اُحد پہاڑ کے پاس


احد پہاڑ کے پاس

اِسٹوڈنٹس عید کی چھٹیاں گُزار کر آئے تو ان کے چہروں پر ابھی تک عید کی خوشیوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، ایک دوسرے کو اپنے خوشیوں بھرے  لمحات کے بارے میں بتا رہے تھے، کسی نے عید اپنے گاؤں میں دادا دادی یا نانا نانی کے ساتھ گُزاری تھی جب کہ کچھ وہ تھے جن کے والد یا بڑے بھائی دوسرے شہروں میں ہوتے ہیں اور عید پر ان کے پاس آئے تھے تو وہ اپنی عید کی خوشیوں کا مزہ دوبالا ہوجانے کے باعث زیادہ جوش و خروش سے اپنی عید کے بارے میں بتا رہے تھے۔ بچّے انہی خوش گپیوں میں مگن تھے کہ سربلال کلاس میں داخل ہوئے۔

سربلال نے حسبِ عادت سَلام و دُعا کے بعد سب سے پہلے وائٹ بورڈ پر آج کے سبق کا عنوان لکھا: تاریخِ اسلام۔

تو بچّو! اُمید ہے کہ آپ سب کی عید خیریت سے گُزری ہوگی۔

جی سر، سبھی بچّوں نے بآواز بلند جواب دیا۔

سر آپ کی عید کیسی گزری؟ اُسید رضا نے پوچھا۔

سر بلال: ہمیشہ کی طرح بہت اچّھی، تو بچّو! آج ہم تاریخِ اسلام کے ایسے واقعے کے بارے میں سیکھیں گے جو چھوٹی عید  کے  بعد 15 شوّال کے دن پیش آیا تھا، یہ کہتے ہوئے سر بلال نے وائٹ بورڈ پر تاریخِ اسلام کے نیچے نیلے مارکر سے لکھ دیا: ”غزوۂ اُحد“۔

ہجرت کے تیسرے سال مشرکینِ مکّہ انتقام سے بھرے ہوئے تین ہزار کا لشکر لے کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے اِرادے سے حملہ کرنے آئے تو نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سپہ سالاری میں محض سات سو افراد پر مشتمل اسلامی لشکر ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینے سے باہر نکلا۔ آخرکار  مدینہ شریف سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اُحد نامی پہاڑ کے قریب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا۔

بچّو! جنگ کی ابتدا میں مسلمانوں کا پلّہ بھاری رہا، وہ کافر جو بڑے بہادر بنے نعرے لگاتے مسلمانوں کو ختم کرنے آئے تھے جنگ شروع ہوتے ہی میدان جنگ سے بھاگ نکلے لیکن پھر ایک غلط فہمی کی بنا پر سارے حالات بدل گئے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کافی نقصان اُٹھانا پڑا یہاں تک کہ ستّر صحابہ کرام بھی شہید ہو گئے۔

معاویہ: سر وہ غلط فہمی کیا تھی؟

سر بلال: دراصل بچّو! غزوۂ اُحد  پہاڑی جنگ تھی ، ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو جہاں اللہ پاک نے دین و دنیا کی ہر چیز سکھائی تھی وہیں جنگی پلاننگ کا بھی علم دیا تھاتو آپ میدانِ جنگ دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ کون سی جگہ سے خطرہ ہو سکتا ہے لہٰذا آپ  نے لشکر ا سلام کی پشت یعنی بیک سائیڈ پر پچاس تیر انداز مقرّر کیے اور انہیں تاکید بھی فرما دی کہ  ”جب تک میرا حکم نہ آجائے تم نے یہاں سے نہیں ہٹنا“ تو جب کافر میدان جنگ سے بھاگ نکلے تو دیگر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی طرح تیر اندازوں میں سے بھی اکثر نے سوچا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں لہٰذا اپنی جگہ چھوڑ دی لیکن ہوا یہ کہ بھاگتے ہوئے کافروں کی نظر بھی اس اَہَم مورچے کی طرف پڑ گئی تو انہوں نے اسی طرف سے حملہ کر دیا یوں اچانک حملے کی وجہ سے افراتفری پھیل گئی اور جیتی ہوئی جنگ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلنے لگی۔

ثوبان: سر اسی غزوہ میں حُضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ایک چچا بھی شہید ہوئے تھےناں۔۔!

سر بلال: جی بیٹا! اس افراتفری میں مسلمانوں کو بہت نقصان اُٹھانا پڑا ، ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پیارے چچا حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ  شہید ہوئے، ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا چہرۂ مبارَک زخمی ہوااور دانت مبارک کا تھوڑا سا کنارہ بھی الگ ہو گیا۔

 لیکن بچّو! ایسی افراتفری میں بھی صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو اپنی جانوں سے زیادہ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا خیال تھا، اپنی پُشت کو آپ  کے لیے  ڈھال بنا لیا۔ خود اپنی پیٹھ پر تیر برداشت کیے لیکن پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا دفاع نہیں چھوڑا۔ سات انصاری صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم میں سے ایک کے بعد ایک نے حُضور کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔ بےشک اس غزوہ میں صحابۂ کرام نے بڑی عظیم اور بے مثال قربانیاں دیں  اور ہمیں اس سے سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملتا ہے کہ اللہ پاک  اور اس کے پیارے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جیسا فرمائیں اس پر عمل کیا جائے ورنہ آخِرت کےساتھ ساتھ دنیا میں بھی اس کا نقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی


Share