مطالعۂ حدیث کی ضرورت و اہمیت


مطالعۂ حدیث کی ضرورت و اہمیت


 کلامُ اللہ کے بعد کلامِ رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا مرتبہ ہے اور کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک کے بعد رسولُ اللہ  کا مرتبہ ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: جہاں قرآن کا نور ہے وہاں حدیث کا رنگ ہے، قرآن سمندر ہے حدیث اس کا جہاز، قرآن موتی ہے اور مضامینِ حدیث ان کے غواص، قرآن اجمال ہے حدیث اس کی تفصیل، قرآن ابہام ہے حدیث اس کی شرح۔ حضور کی ہر ادا قراٰنی آیات کی تفصیل ہے۔

تیرے کردار کو قرآن کی تفسیر کہتے ہیں

غرضیکہ قرآن و حدیث اسلام کی گاڑی کے دو پہیے ہیں یا مومن کے دو پَر جن میں سے ایک کے بغیر نہ یہ گاڑی چل سکتی ہے نہ مومن پرواز کرسکتا ہے۔(دیکھیے:مراٰۃ المناجیح، 1/2 )

حدیث قراٰن کی تفسیر ہے:

اللہ پاک نے فرمایا:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

 ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (پ28، الحشر: 7)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حدیث قراٰن کی تفسیر کیسے ہے؟ ملاحظہ فرمائیں: اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بار بار حکم دیا ، نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو، اب سوال یہ بنتا ہے کہ نماز کیسے قائم کرنی ہے اور کب کرنی ہے اور زکوٰۃ کتنے مال پر ادا کرنی ہے۔ تو ان سب باتوں کا جواب ہمیں حدیث سے ہی ملتا ہے۔ اسی طرح قراٰنِ پاک نے خنزیر کا گوشت حرام کیا ہے مگر جو دیگر جانور حرام ہیں وہ کیسے حرام ہوئے اور کون کون سے حرام ہیں تو اس کا جواب بھی حدیث سے ملتا ہے۔ گویا کہ کتاب اللہ خاموش قراٰن ہے اور رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی زندگی شریف بولتا ہوا قراٰن۔

فتنوں سے بچنے کے لیے حدیث کی ضرورت:

جس طرح دور حاضر میں جدت تیزی کے ساتھ آرہی ہے اسی کے ساتھ ساتھ فتنوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان فتنوں کی شروعات لبرل ازم سے ہوتی ہے اور الحاد پر جاکر ركتی ہے۔ حضور   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا: فَاِنِّي لَاَرَى الفِتَنَ تَقَعُ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ القَطْر ترجمہ: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عنقریب) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔

(بخاری،4/431، حدیث:7060)

سرکار   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی حدیث سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ فتنوں سے کیسے بچا جائے اور ایمان کو کیسے بچایا جائے۔ حضور   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا:مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ اُمّتِیْ فَلَہُ اَجْرُ مِائۃِ شَھِیْدٍ ترجمہ: جو شخص میری امت میں (عملی یا اعتقادی) خرابی پیدا ہونے کے وقت میری سنت پر عمل کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مشکاۃ المصابیح،1/55، حدیث:176)

اخلاق و کردار کی تکمیل میں حدیث کی ضرورت:

حضورِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   اخلاقِ عظیمہ کے مالک ہیں اور آپ کی سنت و احادیث کے بغیر انسان اخلاق اور کردار کی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ سرکار دو جہاں   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا: اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صَالِحَ الاَخْلاقِ ترجمہ: مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی مبعوث کیا گیا۔ (مسند احمد، 14/512، حدیث: 8952)

احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ تکبر سے کیسے بچا جائے اور کیسےعاجزی اختیار کی جائے، ریاکاری سے کیسے بچا جائے اور اخلاص کیسے پیدا کیا جائے، دل کو نرم کیسے کیا جائے، غصے پر قابو کیسے کیا جائے؟ احادیث میں گویا ہر مرض کا علاج ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے محبوب کے کلام کا مطالعہ کرنے کی اور اس سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


Share