علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی علیہ الرحمہ


سوانح حیات استاذالعلماء فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ


استاذالاساتذه فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  بن استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ہاشم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کی ولادت باسعادت 16 ربیع الآخر 1305ھ بروز اتوار بوقت صبح گڑھی یاسین ضلع شکارپور سندھ میں ہوئی۔ ([1])

تعلیم و تربيت:

استاذالاساتذه فقیہ العصر علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  نے درس نظامی کی تمام کتب اپنے والد گرامی استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ہاشم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کے پاس پڑھیں اور ان کے وصال کے بعد آخری دو تین کتب برصغیر کے فقیہ اعظم رئیس العلماء سند الفقہاء علامہ عبدالغفور مفتون ہمایونی  علیہ الرحمہ  کے پاس ہمایوں شریف میں پڑھیں اور 1323ھ میں یہیں سے دستارِ فضیلت پہنی۔([2])

درس و تدريس:

مولانا محمد حسین کہاوڑ  علیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ آپ  علیہ الرحمہ  کے پاس مکران، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے دور دراز علاقوں سے طالب علم دینی تعلیم حاصل کرنے آتے اور فیضیاب ہوکر لوٹتے۔([3])علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں سے کوئی بھی  ان کا ہم پلہ نہ تھا انہیں فقہ کے مسائل حل کرنے اور فتویٰ نویسی میں مہارت حاصل تھی، علامہ عبدالغفور مفتون ہمایونی  علیہ الرحمہ  کے وصال کے بعد بلوچستان اور جنوبی سندھ کے لوگ فتویٰ کے لیے آپ کے پاس آتے تھے اس کے ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بھی  جاری تھا۔([4])

تصنیف و تاليف:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کی تصانیف میں (1)فتاویٰ قاسمیہ، آپ کے تحریر کردہ فتاویٰ جات کا مجموعہ(2)رسالہ عقائد نامہ اہلسنت، اہلسنت کے عقائد کے متعلق تحریر کردہ رسالہ(3)عمدة الآثار فی تذکرة الاخیار الکتبار، مشائخ درگاہ کٹبار شریف بلوچستان کے بزرگوں کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب(4)دربارہ تقلید (5)الفاظ القرآن با معنی فارسی(6)مجموعہ اشعار کا ذکر ملتا ہے۔([5])

بیعت:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  غوث الزمان حضرت خواجہ عبدالرحمان صاحب مجددی نقشبندی فاروقی قدس سرہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے۔([6])

تلامذہ:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کے تلامذہ کی فہرست میں کثیر علماء کے نام شامل ہیں جن میں سے چند کے نام یہ ہیں، استاذالعلماء علامہ مفتی محمد ابراھیم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  آپ کے چھوٹے بھائی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد صاحبداد خان صاحب جمالی  علیہ الرحمہ  سلطان کوٹ، مولانا احمد صاحب  علیہ الرحمہ  قاضی مکران بلوچستان، مولانا نصير الدين صاحب  علیہ الرحمہ  شہدادکوٹ، مولانا محمد حسين کہاوڑ جیکب آباد، مولانا میاں فخر الدین صاحب  علیہ الرحمہ  کٹبار شریف بلوچستان، صاحبزادہ عبدالغفار جان سرہندی و صاحبزادہ غلام احمد جان سرہندی رحمہم اللہ ٹنڈو محمد خان وغیرہ۔([7])

شعر و شاعری:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے عارف کامل سید احمد خالد شامی  علیہ الرحمہ  جو خود بلند پائے کے شاعر تھے وہ بھی آپ  علیہ الرحمہ  کے اشعار سن کر آپ کو داد دیتے تھے، آپ  علیہ الرحمہ  عربی زبان فصاحت کے ساتھ بولتے تھے جس کے خود اہل عرب بھی  معترف تھے، ایک بار سید جمال الدین جیلانی سید عبدالرحمان (سجادہ نشین خانقاہ عالیہ حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ ) کے فرزند علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کی فصیح عربی زبان سن کر بے انتہا محظوظ ہوئے اور حاضرین مجلس کو کہنے لگے میں نے قلات سے لیکر سو رت تک سارا ہندوستان دیکھا ہے لیکن ان جیسا عالم کہیں نہیں دیکھا، شاعری میں آپ  علیہ الرحمہ  کا تخلص”قاسم “ تھا، آپ  علیہ الرحمہ  نے سندھی کے علاوہ عربی و فارسی زبان میں بھی  شاعری کی ہے، آپ  علیہ الرحمہ کی شاعری میں قصائد، قطعات، غزلیات، مراثی تاریخیہ، منظومات و مناجات شامل ہیں۔([8])

وصال:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  نے 44 برس کی عمر میں 18 ذوالقعدۃ الحرام 1349ھ مطابق 1929ء کو اس عالم فانی سے وصال فرمایا، آپ کی نمازِ جنازہ آغا عبدالستار جان سرہندی  علیہ الرحمہ  نے پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں آپ کے تلامذہ و عقیدت مند شریک ہوئے۔([9])

صاحب تکبیر کا لقب:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ  کو صاحب تکبیر بھی  کہا جاتا ہے وہ اس لیے کہ جب آپ کی نمازِ جنازہ پڑھی جارہی تھی جیسے ہی امام صاحب نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت آپ  علیہ الرحمہ  کے جنازے سے بھی اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی۔([10])

مزار شریف:

علامہ مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی  علیہ الرحمہ کا مزار شریف گڑھی یاسین ضلع شکارپور میں واقع ہے، اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مجلس رابطہ بالعلماء و المشائخ



([1])مہران سوانح نمبر،ص118

([2])مختصر سوانح حیات مفتی محمد قاسم گڑہی یاسینی،ص7

([3])مختصر سوانح مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی ص7، 8

([4])تذکرہ مشاہیر سندھ،ص257

([5])انوار علمائے اہلسنت سندھ،ص 803

([6])مہران سوانح نمبر،ص 120

([7])انوار علماء اہلسنت سندھ،ص803، 804

([8])مہران سوانح نمبر،ص 120- انوار علمائے اہلسنت سندھ،ص 804

([9])مختصر سوانح حیات مفتی محمد قاسم گڑھی یاسینی،ص 25

([10])انوار علمائے اہلسنت سندھ،ص 804


Share