خوفِ خدا میں رونے والی آنکھ کا اجرو ثواب
اللہ پاک کی عظمت و جلال کے سامنے دل کا پگھلنا، اس کی ہیبت سے آنکھوں کا بہہ جانا اور اس کے خوف سے روح کا لرز جانا، یہ ایمان کی وہ کیفیت ہے جو بندے کو اپنے رب سے قریب کر دیتی ہے۔ خشیتِ الٰہی میں بہائے گئے آنسو محض پانی کے قطرے نہیں، بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ گواہی ہے جو اللہ پاک کی عظمت کے اعتِراف پر مبنی ہوتی ہے۔ نبیِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس عمل کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے ایسے اَجر و ثواب کی خوش خبری سنائی ہے جو کسی بھی مومن کے دل میں اس نيكی کی طلب پیدا کر دے۔
آئیے! ملاحظہ فرمائیں کہ احادیثِ نبویہ میں اس مبارک عمل کے کیسے کیسے انعامات بیان ہوئے ہیں:
(1)عرشِ الٰہی کے سائے میں جگہ پانے والے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا: سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ پاک اس دن اپنے(عرش کے) سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے (عرش کے) سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا: (1)انصاف کرنے والا حکمران (2)وہ نوجوان جس کی پرورش اللہ پاک کی عبادت میں ہوئی (3)وہ شخص جس کا دل مساجد میں لگا رہے، (4)دو ایسے آدمی جو اللہ پاک کی خاطر محبت رکھتے ہوں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں (5)وہ شخص جسے کسی معزّز اور خوبصورت عورت نے بلایا تو اس نے کہہ دیا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں (6)وہ شخص جس نے اتنے پوشیدہ طریقے سے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور(7) وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ پاک کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ ([1])
سبحان اللہ!کتنی عظیم بشارت ہے ان بندوں کے لیے جو تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خوفِ الٰہی میں آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ قیامت کے دن جب سورج سروں کے قریب ہو گا، جب لوگ اپنے اعمال کے بوجھ تلے پسینے میں نہائے ہوں گے،اس وقت یہ خوش نصیب بندے اللہ پاک کے عرش کے سائے میں ٹھنڈک اور سکون سے ہوں گے۔ یہ اللہ پاک کا خاص کرم ہے ان پر جنہوں نے دنیا میں اس کی یاد میں آنسو بہائے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔
(2)آگ سے نجات کا پروانہ
صحابیِ رسول حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخِری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: جہنّم کی آگ اس آنکھ پر حرام کر دی گئی جو اللہ پاک کے خوف سے بہہ پڑی یا رو پڑی، اور جہنّم کی آگ اس آنکھ پر حرام کر دی گئی جو اللہ پاک کی راہ میں (پہرہ دیتے ہوئے) جاگتی رہی۔([2])
اللہ اکبر! کتنا عظیم انعام ہے! جو آنکھ خوفِ خدا میں روئے، اسے جہنّم کی آگ سے مکمل حفاظت عطا کی گئی۔ یہ اللہ کریم کی رحمت کا اظہار ہے کہ اس کے خوف میں بہایا گیا ایک چھوٹا سا آنسو بھی جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مقابلے میں ڈھال بن جاتا ہے۔
(3)جہنم میں داخلہ ناممکن ہوجائے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جہنّم میں داخل نہیں ہو گا جو اللہ پاک کے خوف سے رویا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس چلا جائے (یعنی یہ ناممکن ہے)، اور اللہ پاک کی راہ میں لگنے والی گرد و غبار اور جہنّم کا دھواں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔([3])
سبحان اللہ! یہ حدیث مبارَکہ ہمیں اپنے دل میں خوفِ الٰہی پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ شیخ عبد الحق محدِّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کے تحت لکھتے ہیں: جس طرح نکلا ہوا دودھ دوبارہ تھن میں نہیں جاسکتا، اسی طرح اللہ پاک کے ڈر سے رونے والا جہنّم میں نہیں جا سکتا اور جو شخص اللہ پاک کی راہ میں غبار آلود ہوا، اس پر دوزخ کا دھواں اور اس کی آلودگی اثر نہیں کرے گی۔([4])
(4)آنکھوں کا جہنم نہ دیکھنا
حضرت معاویہ بن حَیْدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: تین آنکھیں ایسی ہیں جو جہنّم کی آگ نہیں دیکھیں گی: (1)وہ آنکھ جس نے اللہ پاک کی راہ میں پہرے داری کی، (2)وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی، اور (3)وہ آنکھ جو اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے رُکی رہی۔([5])
حضرت علّامہ مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں آگ سے بہت دُور رکھا جائے گا، اور جو آگ سے دُور کیا گیا وہ جنّت کے قریب ہو گیا۔مزید فرماتے ہیں: اللہ پاک کے خوف سے رونے کا مطلب محض عورتوں جیسا رونا نہیں ہے کہ انسان تھوڑی دیر کے لیے روئے اور پھر نیک عمل چھوڑ دے، بلکہ اس سے مراد وہ خوف ہے جو دل میں گھر کر جائے یہاں تک کہ اس خوف کے غلبے کے سبب آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور وہ خوف انسان کو گناہ کرنے سے باز رکھے اور نیکیوں پر مداومت (یعنی ہمیشگی) کی ترغیب دے۔([6])
(5)اللہ کو سب سے محبوب چیزیں
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:اللہ پاک کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں: ایک وہ آنسو کا قطرہ جو اللہ پاک کے خوف سے نکلا ہو اور ایک اللہ پاک کی راہ میں بہایا جانے والا خون کا قطرہ۔ اور دو نشان: ایک اللہ کی راہ میں لگنے والا نشان، اور اللہ پاک کے فرائض میں سے کسی فریضے میں لگنے والا نشان۔([7])
حدیث پاک میں مذکور دو نشان سے مراد:
ایک’’اللہ کی راہ میں لگنے والا نشان‘‘جیسےاللہ پاک کی رضا کے لیے اُٹھنے والا کوئی قدم یا غبار یا جہاد میں لگنے والا کوئی زخم یا دین کا علم سیکھنے کے دوران سیاہی کا لگنے والا نشان۔ اور دوسرا نشان جو اللہ پاک کے فرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی کا ہو، جیسے: سردی کے موسم میں وضو کرنے سے ہاتھوں اور پیروں کا پھٹ جانا، گرمی میں وضو کی تری کا جسم پر باقی رہنا، تپتی ہوئی زمین پر سجدہ کرنے سے پیشانی کا جھلسنا، روزے دار کے منہ کی بو، اور حج کے سفر میں پاؤں کا گرد آلود ہونا۔([8])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی

Comments