حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
ایک مرتبہ امیرُ المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عَمْرو بن معدیکَرِب رضی اللہ عنہ سے ایک عظیم صحابیِ رسول کے متعلّق رائے طلب کی توانہوں نے یوں عرض کی: وہ تو نہایت ہی اعلیٰ صفات کے حامل ہیں، قرض و خراج وغیرہ وُصول کرنے میں سختی سے کام نہیں لیتے،سیاہ و سفید دھاری دار کمبل والے (معزّز) عربی ہیں، ہمّت و بہادری میں شیر ہیں، فیصلہ ہمیشہ انصاف سے کرتے ہیں برابر برابر تقسیم کرتے ہیں، ہم پر ایسے شفیق ہیں جیسے بیوہ عورت کی اپنے بچّوں پر شفقت،نیز ہمارے حُقوق ہم کو اس طرح دیتے ہیں جیسے چیونٹیاں اپنے سوراخوں تک سامان لے جاتی ہیں۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو!اعلیٰ صفات والےیہ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا سَعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے آپ کا قد چھوٹا لیکن شخصیت بارُعب تھی، آپ کا جسم مضبوط اورسر بڑا تھا (جو آپ کے مدبّر اور طاقتور ہونے کی غمازی کرتا تھا)، آپ کی اُنگلیاں موٹی، رنگ گندمی اور سر کے بال گھنگھریالےتھے جبکہ جسم پر بکثرت بال موجود تھے۔([2])
قبولِ اسلام اور مشقّت:
حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ابتدائے اسلام میں ایمان لے آئے تھے۔([3])اس وقت عمر مبارک 17سال تھی۔([4])کافرہ والدہ نے آپ کو دینِ متین سے پھیرنے کی بھرپور کوشش کی، کہنے لگی: اے سعد! یہ کیا دین ہے جسے تو نے قبول کرلیا، جب تک تو اس دین کو چھوڑ کر پہلے والے دین پر نہیں آئے گا تب تک نہ میں کچھ کھاؤں گی اور نہ کچھ پیوں گی یا پھر بھوکی پیاسی مر جاؤں گی پھر لوگ تجھے شرم دلاتے ہوئے کہیں گے: اے ماں کے قاتل! آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی والدہ کو سمجھایا کہ تُو ایسا مت کر، میں کسی بھی قیمت پر اپنے دین کو نہیں چھوڑوں گا،ایک دن گزر گیا والدہ نے کچھ نہیں کھایا پیا اور ساتھ ہی سائے میں بیٹھنا بھی چھوڑدیا، پھر دوسرا دن بھی گزر گیا مگر والدہ نے اپنے حلق سے کچھ نیچے نہ اتارا۔ پھر میں والدہ کے پاس آیا اور کہا :اے میری ماں ! تو اس بات کو جان لے کہ اگرتیری 100جانيں بھی ہوں اور ايک ايک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں دینِ اسلام سے نہ پھروں گا، اب تیری مرضی ہے تو کھا! یا نہ کھا۔ جب والدہ آپ رضی اللہ عنہ سے مایوس ہوگئی تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔([5])
اوصاف و اعزازات:
پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ اعزازی کلمات ملے ہیں:سعد بن ابی وقاص جنّتی ہیں ان کے رفیق حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد علیہما السَّلام ہوں گے۔([6])آپ رضی اللہ عنہ بہترین تیر انداز تھے([7])غزوۂ اُحد کے دن تیر اندازی کا یہ جوہر خوب نکھر کر سامنے آیا پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جنگِ اُحد میں خود آپ سے ارشاد فرما رہے تھے: اِرْمِ فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّی یعنی تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! تیر مارو۔([8])سن 17 ہجری میں امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم سے کوفہ شہر کی بنیاد آپ نے رکھی تھی۔([9])
درِ رسولِ کے پہریدار:
ہجرت کے بعد مدینۂ منورہ میں دشمنوں کی طرف سے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لیے خطرہ تھا۔ ایک رات آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود کلامی فرمائی کہ کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات ہمارا پہرہ دے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابھی ہم اسی حال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ (باہر ) ہتھیار ہلنےکی آواز آئی۔ پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استفسار فرمایا: کون ہے؟ آواز آئی: سعد بن ابی وقاص۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کیا بات تمہیں یہاں لے آئی؟ انہوں نے عرض کی: آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کفار سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ میرے دل میں پیدا ہوا تو میں بغرضِ نگہبانی چلا آیا۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہ عنہ کی جانثاری پر خوش ہو کر دعا دی اور پھر آرام فرمانے لگے۔([10])
محتاط زندگی:
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا اپنی روزی کو حلال اور پاک کرنے کا یہ عالَم تھا کہ جانوروں کے لیے لائی گئی سوکھی گھاس میں اگر آپ کی نگاہ گندم کے کسی خوشے پر پڑ جاتی تو خدّام سے فرماتے: اس خوشے کو وہیں رکھ آؤ جہاں سے تم نے اسے کاٹا ہے۔([11]) آپ رضی اللہ عنہ جب نَماز کے لیے باہر تشریف لاتے تو کامل رُکوع وسجود کے ساتھ مختصر نماز ادا فرماتے لیکن جب گھر میں نماز ادا فرماتے تو طویل نماز پڑھتے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: ہم قوم کے امام و راہنما ہیں لوگ ہماری پیروی کرتے ہیں۔([12])
جہادی و سیاسی کارنامے:
آپ رضی اللہ عنہ نے معرکۂ بدر، جنگِ اُحد اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہونے کا شرف پایا۔([13])امیرُ المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عراق کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا تو آپ کو اس کا امیربنایا، چنانچہ قادسیہ، عراق اور ملک فارس کے دیگر شہروں کی فتح اللہ کریم نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مقدّر فرمائی۔([14]) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ 2 مرتبہ کوفہ کے گورنر بنے جبکہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلا فت میں آپ کو ایک مرتبہ کوفہ کا گورنر بنایا۔([15]) آپ رضی اللہ عنہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ملکی معاملات اور جنگوں سے الگ تھلگ رہے۔([16])
روایات میں احتیاط:
حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایات اور مسائل بیان کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سے کوئی مسئلہ پوچھاگیا توآپ نے خاموشی اختیار کی،پھر فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں تو تم اس میں اضافہ کر کے 100حدیثیں بنا لوگے۔([17]) حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے مدینۂ منوّرہ سے مکۂ مکرّمہ تک حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا لیکن حدیث بیان کرنے میں آپ رضی اللہ عنہ کی احتیاط کا یہ عالم تھاکہ اتنے عرصے میں آپ نے فقط ایک ہی حدیث بیان فرمائی۔([18])
مرویات کی تعداد:
آپ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ 270 احادیثِ مبارکہ ہیں، بخاری ومسلم میں بالاتفاق 15ہیں، انفرادی طور پر امام بخاری رحمۃُاللہ علیہ نے 5 احادیث بخاری شریف میں جبکہ امام مسلم رحمۃُاللہ علیہ نے 18 روایات مسلم شریف میں شامل کی ہیں۔([19])
وفات مبارکہ:
بَوقتِ وفات آپ رضی اللہ عنہ نے اون کا ایک پرانا جبہ منگوایا پھر فرمایا: مجھے اسی کا کفن دینا کہ جب میں نے غزوہ ٔبدر میں مشرکین سے مقابلہ کیا تھا تو یہ میرے بدن پر تھا، اور کفن کے لیے ہی میں اسےحفاظت سے رکھتا رہا ہوں۔([20])ایک قول کے مطابق 58 ہجری میں مدینۂ منوّرہ سے دس میل دور مقامِ عقیق میں آپ رضی اللہ عنہکی وفات ہوئی پھر آپ کی نعش مبارکہ کو مدینے لایا گیا یہیں نماز جنازہ ادا کی گئی آج بھی جنّتُ البقیع کی پاکیزہ مٹی نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے دامن میں لیاہوا ہے۔([21]) آپ نے 82 سال کی عمر پائی اس دنیا سے رُخصت ہونے والے مہاجر صحابۂ کرام میں آپ رضی اللہ عنہ سب سے آخِری صحابی ہیں۔([22])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی
Comments