بچوں کی مایوسی اور والدین کی ذمہ داری


بچوں کی مایوسی اور والدین کی ذمہ داری

اُمید اور حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنے والا مسلمان اللہ  کریم اور اس کے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو پسند ہے جبکہ مایوسی اسلام میں ناپسندیدہ عمل ہے۔اللہ پاک نے اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد  ہوا:

لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

24، الزمر:53)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی اسلام کی نظر میں ایک ناپسندیدہ کیفیت ہے جس سے چھوٹوں بڑوں سب کو بچنا چاہیے۔ مایوسی کی وجوہات چھوٹوں اور بڑوں میں مختلف ہوسکتی ہیں اور انہیں  ختم کرنے کے طریقے بھی دونوں کے لیے مختلف ہوسکتے ہیں۔ ہم اس مضمون میں بچوں کی مایوسی کی وجوہات اور انہیں ختم کرنے کے طریقوں پر بات کریں گے۔

جب بچوں کے چہرے،لہجے یا حرکات و سکنات سے مایوسی کے آثار ظاہر ہوں توایسے وقت میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین دانشمندی، صبر اور محبت کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کریں تو بچے کی مایوسی ختم ہوسکتی ہے اور وہ دوبارہ اعتماد کے ساتھ تعلیم اور دیگر کاموں کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں۔

بچوں کی مایوسی کی وجوہات اور ان کا حل

بعض اوقات بچے اسکول یا مدرسے سے مایوس ہو کر گھر لوٹتے ہیں اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔

تعلیمی کمزوری:

 پہلی وجہ تعلیمی کمزوری ہے۔بعض بچے پڑھائی میں دوسروں کی نسبت کمزور ہوتے ہیں، اس لیے وہ اسباق کو اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے۔ جب وہ بار بار کوشش کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر پاتے تو ان کے دل میں مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔

حل:ایسی صورت میں والدین کو چاہیےکہ وہ غصہ یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بجائے نرمی، شفقت اور سمجھداری سے کام لیں۔بچے سے پیار سے بات کریں،اس کی بات پوری توجہ کے ساتھ سنیں، بچے کو تسلی دیں اور سمجھائیں کہ کمزوری یا ناکامی پر مایوس ہونے کے بجائے محنت اور کوشش جاری رکھو اور اللہ سے دعا کرو تاکہ  مشکل  آسان ہو ۔

امتحان میں ناکامی:

دوسری اہم وجہ امتحان میں ناکامی یا کم نمبر آنا ہے۔ تعلیمی نظام میں امتحانات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اس لیے جب بچے کو کم نمبر ملتے ہیں تو اسے شرمندگی اور مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔ بعض اوقات اساتذہ کی سختی یا ڈانٹ ڈپٹ بھی بچے کے دل کو متأثر کرتی ہے، خاص طور پر اگر بچے کی طبیعت حساس (Sensitive) ہو۔

حل:ایسی صورت میں والدین کو چاہیے کہ بچے کی ناکامی کی وجوہات پر غور کرتے ہوئے ان کو دور کریں۔ اگر بچہ کسی مضمون میں کمزور ہے تو اس کی مدد کریں، اس کے لیے اضافی وقت نکالیں، اسے آسان انداز میں سمجھائیں یا کسی اچھے استاد سے رہنمائی دلوائیں۔ ساتھ ہی بچے کی حوصلہ افزائی کریں اور اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر بھی اس کی تعریف کریں۔

کلاس فیلوز کا رویہ:

اسی طرح بعض بچے اپنے ساتھیوں کے رویے کی وجہ سے بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم جماعت بچے اس کا مذاق اڑائیں یا اسے کمتر سمجھیں تو اس کے دل میں احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔

حل:ایسی صورت میں والدین بچے کو یہ احساس دلائیں کہ دوسروں کے مذاق یا برے رویے سےکسی  کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ بچے کو حوصلہ دیں کہ وہ صبر اور اچھے اخلاق کے ساتھ دوسروں کا سامنا کرے۔اگر مسئلہ زیادہ بڑھ جائے تو اساتذہ یا اسکول/مدرسہ انتظامیہ سے بھی بات کریں تاکہ بچوں کے درمیان اچھا ماحول قائم ہو سکے۔

ہوم ورک کا بوجھ:

بعض اوقات اسکول کا ماحول، زیادہ ہوم ورک یا کھیل کود کے مواقع کی کمی بھی بچے کے دل میں بوجھ اور اکتاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔

حل:ایسی صورتِ حال میں والدین بچے کے لیے آسانی پیدا کریں، مناسب وقت دیں، پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور آرام کا بھی موقع دیں، کیونکہ کھیل سے بچے کا ذہن تازہ ہوتا ہے اور اس کی طبیعت خوشگوار رہتی ہے۔ اگر واقعی ہوم ورک ضرورت سے زیادہ ہو یا بچہ بہت زیادہ دباؤ محسوس کرے تو والدین اساتذہ سے نرمی کے ساتھ بات کر کے مناسب حل تلاش کر یں۔

بعض اوقات بچے کی مایوسی میں اسکول اور مدرسے کا عمل دخل نہیں ہوتابلکہ کچھ اور وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے بچہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

 گھریلو ماحول کا خراب ہونا:

اگر گھر میں والدین کے درمیان جھگڑے ہوں، سختی زیادہ ہو یا بچے کو محبت اور توجہ نہ ملے تو وہ اندر ہی اندر پریشان اور مایوس ہو جاتا ہے۔

حل:ایسی صورتِ حال میں والدین کو چاہیے کہ گھر کا ماحول پر سکون اور محبت بھرا بنائیں۔ بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے بچیں۔

بڑوں کی طرف سے حد سے زیادہ توقعات:

کبھی والدین یا بڑے بچوں سے ایسی توقعات رکھتے ہیں جو ان کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جب بچہ خود کو ان توقعات پر پورا اترتا نہیں دیکھتا تو وہ اپنے کو ناکام سمجھ کر مایوس ہو جاتا ہے۔

حل:ایسی کیفیت میں والدین کو چاہیے کہ بچے کی صلاحیت اور عمر کو دیکھ کر توقعات رکھیں۔ اسے آہستہ آہستہ ترقی کرنے کا موقع دیں اور اس پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔

 مسلسل ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید:

اگر بچے کی ہر بات پر تنقید کی جائے اور اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

حل:ایسی صورتِ حال میں والدین کو چاہیے کہ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں، نرمی اور حکمت سے اصلاح کریں۔ صرف غلطیوں پر نظر نہ رکھیں بلکہ اچھائیوں کی تعریف بھی کریں تاکہ اس کا حوصلہ بلند رہے۔

 جسمانی یا ذہنی کمزوری:

بعض بچوں کی طبیعت کمزور ہوتی ہے یا وہ جلد تھک جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود یا پڑھ نہیں پاتے جس کی وجہ سے دل برداشتہ اور مایوس ہو جاتے ہیں۔

حل:اگر بچہ جسمانی یا ذہنی کمزوری کی وجہ سے مایوس ہو تو والدین کو چاہیے کہ تعلیم کا بلاوجہ دباؤ کم کریں اور بچے کے صحت مند ہونے تک کھانے، پینےاور آرام پر اضافی توجہ دیں اور ضرورت پڑے  تو ڈاکٹر یا استاد سے مشورہ لیں۔

محترم والدین! بچوں کی مایوسی کا سبب کوئی بھی ہوآپ نے اپنا بہترین کردار ادا کرنا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بچوں کو مایوسی سے محفوظ فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share