بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے قربانی


(1)بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کرنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی صاحب نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کر رہی میں نے اس کو سمجھایا بھی ہے، لیکن وہ نہیں مان رہی۔میں نے اس سے کہا کہ چلو پھر میں تمہاری طرف سے قربانی کر دوں گا۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہو رہی کیونکہ میں نے پہلے ہی کئی لوگوں کا لاکھوں میں قرض ادا کرنا ہے، اس لیے وہ مجھے منع کر رہی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں بیوی کو بتائے بغیرہی اس کی طرف سے قربانی کر دوں۔اگر میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میری بیوی کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے کےلیے اس دوسرے شخص کی اجازت ضروری ہے چاہے یہ اجازت صراحتاً یعنی واضح الفاظ میں ہو یا دلالۃً یعنی Understood ہو۔ اگر کسی کی طرف سے واضح انکار ہو تو قربانی نہیں ہوگی۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بھی آپ کی بیوی کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً اجازت نہیں ہے، بلکہ واضح الفاظ میں منع کر رہی ہے، اس لیےبیوی کی اجازت کے بغیربیوی کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں بیوی کا واجب ادا نہیں ہوگا۔

(فتاویٰ ہندیہ، 5/302-ردالمحتار، 9/524-فتاویٰ رضویہ،20/453-بہارِ شریعت، 3/350-ابلق گھوڑے سوار،ص9)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)مخصوص ایام  میں نیتِ احرام اور دیگر مناسک حج کا مسئلہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون حجِ تمتع کے لیے آئی عمرہ کر کے احرام کھول چکی تھی آٹھ ذی الحجہ کو اس عورت کو ماہواری شروع ہوگئی ہے۔ تو کیا وہ اسی ماہواری میں ہی حج کے احرام کی نیت کرکے مِنیٰ عرفات وغیرہ جاسکتی ہے ؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حج کا احرام باندھنے کے وقت عورت حائضہ ہو جائے، تو وہ بھی دیگر حاجیوں کی طرح حج کے احرام کی نیت کر کے منی روانہ ہوگی۔سنت یہ ہے کہ عام حجاج کی طرح نظافت کی خاطر غسل کر کے پھر نیت کرے۔اگرچہ اصل غسل تو اس کو پاکی کے وقت کرنا ہوگا۔یہ عورت سوائے طواف زیارت کے سب افعال حج ادا کرے گی طواف زیارت پاک ہونے پر ادا کرے گی۔(تنویر الابصار متن درِ مختار،3/630-حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، 1/513- فتاویٰ فقیہ ملت،1/357)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی


Share