ککڑی
اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ”ککڑی شریف“ بھی ہے۔ اس مبارک سبزی کا ذِکر قراٰنِ کریم میں بھی آیا ہے۔ ([1]) یہ ایک معروف سبزی ہے جو لمبی، پتلی، گول اور مڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس کا رنگ ہلکا سبزی مائل سفید ہوتا ہے۔
چھوٹی ککڑی حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت پسند تھی۔([2])
نوٹ: کتبِ حدیث و لغت میں ککڑی اور کھیرے کے لیے مختلف الفاظ وارد ہیں جیسا کہ ”القثاء، قثاء الصّغار، ضغابیس، الخیار“ وغیرہ۔ شروحاتِ حدیث اور لغات کی توضیحات سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ککڑی اور کھیرا ایک ہی سبزی ہیں البتہ انواع کا فرق ہے اور کھجور کے ساتھ ملا کر کھانے میں ککڑی اور کھیرا دونوں ہی کو مراد لینا درست ہے۔ یعنی رسوُ ل اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ککڑی یا کھیرے کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا۔([3])
ککڑی میں ہر بیماری سے شفا:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ککڑی کو لازم پکڑلو کیونکہ اللہ پاک نے اس میں ہر بیماری سے شِفارکھی ہے۔([4])
ککڑی کے ساتھ کھجور ملاکر کھانا:
حضرت عبدُاللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ککڑی کے ساتھ کھجور تناول فرماتے دیکھا۔([5])
حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کھجور طبعاً گرم و خشک ہے اور ککڑی سَرد و تَر، ان دونوں کے ملنے سے اعتدال ہوکر فائدہ بڑھ جاتا ہے۔ حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ککڑی اور کھجور کو کبھی تو معدہ میں جمع فرمایا کہ بیک وقت کبھی کھجور کھائی کبھی ککڑی اور چبانے میں جمع فرمایا کہ کھجور منہ شریف میں رکھ لی اور ککڑی بھی کتر لی اور دونوں ملاکر چبائیں، کبھی کھجور اور تربوزبھی ملاکر کھائے ہیں،کھجور ککڑی ملاکر کھانا صحت کے لیے بہت ہی مفید ہے۔([6])
ککڑی پر نمک لگا کر کھانا:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ککڑی کو نمک کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔([7])
ککڑی اور کھجور ملاکر کھانے کے فوائد:
امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: کھجور اورکھیرا یا ککڑی، نیزکھجور اور تربوز ایک ساتھ کھانا سنّت ہے۔ اس میں بھی حکمتوں کے مدنی پھول ہیں۔ الحمد للہ ہمارے عمل کے لیے تو اس کا سنّت ہونا ہی کافی ہے۔اِطبّاء کا کہنا ہے کہ اس سے جنسی و جسمانی کمزوری اور دُبلاپن دُور ہوتا ہے۔([8]) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (رخصتی سے قبل میں بَہُت کمزور تھی) میری امّی جان رضی اللہ عنہا مجھے فَربہ کرنے کی کوشش کرتیں تاکہ حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس بھیج سکیں جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو انہوں نے مجھے کھجور اور ککڑی ملا کر کھلانا شروع کردی جس سے میں (چند روز میں ہی) فَربہ ہو گئی۔([9])
بارگاہِ رسالت میں ککڑی کے تحفے:
حضرت رُبَیع بنتِ مُعوِّذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک تھال میں تازہ کھجوریں اور روئیں دار ککڑیاں رکھ کر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہدیہ میں پیش کیں تو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی ہتھیلی بھر کر زیورات یا سونا مجھے عطا فرمایا اور فرمایا: اسے زیور بنا لو۔([10]) ایک صحابی کے کھیت میں لمبی ککڑی پیدا ہوئی، تحفہ کے طور پر بارگاہِ رسالت میں حاضر کی، تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے عِوَض میں ایک لپ بھر سونا عنایت فرمایا۔([11])
ککڑی کو خربوزے پر ترجیح دیتے:
حضرت محمد بن اَبو حاتِم رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ کا ایک زمین کا ٹکڑا تھا جس کا آپ ہر سال 700درہم کرایہ لیا کرتے تھے، کرایہ دار بعض اوقات امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ کے لیے ایک یا دو ککڑیاں لایا کرتا تھا کیونکہ امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ کو پکی ہوئی ککڑی بہت پسند تھی اور آپ اس کو خربوزے پر ترجیح دیتے تھے، امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ اس شخص کو ککڑی لانے کے سبب ہر سال 100درہم دیا کرتے تھے۔([12])
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نسبت کا ادب:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ ایک بار کہیں مَدْعُو (یعنی دعوت پر بلائے گئے) تھے، کھانا لگا دیا گیا، سب کوسرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے کھاناشُروع فرمانے کا اِنتِظار تھا، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے ککڑیوں کے تھال میں سے ایک قاش اُٹھائی اور تَناوُل فرمائی، پھر دوسری، پھرتیسری، اب دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی ککڑی کے تھال کی طرف ہاتھ بڑھا دیئے مگر آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے سب کو روک دِیا اور فرمایا، ساری ککڑیاں میں کھاؤں گا۔ چُنانچہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے سب ختم کردیں، حاضِرین مُتَعَجِّب تھے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ تو بہت کم غِذا اِستِعمال فرمانے والے ہیں، آج اتنی ساری ککڑیاں کیسے تناوُل فرما گئے! لوگوں کے اِسْتِفْسار پر فرمایا: میں نے جب پہلی قاش کھائی تو وہ کڑوی تھی اس کے بعد دوسری اور تیسری بھی، لہٰذا میں نے دوسروں کوروک دِیا کہ ہو سکتا ہے کوئی صاحِب ککڑی مُنہ میں ڈال کر کڑوی پا کر تُھو تُھو کرنا شُروع کردیں، چُونکہ ککڑی کھانامیرے میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مُصْطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سُنَّتِ مُبارَکہ ہے اِس لیے مجھے گوارا نہ ہوا کہ اِس کو کھا کرکوئی تُھو تُھو کرے۔([13])
ککڑی کے فوائد:
ککڑی کا مِزاج دوسرے دَرَجے میں سَرد وتَر ہے۔([14])* ککڑی نظامِ ہاضمہ کو نَرم اور بہتر بناتی ہے، جس سے قبض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے*ککڑی کو کھانے کے دوران بطورِ سلاد استعمال کرنا مفید ہے *ککڑی جسم سے فاسد مادے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے *چھوٹی ککڑی جس پر رُواں ہوں وہ بہت نرم اور فائدہ مند ہوتی ہے *ککڑی تیزابیت (سینے کی جلن) کے لیے مفید ہے *ککڑی کھانے سے جگر اور معدے کی گرمی دور ہوتی ہے *بھوک بڑھاتی ہے *صفرا کو دُور کرتی ہے *ککڑی میں پوٹاشیم کے اَجزاء کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جو بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں *ککڑی موسمِ گرما کی سبزی ہے اسے گرمی کے موسم میں ضَرور استِعمال کرکے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے *ککڑی پیاس بجھاتی ہے *گرمی سے ہونے والی پیشاب کی تکلیف میں ککڑی کاٹ کر اس کے اوپر لیموں کا رس اور کالا نمک چھڑک کر کھانے سے اِن شآءَ اللہ الکریم فائدہ ہوگا *ککڑی کے یہ سارے فوائد بغیر پکائے چھلکے کے ساتھ کھانے میں ہی ہیں کیونکہ چھلکا اتارنے اور پکانے سے اس کے بہت سے فائدے ضائع ہوجاتے ہیں۔([15])
نوٹ: ہر غذا اور دوا اپنے ڈاکٹر یا حکیم کے مشورے سے ہی استعمال کیجیے۔نیز اس مضمون کی طبّی تفتیش حکیم رضوان فردوس نے فرمائی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments