چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی


چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی

ہمارے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا ہر معجزہ ایمان میں تازگی اور عقیدت  و محبّت میں اضافے کا ذریعہ ہے خصوصاً ان  مواقِع کےمعجزات جب بظاہرحالات انتہائی دشوار ہوں، وسائل کم ہوں اور دشمن طاقتور ہو، وہاں حُضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پاک کی مدد کے ساتھ کوئی رکاوٹ، کوئی مشکل اور کوئی طاقت ناقابلِ شکست نہیں رہتی۔آئیے! ایسا ہی ایک معجزہ  ملاحظہ کیجیے:

یہودیوں نے اسلام دشمنی کی بنیاد پرخیبر کے کافروں کے علاوہ کئی دوسرے قبائل میں جاجاکر اسلام کے خلاف لشکر کشی کے معاہدے کیے اور مختلف قبیلوں کو اسلام کے مقابلے میں اپنے ساتھ متّحد کر لیا جب حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو معلوم ہوا تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ان سے مقابلے کے لیے خندق کھودنے کا حکم دیا اس موقع پر جو جنگ ہوئی اسےجنگِ خندق  کہا جاتا ہے۔  حضرت بَرَاء بن عازب رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: جب رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے خندق کھودنے کا حکم دیا، تو کھدائی کے دوران ایک بہت بڑی اور نہایت سخت چٹان  نکل آئی  جس پر کدالیں اثر نہیں کر رہی تھیں، ہم نے نبی ِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں فریاد کی ، رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تشریف لائے، اس چٹان کو دیکھا تو اپنی چادر اُتار دی، کدال لی اور   بسم اللہ  پڑھ کر ضرب (چوٹ)لگائی تو چٹان کا ایک تہائی حصّہ ٹوٹ گیا۔آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اللہ اکبر! مجھے شام کی کنجیاں عطا ہوگئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں اس وقت شام کے سُرخ محلّات (یعنی رومی سلطنت کے شاہی محلّات) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں پھر دوسری ضرب لگائی تو دوسرا تہائی حصّہ بھی ٹوٹ گیا، فرمایا: اللہ اکبر! مجھے فارس کی کنجیاں عطا ہوگئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں اس وقت مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں پھر آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  بسم اللہ   پڑھ کر تیسری ضرب لگائی  تو چٹان کا بقیہ حصّہ بھی ٹوٹ گیا ، فرمایا: اللہ اکبر! مجھے یمن کی کنجیاں عطا ہوگئیں اور اللہ کی قسم! میں اس وقت صَنعاء  (یعنی یمن کے دارُالحکومت) کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔(دیکھیے: تاریخ بغداد، 1 / 142)

سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو کیسی طاقت وقوّت عطا فرمائی کہ جو چٹان صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم   سے نہ ٹوٹ سکی آپ نے اُسے ریزہ ریزہ کر دیا، اور کیسی بصارت عطا فرمائی کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مدینۂ منورہ سے شام، ایران اور یمن کے شاہی محلّات دیکھ کر مستقبل میں ان کے فتح کی خوشخبری بیان فرمائی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔یہ یقیناً آپ کا عظیم معجزہ تھا۔  اس سے چند باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:

*اللہ پاک کی راہ میں پیش آنے والی رُکاوٹیں دراصل بڑی کامیابی کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

*مشکل حالات میں قائد کا خود میدانِ عمل میں آ جانا ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔

*جب ہم سے کوئی اپنی مشکل کی فریاد کرے اور مدد کی توقع رکھے  بِالخصوص چھوٹے یا ماتحت افراد تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے اور اُمید پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

*نیک و جائز کام سے پہلے اللہ پاک کا نام لینا اس کام میں کامیابی و بَرکت کا باعث ہوتا ہے۔

*اللہ پاک چاہے تو  معمولی اسباب سے بھی عظیم نتائج پیدا فرما دیتا ہے۔

*اصل کامیابی طاقت و وسائل  سے نہیں اللہ کی مدد سے ملتی ہے۔

*پریشانی کے عالَم میں اُمید و کامیابی کی بات کرنا اعلیٰ قیادت کی علامت ہے۔

*حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   صرف مسائل ہی حل نہیں فرماتے تھے بلکہ دلوں کو بھی راحت و مسرت عطا فرمایا کرتے تھے۔

*وقت آنے پر حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا کرتیں۔

*بڑے مقاصد کے حُصول کے لیے صبر، حوصلہ، محنت اور اللہ پاک  پر  بھروسا ضَروری ہے۔

*اللہ پاک اپنے مقرّب بندوں کو وہ مناظر دکھا دیتا ہے جو عام آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔

*حق پر قائم رہنے والوں کے لیے مستقبل کی فتوحات پہلے ہی طے ہو چکی ہوتی ہیں۔

*اللہ پاک کی قدرت کے سامنے مضبوط سے مضبوط چٹان بھی ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share