(1)قرض کہہ کر زکوٰۃ دی تو کیا حکم ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدنےمستحقِ زکوٰۃ شخص بکر کوقرض کہہ کر زکوٰۃ کی رقم دی جبکہ دیتے وقت اس کے دل میں زکوٰۃ کی ادئیگی کی نیت تھی تو کیا زید کی زکوٰۃ ادا ہو گئی؟نیز اگر کچھ عرصہ بعد بکر قرض کی واپسی کے ارادے سے زید کی دی ہوئی رقم زید کو لوٹانا چاہےاور زید کو اس وقت پیسوں کی حاجت بھی ہو تو کیا زید کا اس رقم کو لینا جائز ہے؟ کیونکہ بکر نے تو رقم قرض سمجھ کر ہی لی تھی۔
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں زید کی زکوٰۃ ادا ہوگئی،لیکن زید کا وہی رقم بعد میں بکر سے واپس وصول کرلینا شرعاً جائز نہیں۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ دیتے وقت یا زکوٰۃ کے لیے رقم علیحدہ کرتے وقت اگر دل میں زکوٰۃ کی نیت موجود ہو تو مستحقِ زکوٰۃ شخص کو یہ بتاناضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے بلکہ اس صورت میں قرض کہہ کر بھی زکوٰۃ دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کہ شرعاً دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اب لینے والا کس نیت سے لے رہا ہے شرعاً اس کا اعتبار نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ شرعی فقیر قرض سمجھ کر بعد میں وہ رقم لوٹانے آئے تو اب زکوٰۃ میں دی گئی رقم کا واپس لینا جائز نہیں ہوگا کہ زکوٰۃ سے مراد محض اللہ عزوجل کی رضا کے لیے شریعت کی جانب سے مقرر کردہ مال کو اپنا ہر قسم کا نفع ختم کرکے مستحقِ زکوٰۃ کو اُس مال کا مالک بنادینا ہے، واضح ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں زید کا بکر سے وہی رقم واپس وصول کرلینا شرعاً جائز نہیں۔
سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن فرماتے ہیں:”اِس (زکوٰۃ) میں اعتبار صرف نیّت کا ہے اگرچہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے، مثلاً دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔“(فتاویٰ رضویہ،10/67)
فتاویٰ امجدیہ میں سوال ہوا کہ ایک شخص نے کسی مسکین کو زکوٰۃ کی نیت سے قرض کہہ کر مال دیا مدت دراز کے بعد وہ شخص قرض سمجھ کر واپس دینے آیااور اب یہ شخص بھی مفلس ہے تو کیایہ شخص اس مال کو لے سکتا ہے؟توصدر الشریعہ رحمۃُ اللہ علیہ نے جوابا ارشاد فرمایا:’’جب کہ اس نے بہ نیتِ زکوٰۃ یہ رقم دی تھی تو اسے واپس لینا جائز نہیں حدیث مبارکہ میں فرمایا ولا تعد فی صدقتک اس پر لازم ہے کہ یہ رقم واپس کر دے اب اگر یہ شخص زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے تو دوسرے کی زکوٰۃ لے سکتا ہے نہ یہ کہ جو زکوٰۃ خود دے چکا اس کو واپس لے۔‘‘ (فتاویٰ امجدیہ،1/389)
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2)کرایہ دار پر متعین افراد کی رہائش کی شرط لگانا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے تین کمروں اور ایک لاؤنج پر مشتمل مکان کرایہ پر لیا، اور کرایہ پر لیتے وقت مالکِ مکان نے یہ شرط رکھی کہ یہ مکان صرف چار افراد کی رہائش کے لیے دیا جا رہا ہے، اس سے زائد افراد اس میں نہیں رہ سکتے تاکہ گھر کا رنگ و روغن زیادہ عرصے تک چل سکے۔ اب اگر زید چار سے زائد افراد کو اس گھر میں ٹھہراتا ہے جبکہ ان کے رہنے کے لیے گھر میں جگہ بھی موجود ہو، نیز بجلی و گیس کے بل بھی زید خود ادا کرتا ہو، تو کیا ایسی صورت میں زیدمالکِ مکان کی خلاف ورزی کرنے کے سبب گناہ گار ہوگا،اور کیا چار سے زائد افراد ٹھہرانے کے سبب زید پر اضافی کرایہ دینا بھی لازم ہوگا؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کرایہ پر کوئی چیز حاصل کرنے والا اس کی منفعت کو معروف طریقے سے استعمال کرنے میں آزاد ہوتا ہے اور اسے ایک عارضی ملکیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی چیزیں جو مختلف افراد کے استعمال سے کوئی مختلف کیفیت اختیار نہیں کرتیں، اُن میں یہ شرط لگانا کہ اِتنے لوگ استعمال کریں اس سے زیادہ لوگ اس کو استعمال نہ کریں، معتبر نہیں ہوتا بلکہ یہ شرط باطل شمار ہوتی ہے۔لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید اگر مالک مکان کی مقرر کردہ تعداد سے زائد افراد کو اپنے ساتھ وہاں ٹھہراتا ہے تو اس پر کوئی اضافی کرایہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ شرط ہی شرعاً غیر معتبر ہے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ عرف سے تجاوز نہ کرے، مثلاً رہائشی گھر کو کوئی مسافر خانہ بنادے جس میں روز نئے نئے لوگ وہاں ٹھہرتے رہیں۔ایسے امور میں مالک کو اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔کیونکہ عام گھر اور مسافر خانے کے استعمال میں بہت فرق ہے۔
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرَّحمہ بہارِ شریعت میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ جن چیزوں کے استعمال میں اختلاف نہ ہواُن میں یہ قید لگانا کہ فلاں شخص استعمال کرے بیکار ہے جس کو متعین کردیا ہے وہ بھی استعمال کرسکتا ہے اور دوسرا بھی استعمال کرسکتا ہے مثلاًمکان میں یہ شرط لگانا کہ اس میں تم خود رہنا دوسرے کو نہ رہنے دینا یاتم تنہا رہنا یہ شرطیں باطل ہیں۔‘‘(بہارِ شریعت،3/129)
اسی طرح دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ’’ سکونت ایسی چیز ہے کہ ساکن کے اختلاف سے مختلف نہیں ہوتی۔ دکان یا مکان کو کرایہ پر لیا اُس میں خود بھی رہ سکتا ہے دوسرے کوبھی رکھ سکتا ہے مفت بھی دوسرے کو رکھ سکتا ہے کرایہ پر بھی اگرچہ مالک مکان یادکان نے کہہ دیا ہوکہ تم اس میں تنہا رہنا۔‘‘(بہارِ شریعت، 3/122)
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(3)شراکت داری کے اختتام پر شریک سے اس کا حصہ خریدنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شر عِ متین اس مسئلے میں کہ میں نے ایک شخص کے ساتھ کنفیکشنری کا کاروبار شراکت داری میں کیا۔میں نے انیس لاکھ روپے سرمایہ لگایا اور شریک نے بھی اتنی ہی رقم لگائی۔نفع و نقصان میں بھی دونوں کا آدھا آدھا حصہ تھا،البتہ کام میں کرتا تھا دوسرا شریک کام نہیں کرتا تھا۔کچھ عرصہ بعد ہمارے درمیان کچھ اختلاف ہوا جس کی وجہ سےمیرا شریک شراکت داری کامعاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے۔اور جو شرکت کا سامان ہے وہ باہمی رضا مندی سے میں خریدنا چاہتا ہوں، سامان کی کل مالیت پچیس لاکھ روپے بنی ہے۔کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اس میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں ہے؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: اگر شرکت کا سرمایہ سامان کی صورت میں موجود ہو اور فریقین اسی حالت میں شرکت ختم کرنا چاہیں تو ایسا کرنا درست ہے۔ شراکت داری کا معاہدہ ختم کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہےکہ مالِ شرکت نقد کی صورت میں تبدیل ہوچکا ہو۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شراکت داری کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد باہمی رضامندی سے ایک شریک دوسرے شریک کا حصہ خریدنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو اس کے حصہ کے پیسےدے کر خرید سکتا ہےاس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اورشرکت میں نقصان سے متعلق اصول یہ ہے کہ یہ دونوں فریقین کے مال کے تناسب کے اعتبار سےہوگا۔ اگر شرکت میں دونوں فریقین کا مال برابر ہو جیسا کہ سوال میں ذکر کردہ صورت میں ہے اور نقصان ہوجائے تو فریقین میں برابر تقسیم ہوگا۔
وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی
Comments