہر مشکل میں اللہ سے رُجوع کریں، نَمازوں کی پابندی کسی حال میں نہ چھوڑیں  نیز نوافل کی کثرت بھی شروع کردیں  اور اہلِ علم و تجربہ کار سے مشورہ لینا بھی سیکھیں۔

تربیتی طریقے:

 سُوال پوچھنے پر حوصلہ افزائی کریں۔ بیٹیوں کو سکھائیں کہ وہ  مناسب انداز میں سوال کریں، حقیقت کو جانیں لیکن ایسی باتیں کہ جن کا جاننا شرعاً ضروری ہو اور زندگی کی ضروریات کا حصہ ہو،  ایسی باتیں جن کی جستجو میں پڑنے سے گھر کا سکون خراب ہو ، دور رہیں،  بیٹیوں کو سکھائیں کہ شوہر  سے ہر بات کا سوال کرتے رہنا اور بار بار کچھ نا کچھ کریدتے رہنا بھی درست نہیں۔

عملی مشقیں دیں:

روزمرّہ مسائل جیسے سہیلیوں کے ساتھ اختلاف یا تعلیمی دباؤ پر بات کریں اور حل تلاش کرنے کی مشق کروائیں۔

اخلاقی تربیَت:

سچّائی، عدل اور صبر جیسے اسلامی اخلاقی اصولوں کو مسائل کے حل میں شامل کریں۔ یہ تربیَت نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں مددگار ہوگی بلکہ وہ معاشرے میں بھی مثبت کردار اَدا کرے گی۔اب چاہے دینی مسائل ہوں یا دنیاوی مسائل ہوں ہر پہلو سے اپنی بیٹیوں کو تربیَت دیں مثلاً کبھی زندگی کے اُتار چڑھاؤ میں اسے کسی قدرتی آفت نے آن گھیرا تو اُسے ڈپریشن میں جانے کے بجائے صبر و ہمّت سے کام لینا آتا ہو، پیسے کی تنگی کا سامنا ہو تو اسے حلال ذرائع سے پیسے کمانا، اِسراف سے بچنا،کفایت شعاری کرنا آتا ہو بجائے اس کے کہ بلاوجہ سُوال کرکے دوسروں کی محتاج بنے۔ گھریلو تنازعات کا سامنا ہو تو اُسےاپنی میٹھی زبان، نرم الفاظ اور حسنِ اخلاق سے سخت دل کو بھی موم کرنا آتا ہو۔ گھر میں اچانک مہمان آجائیں تو کیا کیا بنانا ہے کتنے افراد کا کھانا بنانا ہے یہ سب آتا ہو، گھر میں ایمرجنسی ہوجائے کوئی حادثہ پیش آجائے تو گھبرانے کے بجائے اُسے فرسٹ ایڈ(ابتدائی طبّی امداد) کرنا آتا ہو وغیرہ۔ بیٹی اگر زندگی میں کسی مشکل یا چیلنج سے دوچار ہو جائے تو اُس کے لیے سب سے قیمتی اَثاثہ اُس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیّت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ہر بات میں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود سوچنے، تجزیہ کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی تربیَت دیں۔ انہیں یہ سمجھائیں کہ مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے ٹھہر کر مسئلہ دیکھیں، اس کے اسباب جانیں اور ممکنہ حل تلاش کریں۔  گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی بیٹیوں کو شریک کریں۔ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے تو فوراً خود حل کرنے کے بجائے ان سے مشورہ لیں، اُن کی رائے کو اہمیّت دیں۔ اس طرح ان کے اندر اعتماد پیدا ہوگا کہ وہ کسی بھی صورتحال کا مقابلہ خود کر سکتی ہیں۔ یہ تربیَت نہ صرف ان کی گھریلو زندگی میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ مستقبل میں جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گی، چاہے وہ ایک ماں، اُستانی، ڈاکٹر، یا کوئی بھی پیشہ اختیار کریں اُن کے اندر فیصلہ کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیّت اور جُرأت ہوگی۔ اپنی اولاد کی بہترین تربیَت کے لیے ہر ہفتے نَمازِ عشا کے بعد ہونے والے مدنی مذاکرے کو مدنی چینل پر دیکھا کریں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Share

Articles

Comments


Security Code