جنگ بدر کا پس منظر(دوسری اور آخری قسط)
عُشیرہ اور بدر کے درمیانی عرصے میں ایک اور واقعہ رونما ہوا تھا: حضرت عبد اللہ بن جَحش کی سربراہی میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے 8 یا 12 اصحاب پر مشتمل ایک دستہ جاسوسی کے لیے (مکّہ اور طائف کے درمیان واقع) مقامِ ”نخلہ“ کی جانب روانہ فرمایا، مجبوراً ان کا ٹکراؤ کفّارِ قریش کے ایک قافلے سے ہوگیا، اس جھڑپ میں عَمرو بن حَضْرَمی قتل ہوگیا جبکہ حَکم بن کَیسان (جوکہ بعد میں ایمان لے آئے تھے) اور عبد اللہ بن مُغیرہ کے لڑکے عثمان کو صحابہ گرفتار کر کے مال و اسباب سے لدے اونٹوں سمیت مدینہ لے آئے۔ اس مہم کو تاریخ میں ”سریہ عبد اللہ بن جحش“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ([1])
کفّارِ قریش اس واقعے کی وجہ سے پہلے ہی غیظ و غضب میں جل رہے تھے کہ قتل اور گرفتار ہونے والوں کا تعلّق مکّے کے معزّز گھرانوں سے تھا ایسے میں ضَمضَم بن عَمرو نے مکّہ آکر ابوسفیان کا پیغام بھی پہنچادیا کہ مسلمان تمہارے اس ملی تجارتی قافلے پر بھی نظریں گاڑے ہوئے ہیں، لہٰذا اس قافلے کی مدد کو پہنچو! یہ سُن کر مکّہ میں ہل چل مچ گئی،کفّارِ مکّہ جوشِ انتقام میں آپے سے باہر ہوگئے، کہنے لگے: ”محمد اور اس کے ساتھی کیا سمجھتے ہیں کہ وہ اس قافلے کو بھی اِبنِ حَضْرَمی کے قافلے کی طرح نگل لیں گے؟ خدا کی قسم اب ان کو لگ پتا جائے گا۔“ اَلغرض ابو لہب کے سوا تمام سردارانِ مکّہ پوری طرح مسلح ہوکر، ڈھیروں ڈھیر جنگی ساز و سامان اور خوراک کے ساتھ تقریباً ایک ہزار کا لشکر لے کر نکل پڑے۔([2])
راستے میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جب یہ خبر ملی کہ یہ مہم اب ایک نیا رُخ اختیار کر چکی ہے، یعنی قریش اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے باقاعدہ جنگی فوج کی صورَت میں بدر آرہے ہیں، تو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس تجارتی قافلے کے بجائے قریش کے جنگی لشکر سے ہونے والے ممکنہ ٹکراؤ کے متعلّق آگاہ کرتے ہوئے پوری صورتِ حال صحابہ کے سامنے رکھ دی،([3]) جس کے بعد صحابہ نے نہایت ہی جوش و خروش کا اظہار کیا اور اس جہاد میں بخوشی شرکت کے عزم کا اظہار کیا۔ انصار و مہاجرین کی تقریریں گویا یہ کہہ رہی تھیں کہ کیا بدر اور کیا کفّارِ قریش! آپ کے فرمان پر تو ہم روم و فارس کو بھی اپنی تلواروں کی زیارت کروانے کے لیے تیار ہیں۔([4])
ابو سفیان جو کہ حجاز کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے ہی قاصد روانہ کرچکے تھے، جب بدر کے قریب آئے تو سخت پریشان تھے، بہت ہوشیاری سے قافلے کو آگے چلا رہےتھے، آپ بدر سے اچّھی طرح واقف تھے اور خوب اندازہ تھاکہ کس مقام پر گھات لگ سکتی ہے، اسی لیے آتے ہوئے راہ گیروں اورقافلوں سے مسلمانوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ بدر کے قریب قافلے سے علیحدہ ہوکر خود مسلمانوں کا سراغ لگانے نکلے اور اسی مقام پر آئے جہاں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جاسوس حضرت بَسْبَس اور حضرت عَدی رضی اللہ عنہما رُکے ہوئے تھے، یہاں ابوسفیان نے مَجْدی بن عَمرو بدوی سے پوچھ گچھ کی، مجدی نے مدنی جاسوسوں کو دیکھا تو تھا مگر اسے کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کون تھے اور کیوں آئے تھے اس نے بس یہ بتادیا کہ دو سوار اس ٹیلے کے پاس رکے تھے، پھر پانی پی کر واپس چلے گئے۔ ابوسفیان کے لیے یہ خبربھی کافی تھی، وہ اس جگہ پہنچے جہاں جاسوس کچھ دیر رکے تھے، اونٹوں کی مینگنیوں کے ذریعے تفتیش کرلی کہ ان اونٹوں نے مدینے کا چارہ کھایا ہے اور یہ سوار مدنی جاسوس تھے جوکہ ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے لہٰذا فوراً قافلے کی طرف بھاگے اور راستہ بدل کر بدر کو اپنے بائیں ہاتھ رکھتے ہوئے ہوئے بحیرۂ احمر (Red Sea)کی کوسٹل لائن سے تیزی سے قافلہ لے گئے۔([5])
اس حکمت عملی سے ابو سفیان بچ نکلے اور جب انہیں اپنی حفاظت کا پورا پورا اطمینان ہوگیا تو انہوں نے قریش کو ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعے پیغام بھیجا کہ تم لوگ مکّہ واپس لوٹ جاؤ کیونکہ ہم لوگ مسلمانوں کی یلغار سے بچ گئے ہیں اور جان و مال کی سلامتی کے ساتھ ہم بھی مکّہ پہنچ رہے ہیں۔ راستے میں کفارِ مکہ کو جب ابو سفیان کا یہ خط ملا تو ان میں اختلافِ رائے پیدا ہوگیا، قریش کے کچھ سمجھ دار لوگوں نے جنگ نہ کرنے کا عندیہ دیا بلکہ کچھ لوگ توواپس بھی لوٹ گئے مگر ابو جہل ہرحال میں اپنی موت کی طرف جانا چاہ رہا تھا، اس کے خیالوں میں صرف بدر کی عیش و عشرت، ذبح ہوتے اونٹ، قریشی لشکر کی ناچ گانا کرتی خواتین اور مسلمانوں کا بہتا ہوا خون تھا تو وہ واپسی کا کہنے والوں پر بگڑ گیا اور آگے بڑھنے پر اِصرار کیا الغرض بنو زُہرہ و بنو عَدی کے علاوہ بقیہ قبائل نے جنگ میں شرکت کے لیے اپنے سَفَر کو جاری رکھا۔([6])
بالآخِر 17 رمضانُ المبارَک میدانِ بدر میں دونوں لشکر صف آرا ہوئے: ایک وہ ہے جس کی تعداد کم و بیش تين سو ہے، پاس ایک آدھ گھوڑا،70 اونٹ، 6 زرہیں اور 8 تلواریں ہیں باقی غازیوں کے پاس کھجور کی لکڑیاں تھیں جبکہ دوسری جانب ایسا لشکر ہے جس میں عتبہ و شیبہ اور ابو جہل سمیت قریش کے لگ بھگ ہزار مشہور جنگجو موجود ہیں، پاس 100 گھوڑے، 700 اونٹ اور کثیر جنگی سامان ہے۔([7])ایک طرف وہ لشکر ہے جس نے ابو سفیان کے تجارتی قافلے کو روکنے کے اِرادے سے مدینہ چھوڑا تھا نہ کہ کفّارِ مکّہ کے نامور سرداروں، شہسواروں اور فن سپہ گری میں یکتائے روزگار افراد سے جنگ کی تیاری کے ساتھ جبکہ دوسری طرف مکّہ کے وہ قبائل ہیں جو پوری تیاری کے ساتھ صف بندی کئے ہوئے ہیں۔
مگر جب نَقّارہ ٔجنگ بجا اور مُبارَزَت سے شروع ہونے والے اس معرکہ میں دونوں لشکر گتھم گتھا ہوئے تو صحابۂ کرام اس قدر شجاعت سے لڑے کہ کفّارِ مکّہ کا تمام جوش و وَلولہ اور گھمنڈ دھرا کا دھرا رہ گیا، نصرتِ الٰہی اس طرح شامل حال ہوئی کہ میدان میں فرشتے بھی لڑے۔ گھمسان کے اس رَن میں جب عتبہ، شیبہ اور ابوجہل جیسے نامور سرداروں کی موت ہوئی تو کفّار کے پاؤں اُکھڑگئے اور انہوں نے بزدلوں کی طرح راہِ فرار لی ۔
اس طرح یہ جنگ مسلمانوں کی واضح فتح کی صورت میں اختتام پذیر ہوئی جس میں کفّارِ مکّہ کے 70 جنگجو واصل جہنّم ہوئے اور 70 ہی گرفتار ہوئے جبکہ 14 مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش فرمایاجن میں سے 6 مہاجر اور 8 انصار تھے۔([8])
اس جنگ کے بعد قریشِ مکّہ میں صفِ ماتم بچھ گئی، قریش نے بھی پہلی بار سوگ کا دَور دیکھا اور اب وہ جان چکے تھے کہ مسلمان آسان ہدف نہیں ہیں۔ اس فتح نے ایک نئے نظریہ کی بھی بنیاد رکھی کہ جنگ میں تعداد اور وسائل ہار جیت کا معیار نہیں۔ اس فتح سے ریاستِ مدینہ نے قوّت و استِحکام کا پہلا پَربَت سَر کیا جس کی بدولت مدینے کے یہود قبائل پر بھی دباؤ پڑا اور آنے والی جنگوں کے لیے مسلمانوں کے حوصلے بھی بڑھے کہ اب ہم ایسی ریاست بننے جارہے ہیں جو کسی سے بھی ٹکرانے کی گنجائش رکھے گی۔
وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سَیّدِ الْاَنْصَارِ وَ الْمُہَاجِرِین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ذمہ دار شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments