وعدہ وفائی قراٰن کی روشنی میں
مبشر عبدالرزاق عطاری
(درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی،لاہور )
اسلام ایک متوازن نظامِ اخلاق کا علم بردار ہے،جس میں انسان کے فطری اور طبعی تقاضوں کی بہتری اور اعلیٰ و عمدہ معاشرتی زندگی کے لیے اچھے اخلاق کی بہترین تعلیم موجود ہے، کیونکہ تربیت یافتہ با اخلاق معاشرہ ہی پرسکون زندگی کا ضامن ہوتا ہے دین اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک وعدہ وفائی بھی ہے،باہم اعتماد کی فضا قائم رکھنے، ایک مہذب اور باکردار معاشرے کی تشکیل کے لیے وعدہ وفائی کو اپنانا نہایت اہمیت کا حامل ہے، اسی لیے اسلام نے اِیفائے عہد پر بہت زور دیا ہے، حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مسلمان سے وَعدہ کرو یا کافر سے، عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے، اُستاذ، شیخ، نبی، اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے تمام وعدے پورے کرو۔ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گنہگار نہیں۔(مراٰۃ المناجیح،6/483، 492)
قراٰن پاک میں متعدد مقامات پر ایفائے عہد(وعدہ پورا کرنے) کی فضیلت و اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، آئیے!ہم بھی وعدہ وفائی کا قراٰنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
ایفائے عہد
جس معاشرے میں عہد کی پاس داری اور وعدے کی وفاداری ہوتی ہے اس کو ترقی کی جانب بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور جو معاشرہ اس عمدہ اخلاق سے محروم ہوتا ہے وہ بہت جلد تباہی و بربادی کا شکار ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں ہی کامیابی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے عہد پورا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنے قول (عہد) پورے کرو۔
(پ6، المآئدۃ:1)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
عظیم نیکی
وعدے کو پورا کرنا ایک عظیم نیکی اور اخلاقی فریضہ ہے جیسے اللہ پاک قراٰنِ پاک میں نیک اعمال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-
ترجمۂ کنز العرفان: اور وہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں۔
(پ2، البقرۃ:177)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
انبیائے کرام علیہمُ الصّلوٰۃ ُوالسّلام کا وصف
وعدہ پورا کرنا عمدہ فعل اور انبیائے کرام علیہمُ السّلام کا عظیم الشان وصف ہے جیسا کہ اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے بارے میں ارشاد ہے:
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بےشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
(پ 16، مریم: 54)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
محبوبِ الٰہی
وعدہ پورا کرنا اور امانت کا ادا کرنا دونوں چیزیں پرہیزگاری کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور پرہیزگاری اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے تو جواللہ تعالیٰ کی پسند پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقرب بن جائے گا، چنانچہ ارشادِ باری ہے:
مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)
ترجمۂ کنز العرفان:جو اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے توبیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔
(پ3، اٰل عمرٰن: 76)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
فلاح و کامیابی
اللہ پاک کی رضا، دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی اور جنّتُ الفردوس حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ وعدہ وفائی بھی ہے جیسا کہ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں اہلِ جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔
(پ18، المؤمنون:8)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
پیارے اسلامی بھائیو! جائز وعدے کو پورا کرنا ضروری جبکہ وعدہ خِلافی حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کامہے۔ ہمیں چاہئے کہ جس سے بھی وعدہ کریں اسے بہر صُورت نبھایا کریں، اللہ پاک ہمیں وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments