مرنے والا کیا کہتا ہے؟
(?What Does the Deceased Say)
بخاری شریف میں ہے :اللہ پاک کے آخری نبی، مکّی مدنی، محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اِذَا وُضِعَتِ الجِنَازَةُ، فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى اَعْنَاقِهِمْ، فَاِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، قَدِّمُونِي، وَ اِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا، اَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ اِلَّا الاِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الاِنْسَانُ لَصَعِقَ
ترجمہ:جب جنازہ رکھ دیا جائے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیں، اگر مرنے والا نیک انسان ہو تو کہتا ہے: مجھے آگے بڑھاؤ، مجھے آگے بڑھاؤ اور اگر نیک نہ ہو تو کہتا ہے: ہائے بربادی! تم اس جنازے کوکہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے علاوہ ہر چیز اُس کی آواز سنتی ہے، اگر انسان اسے سن لے توبےہوش ہو جائے۔ ([1])
الفاظ حدیث کی مختصر وضاحت
اِذَا وُضِعَتِ الجِنَازَةُ:’’جنازہ‘‘ کا لفظ میت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور اس چارپائی پربھی جس پر میت (مرنے والے)کو اٹھایا جاتا ہے۔([2])مراد یہ ہے کہ جب میت کولوگوں کے سامنے چارپائی پر رکھ دیا جائے تاکہ وہ اپنے کندھوں پر اُٹھا کر قبرستان لے جائیں۔([3])
قَدِّمُونِي، قَدِّمُونِي: یعنی مجھے جلدی میرے ٹھکانے تک پہنچاؤ، کیونکہ میّت جنت میں اپنے بلند درجے دیکھ رہی ہوتی ہے۔([4])ظاہر یہی ہے کہ مُردہ بزبانِ قال یہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نَزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے، اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے۔ اس لیے کہتا ہے: جلدی پہنچاؤ۔([5])حضرت علامہ مُلّا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں: اللہ ربُّ العالمین اس بات پرقادرہے کہ وہ مُردے کو اس طرح زندہ کردے جس طرح قبرمیں سوال جواب کے لیے زندہ کرتا ہے اورسرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ منکرنکیر کے قبر میں آنے سے پہلے مردہ سنتاہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : مردہ دفن کرکے جانے والوں کی جوتوں کی آوازسنتا ہے پھر اس کے پاس ( منکرنکیر) دو فرشتے آتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابو سعیدخُدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا : میت اپنے غسل دینے والے، اٹھانے والے، کفن دینے والے اور قبر میں اُتارنے والے سب کو پہچانتی ہے۔([6])
يَا وَيْلَهَا: اس کا مطلب ہے: ہائے اس جنازے کی تباہی۔ ([7]) اصل یہ يَا وَيْلِی ہونا چاہیے تھا یعنی ’’ہائے میری بربادی“ تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟ لیکن یہاں ضمیر غائب”ھا“ لائی گئی ہے کیونکہ جب میّت دیکھتی ہے کہ وہ نیک نہیں تو گویا وہ اپنے آپ سے نفرت کرتی ہے اور اپنی ذات کو جنازہ سے الگ تصور کرتی ہے اور ”ہلاکت“ کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا ناپسند کرتے ہوئے جنازے کے بارے میں کہتی ہے: تم اسے کہاں لے جارہے ہو؟اورمیت ” يَا وَيْلَهَا “ اس لیے کہتی ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نیکی آگے نہیں بھیجی اور یہ کہ اب وہ ایسے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے جو اسے ناپسند ہے، اس لیے وہ اس طرف جانے کو برا سمجھتی ہے۔([8])
يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ: اس کی آواز ہر چیز سنتی ہےحتّی کہ بےجان چیزیں بھی سوائے انسان کے،اس کو یہ آواز نہیں سنائی دیتی۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہ بات حقیقتاً ہوتی ہے،مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ”سننے“ سے مراد ”سمجھنا“ ہو، جیسا کہ قراٰنِ کریم میں ہے:
وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
لَوْ سَمِعَهَا الاِنْسَانُ لَصَعِقَ: یعنی مرنے والاایسی خوفناک آواز سے چیختا ہے کہ اگر کوئی انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے یا مرجائے۔([10]) انسان کو یہ آواز نہ سنوانے میں حکمت یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کا نظام قائم نہ رہے اور ایمان ”غیب“ کے بجائے ”مُشاہَدہ“ بن جائے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر دنیا میں بےخبر اور غافل لوگ نہ ہوں تو دنیا کا نظام ٹوٹ جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا: غفلت ہی انسان کو دنیا سے سفر کو روکے رکھتی ہے۔([11]) مراٰۃ المناجیح میں ہے: ”اگر مردے کی یہ آواز انسان سن لیں تو وہ بےہوش ہوجائیں“ مردے کی یہ آواز جانور، فرشتہ، کنکر، پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولاً تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں۔ دوسرے اس پر ایمان بِالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بِالغیب نہ رہے۔([12])
خلاصہ
نیک و صالح انسان وفات کے بعد اپنی آخری منزل کی طرف جانے کے لیے بیتاب ہوتا ہے جبکہ گنہگار و بَدکار کافر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے ہیبت و خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔([13])
سوچنے کی بات
قارئین! 60،50،40،30،20،10 یا 70 سال جتنی زندگی ہم نے گزار نی تھی گزار لی،اب مزید کتنے منٹ، گھنٹے، دن مہینے یا سال جئیں گے؟ یہ ہمارے مالک و پروردگارکو معلوم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لمحۂ موجود میں ہم اپنی گزشتہ زندگی کے ریکارڈ کو کلین اینڈ نیٹ کرلیں،اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرلیں اور آئندہ زندگی کو ان احکامات کے تحت بسر کریں جو اللہ ورسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں دئیے ہیں۔
ایک مثال
جس کواپنی اچھی کارکردگی پر انعام وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر بلایا جائے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور تیزتیز قدموں سے اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے، اس کے برعکس سزائے موت کے قیدی کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جائے تو اس کے قدم مَن مَن بھر کے ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے چلنا دُوبَھر ہوجاتا ہے،بعضوں کو تو عملے کے لوگ دونوں کندھوں سے اٹھاکر پھانسی گھاٹ کی طرف لے کر جاتے ہیں،قیدی کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ اسے اپنا انجام دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔
تصور کیجئے:
اپنی ذہن سازی کے لیے اس حدیثِ پاک کو اپنی ذات پر یوں نافذ کرکے دیکھئے کہ ایک دن آپ کا بھی جنازہ اُٹھے گا اور اس کے بعد دوآپشن ہوں گے؛(1)آپ خوشی خوشی کہیں گے مجھے میری قبر تک جلد ی جلدی لے چلو کیونکہ آپ کو اپنی قبر کے حالات اچھے، بارونق اور راحتوں والے دکھائی دے رہے ہوں گے، یا (2)آپ روتے بِلْبِلاتے، چیختے چلاتے اپنے اہلِ خانہ اور جنازہ اٹھانے والوں سے کہیں گے کہ مجھے کہاں لے جارہے ہو ؟کیونکہ آپ کو قبر کی ہولناکیاں نظر آرہی ہوں گی۔یہ آوازاتنی خوفناک ہوگی کہ اگر دوسرے انسان سن لیں تو بے ہوش ہوجائیں،ان کی جان بھی جاسکتی ہے،تو خود آپ کا کیا حال ہوگا؟
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کون سا آپشن منتخب کرنا ہے ’’مجھے جلدی جلدی لے چلو‘‘ والا یا ’’مجھے کہاں لے جارہے ہو‘‘ والا؟ یقیناًہم میں سے ہر ایک پہلے آپشن کو چُنے گا۔اس کے لیے ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو راضی کرنا ہوگا اور اس کے لیے نیکیوں کو اپنانا اور گناہوں کو چھوڑنا ہوگا۔اس میں آسانی کےلیے دینی کتابوں کا مطالعہ کیجئے، نیک صحبت اختیار کیجئے۔اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامی کا ماحول اس میں بہت مُفید،ضروری اور مُعاوِن ہے،اس انٹرنیشنل دینی تنظیم کو جوائن کرلیجئے،اِن شآءَ اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
دعا ہے کہ اللہ ربُّ العالمین ہم سے راضی ہوجائے اور بےحساب و کتاب مغفرت وبخشش سے نواز دے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* استاذ المدرسین، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments