خیانت کی قراٰنی مذمت


خیانت کی قر اٰنی مذمت


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں ”امانت داری“ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، ”خیانت“ ایک ایسا گھناؤنا عمل اور اخلاقی برائی ہے جس سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ قراٰن مجید میں خیانت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ اللہ پاک نے قراٰنِ کریم کی متعدد آیات میں اہلِ ایمان کو خیانت سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ برائی ایمان کی کمزوری اور منافقت کی جڑ ہے۔ خیانت کی مذمت کے متعلق 4 آیاتِ قراٰنی پڑھیے:

(1) اللہ و رسول سے دغا اور امانتوں میں خیانت:

اللہ پاک نے اہلِ ایمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امانتوں میں خیانت کا ارتکاب نہ کریں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت ۔ (پ 9، الانفال: 27)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت سے واضح ہوا کہ خیانت صرف مالی نہیں بلکہ اللہ کے احکامات اور رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سنت سے روگردانی بھی بہت بڑی خیانت ہے، چنانچہ تفسیر خزائن العرفان میں ہے:  فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے(خیانت ہے)۔ (خزائن العرفان،ص323)

(2) اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب:

جو شخص دھوکا دہی، خیانت اور بددیانتی کا راستہ اپناتا ہے، وہ اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سورۂ حج میں ایسے شخص کی مذمت اس طرح بیان کی گئی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔(پ17، الحج:38)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت اور ناشکری کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

(3) خیانت کرنے والوں کا فریب نہیں چلتا:

خائن کتنا ہی فریب کیوں نہ دے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ حق کا ساتھ دیتا ہے اور خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السّلام کے واقعہ میں ایک اہم اصول بیان ہوا ہے:

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پ12، یوسف: 52)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(4)  امانت کی ادائیگی کا حکم:

اللہ پاک نے امانتوں کو متعلقہ افراد تک پہنچانے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ (پ5، النسآء:58)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خیانت کی مختلف صورتیں:

قراٰنی تعلیمات کی روشنی میں خیانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں مالی و مادی اور روحانی دونوں صورتیں شامل ہیں، کسی کا راز، یا وعدہ بھی امانت ہے ۔ اسی طرح اللہ کے حقوق (جیسے نماز و روزہ) اور بندوں کے حقوق (جیسے ملازمت یا عہدے کے فرائض) کو پوری ایمانداری سے ادا نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہے۔

خیانت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور معاشرتی بے چینی کا سبب ہے۔ قراٰنِ مجید نے سختی سے اس کی مذمت کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ خیانت کرنے والا شخص اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اور وہ آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ بحیثیت مسلمان، ہمیں امانت داری کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔

اللہ پاک ہمیں قراٰنی تعلیمات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share