مطالعۂ شروحاتِ حدیث کی ضَرورت و اہمیّت
عمر فاروق عطّاری
(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی)
ہم سب جانتے ہیں کہ قراٰنِ پاک کے بعد ہدایت کا دوسرا بڑا ذریعہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث ہیں۔ لیکن یہاں ایک بہت نازک مسئلہ ہے جس کی طرف اکثر دھیان نہیں دیا جاتا۔ وہ یہ کہ کیا حدیث کے صرف الفاظ پڑھ لینا یا سادہ اردو ترجَمہ دیکھ لینا کافی ہے؟ اگر ہم انصاف سے جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ دین کی اصل سمجھ بوجھ کے لیے صرف ”متنِ حدیث“ کافی نہیں، بلکہ اس کی شرح (Explanation)کا مطالعہ بھی بے حَد ضَروری ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص میڈیکل کی کتاب سے صرف دَوائی کا نام پڑھ کر استعمال کر لے تو نقصان اُٹھا سکتا ہے، اسے ڈاکٹر کی تشریح و وضاحت کی ضَرورت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح، احادیثِ مبارَکہ کے الفاظ میں معانی کا ایک سمندر چھپا ہوتا ہے۔ بعض اوقات حدیث کا حکم کسی خاص وقت یا خاص بندے کے لیے ہوتا ہے، جسے ”شانِ ورود“ کہتے ہیں۔ اگر ہم شرح نہیں پڑھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہم اس حدیث کا غلط مطلب سمجھ بیٹھیں۔
اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بھی ہمیں یہی اُصول سکھایا ہے کہ اگر خود نہیں جانتے تو جاننے والوں سے رُجوع کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمۂ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔ (پ14، النحل: 43)
شروحاتِ حدیث دراصل علم والوں(محدثین اور فقہاء) کی محنت کا نچوڑ ہیں۔ جب ہم مراٰۃُ المناجیح، اشعۃُ اللمعات یا نزہۃُ القاری جیسی شروحاتِ حدیث پڑھتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرمان کا اصل مقصد کیا تھا؟ کون سی حدیث ناسِخ ہے اور کون سی منسوخ؟ ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیاں لگا کر یہ موتی جمع کیے ہیں تاکہ ہم بھٹک نہ جائیں۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اس شخص کے لیے دعا فرمائی ہے جو بات کو سن کر اسے آگے پہنچائے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ بہت سے لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:
اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور پھر اسے یاد کر لیا اور آگے پہنچایا جیسا سنا تھا۔ کیونکہ بہت سے لوگ جن تک بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔
(ترمذی، 4/298، حدیث: 2665)
اس حدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ الفاظ ِ حدیث یاد کرنے کے ساتھ ساتھ بات کی تہہ تک پہنچنا چاہیے اور بات کی تہہ تک پہنچنے کا واحد ذریعہ مستند شروحات کا مطالعہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادات اور عقائد درست رہیں اور حدیث کی مکمل اور دُرست معلومات ملیں تو ہمیں چاہیے کہ حدیث کے مطالعے کے دوران اس کی مستند شروحات کو بھی اپنے مطالعے کا حصّہ بنائیں۔
اللہ پاک ہمیں علمِ دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments