حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما


حضرت عبداللہ بن عامر  رضی اللہ عنہما


 کم عمری میں جن خوش نصیب بچّوں کو اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا صحابی ہونے کا شرف ملا اُن میں حضرت عبدُاللہ بن عامر   رضی اللہ عنہما  بھی شامل ہیں، آئیے! ان کے بچپن کے بارے میں پڑھ کر اپنے دِلوں کو محبّتِ صحابۂ کرام سے روشن کرتے ہیں:

مختصر تعارف:

آپ حضرت عامر بن کُریز اور حضرت دجاجہ بنتِ اسماء بن الصلت کے بیٹے اور مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی کے ماموں زاد بھائی ہیں، آپ کی ولادت 4ہجری میں مکّۂ مکرّمہ میں ہوئی( رضی اللہ عنہ م اجمعین)۔([1])

حُضور نے دَم کیا اور گُھٹی دی:

رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جب عمرۂ قضا کے لیے سِن 7ہجری میں مکۂ مکرمہ تشریف لائے، تو حضرت عبداللہ کو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، اس وقت حضرت عبداللہ بن عامر 3سال کے تھے، حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کو گھٹی دی، آپ کے منہ میں اپنا لُعابِ دہن ڈالا، آپ پر دَم کیا اور فرمایا: یہ ہمارا بیٹا ہے اور تم سب سے زیادہ ہمارے مشابہ ہے۔([2])

روایتِ حدیث:

 آپ  رضی اللہ عنہ  سے حدیث شریف بھی مروی ہے،([3]) چنانچہ آپ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی وجہ سے مار دیا جائے تو وہ شہید ہے۔([4])

مشہور مفسّر حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: چور یا ڈاکو یا کسی اور ظالم نے اس کا مال چھیننا چاہا اُس نے دفاع کے طور پر اُس سے جنگ کی اور مارا گیا تو یہ شخص شہید ہوگا کہ ظلماً قتل ہوا ہے۔([5])

وصال:

 حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے  وصالِ ظاہری کے وقت آپ  رضی اللہ عنہ  تقریباً7سال کے تھے۔  آپ  رضی اللہ عنہ  کا وصال حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے دورِ خلافت میں سِن59ہجری میں ہوا۔([6])

اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])طبقات ابن سعد، 5/32، 33

([2])دیکھئے: طبقات ابن سعد، 5/33-الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، 5/14

([3])سیر اعلام النبلاء، 4/215

([4])مستدرک للحاکم، 8/304، حدیث:6842

([5])مراٰۃ المناجیح، 5/250

([6])دیکھئے: طبقات ابن سعد، 5/36-اعلام للزرکلی، 4/94


Share