اسلام میں پرائیوسی کا تصور


اسلام میں پرائیویسی کا تصور

اسلام دینِ فطرت ہے اسی لیے اس کی تعلیمات بھی انسانی فطرت سے متصادِم نہیں بلکہ فطرت کے عین موافِق ہیں۔ اللہ پاک نے اسلامی تعلیمات میں ایسی ہمہ گیر جامعیّت، وُسعت، گہرائی اور گِیرائی رکھی ہے کہ بڑی سے بڑی ضَرورت اور چھوٹی سے چھوٹی حاجت کی رَہنمائی اس میں موجود ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جہاں بہت سے حقوق عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک حق ’’مسلمان کی ذاتی زندگی کے معاملات کی راز داری ‘‘بھی شامل ہے۔ہمارے معاشرے میں اس کے لیے رازداری، خلوت، پرائیویسی،پرسنل لائف میں عدمِ مداخلت،پرائیویٹ لائف کے معاملات کی پاسداری جیسے مختلف الفاظ رائج ہیں۔کہا جاتا ہے: میری نجی زندگی میں مداخلت نہ کریں۔ (Don't interfere in my privacy) یاد رہے کہ اسلام میں پرائیویسی کی بھی حدود و قیود مقرّر ہیں۔ اسلام نے گھروں میں آنے جانے کے آداب سکھائے، انسان کی پرائیویسی کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ اسے احتِرام بھی دیا۔ اسلام فرد کی ذاتی زندگی(Personal Life)، اس کے گھر، جسم، گفتگو،تحریر اور اس کے رازسب کی حفاظت کو شَرْعی حق قرار دیتا ہے۔فطرت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بعض پہلو صرف اپنے تک محدود رکھے۔ بِلامقصد مسلسل نگرانی، ٹوہ لگانا یا ذاتی معاملات میں مداخلت ذہنی دباؤ، بےچینی اور اضطراب کو جنم دیتی ہے۔ کسی کی پرائیویسی کا پاس و لحاظ اور احتِرام باہمی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ خاندان، ازدواجی زندگی اور دوستیوں میں رازداری کا لحاظ تعلّقات کو مضبوط بناتا ہے جبکہ پرائیویسی کی خلاف ورزی بداعتمادی اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔پرائیویسی کا پاس و لحاظ رکھنے کے بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنا، کسی کی ذاتی زندگی میں اس کی اجازت کے بغیر جھانکنا یا بلاوجہ تجسّس میں پڑنا معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔یہاں انسانی زندگی میں پرائیویسی کی ضَرورت و اہمیّت کے چند پہلو ذکر کیے گئے ہیں۔

گھریلو پرائیویسی

انسان کا گھر اس کی تنہائی،رازداری اور خلوت کا خاص مقام ہے۔گھروں کے باہر لگے دروازے اور دروازوں پر پڑے پردے پکار پکار کر پرائیویسی کے احترام اور اس کے پاس و لحاظ کا درس دے رہے ہوتے ہیں۔کسی کے گھر میں بِلاجھجک،بغیر توقّف،بلااِجازت داخل ہونا اس کی پرائیویسی کو ڈسٹرب کرنا اور اس کی تنہائی میں مخل ہونا ہے۔اسلام اس طرح کے رویّے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں ایک دوسرے کے گھر بغیر اجازت داخل ہوجانے  کا رواج تھا۔ اسلام نے معاشرے کو بےحیائی اور بدگمانیوں سے پاک رکھنے کے لیے ایسے اُصول عطا فرمائے کہ اگر مسلمان ان کی پاسداری کریں تو مسلم معاشرہ امن، سُکون، سلامتی، حسنِ اخلاق، باہمی احتِرام والا اور بدگمانیوں سے پاک معاشرہ بن سکتا ہے۔حضرت عدی بن ثابت  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: انصار کی ایک عورت نے ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میں اپنے گھر میں ایسی حالت میں بھی ہوتی ہوں کہ میں نہیں چاہتی کہ اس حالت میں مجھے کوئی دیکھے، چاہے وہ میرا والد یا میرا بیٹا ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی میرا کوئی مرد رشتہ دار اُس حال میں میرے گھر میں آجاتا ہے تو میں کیا کروں؟ ا س پر اللہ کریم نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۲۷)

ترجَمۂ  کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سِوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوں پر سلام نہ کرلو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت مان لو۔ ([1])

قربان جائیں اسلام کی تعلیمات پر! جب کسی کے گھر جائیں تو داخل ہونے سے قبل رہنے والوں سے اجازت طلب کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے تاکہ گھر والوں کی عزّت، ناموس اور ان کی پرائیویسی کا پاس و لحاظ رکھا جائے۔

اگر گھر میں صرف والدہ اور بہن ہو تو؟

یہ تو دوسروں کے گھروں میں داخلے کی بات تھی اپنا ایسا گھر کہ جس میں والدہ اور بہن رہتی ہوں اس میں بھی بغیراجازت لیے اندر جانے کی اجازت نہیں جیسا کہ حضرت عبدُاللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:عَلَيْكُمْ اَنْ تَسْتَاذِنُوا عَلٰى اُمَّهَاتِكُمْ وَاَخَوَاتِكُمْ یعنی تم پر لازم ہے کہ تم اپنی ماؤں اور اپنی بہنوں کے پاس (داخل ہونے سے پہلے) اجازت لیا کرو۔([2]) اسلام ہماری عزّتوں کا کیسا محافظ اور ہماری پرائیویسی کا کیسا پاسبان ہے کہ اگر گھر میں صرف اکیلی والدہ موجود ہو پھر بھی بغیر اجازت لیے اندر داخل ہونا منع ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی حضرت عبدُاللہ  رضی اللہ عنہ  کے پاس آیا اور کہا: کیا میں اپنی ماں سے بھی اجازت لے کر اس کے گھر جاؤں؟ تو سیّدنا عبد اللہ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا : مَا عَلٰى كُلِّ اَحْيَانِهَا تُحِبُّ اَنْ تَرَاهَا یعنی تم ہر وقت (اور ہر حالت میں) اسے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔([3])

والدین کی پرائیویسی کا بھی خیال کیجیے

اولاد کو چاہیے اپنے والدین کی رازداری،ان کی خلوت و تنہائی اور ان کی پرائیویسی کا بھی خیال اور لحاظ رکھیں۔اس لیے کہ انسان اپنے گھر میں ہر وقت ایک جیسی حالت میں نہیں رہتا،والدین بھی چاہتے ہیں کہ ان کی بعض باتیں ان کی اولاد سے بھی پوشیدہ رہیں، اس لیے ضَروری ہے کہ اولاد والدین کی پرائیویسی کا خیال کرے۔ ایک روایت میں ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بہت صاف،واضح اور دوٹوک الفاظ میں اجازت طلب کرنے کی وجہ بھی ارشاد فرما دی جیسا کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے پوچھا: کیا میں اپنی ماں سے داخلہ کی اجازت لوں؟فرمایا: ہاں،وہ بولا کہ میں گھر میں اس کے ساتھ رہتا ہوں، تو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اُس سے داخلہ کی اجازت لو۔تو وہ آدمی بولا : میں تو اس کا خدمت گار ہوں۔(یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے، پھر اجازت کی کیا ضَرورت ہے؟) تو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اجازتِ داخلہ لو، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے بے لباس دیکھو۔ وہ بولا: نہیں،تو فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو۔([4])سبحٰنَ اللہ! کیسی پیاری وجہ بیان ہوئی کہ چونکہ ماں کا ستر دیکھنا حرام ہے اور بے اجازت داخل ہونے میں اس کا اندیشہ ہے لہٰذا اطلاع کرکے آنا چاہیے،ہاں اگر گھر میں صرف بیوی ہو تو اطلاع کی ضَرورت نہیں کہ بیوی سے حجاب نہیں۔([5])

بہن بھائیوں کی پرائیویسی کا بھی لحاظ کیجیے

حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ آدمی کو اپنی اولاد اور ماں سے(کمرے یا گھر میں داخلے کی) اجازت لینی چاہیے اگرچہ ماں بوڑھی ہوگئی ہو اور اپنے بھائی، بہن اور باپ سے بھی (داخلے کی)اجازت طلب کرے۔([6])حضرت سیّدنا عطاء  رحمۃُ اللہ علیہ  سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سیّدنا ابنِ عبّاس  رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا میں اپنی بہن کے پاس بھی اجازت لے کر جاؤں؟تو انہوں نے فرمایا:ہاں، میں نے دوبارہ پوچھتے ہوئے کہا:’’میری دو بہنیں میری سرپرستی میں ہیں،میں ان کی کفالت کرتا ہوں،اوران پر خرچ کرتا ہوں،کیاپھر بھی ان سے اجازت لے کر جاؤں؟ فرمایا: ’’ہاں،کیا تم پسند کرتے ہو کہ انہیں بے لباس دیکھو؟‘‘ پھر یہ آیت تلاوت کی:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍؕ-مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ۫ؕ-ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْؕ

ترجَمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!تمہارے غلام اور تم میں سے جو بالغ عمر کو نہیں پہنچے، انہیں چاہیے کہ تین اوقات میں، فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اُتار رکھتے ہو اور نمازِ عشاء کے بعد (گھر میں داخلے سے پہلے) تم سے اجازت لیں۔ یہ تین اوقات تمہاری شرم کے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ:”انہیں ان تین پردے کے اوقات میں اجازت لینے کا حکم ہے۔“ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-

ترجَمۂ کنزُالعِرفان:اور جب تم میں سے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بھی (گھر میں داخل ہونے سے پہلے) اسی طرح اجازت مانگیں جیسے ان سے پہلے (بالغ ہونے) والوں نے اجازت مانگی۔حضرت ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس لیے اجازت لینا واجب ہے۔ابن جریج نے یہ اِضافہ نقل کیا: تمام لوگوں کے لیے (اجازت لینا واجب ہے)۔ ([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

داخلے سے پہلے اہلِ خانہ کو متوجّہ کرنے کا انداز

اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سبحٰن اللہ یا اَلحمدُ لِلّٰہ یا اللہ اکبر کہے، یا کَھنکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہوجائے کہ کوئی آنا چاہتا ہے (اور یہ سب کام اجازت لینے کے طور پر ہوں) یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے۔([8])

جھانکنا بھی منع ہے

اسلام اپنے ماننے والوں کو جہاں بغیر اجازت داخلے کی اجازت نہیں دیتا وہیں اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ کوئی کسی کے گھر میں دیوار کے اوپر،دروازے کی دراڑ یا کسی سوراخ سے اندر جھانکے اس لیے کہ ہر عقلمند جانتا ہے کہ انسان اپنے گھر میں کبھی بے تکلّفی کی حالت میں بھی ہوتا ہے، پردے کا اتنا خاص اہتمام بھی نہیں کرتا جتنا وہ جلوت میں کرتا ہے، لہٰذا اگر کوئی اچانک گھر میں جھانکے یاداخل ہی ہو جائے تو گھر والوں کے سَتْر پر نظر پڑنےاور بے پردگی ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اسی لیے کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیرجان بوجھ کر جھانکنا شرعاً ممنوع ہے جیسا کہ حضرت سیدنا سہل بن سعد  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دروازے کے سوراخ سے آپ کے گھر میں جھانکا۔اُس وقت نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ہاتھ میں لکڑی کی ایک کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ اپنا سَرمبارک کُھجا رہے تھے،نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے جب اسے دیکھا تو فرمایا:اگر مجھے علم ہوتا کہ تم مجھے باہر سے جھانک رہے ہو تو میں یہی کنگھی تمہاری آنکھ میں مار دیتا۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اجازت کا مقصد ہی یہ ہے کہ نظر نہ پڑے۔([9])کسی کے گھر میں جھانکنا اس کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونے کی طرح ہے۔ جیسے وہ ممنوع ہے،ویسے یہ بھی ممنوع ہے۔ یاد رہے! یہ حدیث ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہےاس کایہ مطلب نہیں کہ حقیقت میں کسی کی آنکھ پھوڑدی جائے یا قتل کردیا جائے کیونکہ بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونا کوئی ایسا عمل نہیں جس پر قتل یا آنکھ ضائع کی جائے۔([10])

یہ کام بھی نہ کریں

اسلام تو اپنے ماننے والوں کو اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ اجازت لینے کے لیے دروازے کے باہَر بھی کس طرف کھڑا ہونا ہے اور کہاں کھڑا نہیں ہونا۔ اگر اجازت لینے والا دروازے کے بِالکل سامنے کھڑا ہو جائے تو اس بات کا امکان ہےکہ دروازہ کھلتے ہی اس کی نظر گھر میں چلی جائے اور ایسی چیز یا ایسا منظر اس کی نظر کے سامنے آجائے کہ جو نہیں آنا چاہیے تھا اس لیے ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا پیارا انداز ہی قابلِ عمل ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن بُسر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب کسی کے گھرداخلے کے لیے تشریف لاتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ سیدھی یا اُلٹی طرف کھڑے ہوتے پھر اگر اجازت مل جاتی تو ٹھیک ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔([11])

موبائل،خط اور میسج کی بھی پرائیویسی ہوتی ہے

بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی سے کال کرنے کے لیے موبائل مانگا یا کسی کا موبائل رکھا دیکھا تو اُٹھا کر چیک کرنا شروع کر دیا، واٹس اپ دیکھنے لگے،گیلری میں جا گھسے اور میسج (SMS) پڑھنے لگے۔ یاد رکھیں ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ کسی کا خَط یا چٹّھی (رخصتِ شَرعی کے بغیر) نہ دیکھیے، کسی کی ڈائری کی تحریر بھی بے اجازتِ شَرعی نہ دیکھیے، حدیثِ پاک میں ہے: مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ اَخِيهِ بِغَيْرِ اِذْنِهٖ، فَاِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ،یعنی جوکوئی اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر اس کی تحریر  میں نظر ڈالتا ہے، وہ گویا آگ میں جھانکتا ہے۔([12])نیز لوگوں کے موبائلز میں کئی راز ہوتے ہوں گے، جیسے محارِم کی تصاویر اور ان سے کی گئی پرسنل باتیں وغیرہ جن کا کسی اجنبی کو بِلا اجازتِ شرعی دیکھنا پڑھنا جائز نہیں ہے، جس نے اس طرح کیا اُسے توبہ کرنی چاہیے۔ اسی طرح بعض لوگو ں کی عادت ہوتی ہے کہ دو مسلمانوں کی باہمی گفتگو چُھپ کر سننے لگتے ہیں،اسلام میں اس کی بھی اجازت نہیں، رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشادفرمایا:مَنِ اسْتَمَعَ اِلٰی حَدِيثِ قَوْمٍ وَّهُمْ لَهٗ كَارِهُوْنَ اَوْ يَفِرُّوْنَ مِنْهُ صُبَّ فِيْ اُذُنَـيْهِ الْاٰنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جس نے لوگوں کے ناپسندکرنے اور نہ چاہنے کے باوُجود ان کی باتوں کی طرف کان لگائےبروزِ قِیامت اس کے کانوں میں سیسہ اُنڈیلا جائے گا۔([13])

یاد رکھیے! اسلام میں پرائیویسی محض ایک سماجی قدر نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور قانونی تقاضا ہے، جس کی بنیاد قراٰنِ کریم، سنّتِ رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور آثارِ صحابہ  رضی اللہ عنہم پر قائم ہے۔ اسلام نے یہ واضح کر دیا کہ پرائیویسی کا احترام ہر حال میں ضَروری ہے، چاہے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ پرائیویسی کی پامالی نہ صرف فرد کو ذہنی اضطراب اور اَذیّت میں مبتلا کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، بدگمانی اور نفرت کو جنم دیتی ہے، جبکہ اس کا احتِرام باہمی اعتماد، حسنِ اخلاق اور خاندانی و معاشرتی استحکام کا ذریعہ بنتا ہے۔آج کے دور میں جب ٹیکنالوجی نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، اسلام کی یہ تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیّت اختیار کر چکی ہیں۔ اگر مسلمان قراٰن و سنّت کی ان ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کریں تو ان کے گھروں میں سکون، خاندانوں میں اعتماد اور معاشرے میں اَمن، حیا اور باہمی احتِرام کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ اسلام انسانی عزّتوں کا محافظ اور نجی زندگیوں کا بہترین پاسبان ہے اور اسلام میں پرائیویسی کا تصوّر انسانی فلاح اور معاشرتی اصلاح کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔



([1])تفسیرطبری،9/297، النور، تحت الآیۃ: 27

([2])تفسیرطبری،9/297، النور، تحت الآیۃ:27

([3])مصنف ابن ابی شیبہ،4/399، حدیث:17893

([4])مشکاۃ المصابیح، 2/169،حدیث:4674

([5])مراٰۃ المناجیح،6/353

([6])مصنف ابن ابی شیبہ،4/399،حدیث:17895

([7])ادب المفرد،ص 273،حدیث:1063

([8])روح البیان، 6/137،النور، تحت الاٰیۃ: 27

([9])مسلم،ص1201،حدیث:5638

([10])دیکھئے: مراٰۃ المناجیح، 5/251

([11])شعب الایمان،6/443،حدیث:8823

([12])مستدرک للحاکم،5/384، حدیث:7779

([13])بخاری،4/422،حدیث:7042


Share