حضرت یوسف علیہ السَّلام تخت سلطانی پر(قسط:05)
یوسف علیہ السلام تخت سلطانی پر
پھر حضرت یوسف علیہ السَّلام بادشاہ کےساتھ رہنے لگے تقریبا ً ایک سال بعد بادشاہ نے ملک کے تمام معاملات، تاج و تخت اور خزانے آپ کے سپرد كردئیےآپ نے ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا اور عدل و انصاف کا دَور دورہ کردیا([1]) حضرت یوسف علیہ السَّلام نے قحط سالی کے دنوں کے لیے غلّوں کے ذخیرے جمع کرنے کی تدبیر فرمائی، اس کے لیے بہت وسیع اور عالی شان گودام تعمیر فرمائے اور کثیر ذخائر جمع کئے۔
زمانہ قحط شروع ہوگیا
جب فَراخی کے سال گُزر گئے اور قحط کا زمانہ آیا توآپ علیہ السَّلام نے بادشاہ اور اس کے خادموں کے لیے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا مقرّر فرما دیا۔ ایک روز دوپہر کے وقت بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السَّلام سے بھوک کی شکایت کی توآپ علیہ السَّلام نے فرمایا: یہ قحط کی ابتدا کا وقت ہے۔ پہلے سال میں لوگوں کے پاس جو ذخیرے تھے سب ختم ہوگئے اور بازار خالی رہ گئے۔
عظمتِ یوسف علیہ السَّلام
اہلِ مصر حضرت یوسف علیہ السَّلام سے اپنے درہم و دینار کے بدلے میں غلّے خریدنے لگے، یوں اُن کے تمام درہم و دینار حضرت یوسف علیہ السَّلام کے پاس آگئے۔ دوسرے سال مصریوں نے زیور اور جواہرات کے بدلے میں غلّوں کی خریداری کی، یوں ان کے تمام زیورات اور جواہرات حضرت یوسف علیہ السَّلام کے پاس آگئے۔ جب لوگوں کے پاس زیور اور جواہرات میں سے کوئی چیز نہ رہی تو انہوں نے تیسرے سال چوپائے اور جانور دے کرغلّہ خریدا اور یوں پورے ملک میں کوئی شخص کسی جانور کا مالک نہ رہا۔ چوتھے سال انہوں نے غلّے کے لیے اپنے تمام غلام اور باندیاں بیچ ڈالیں۔ پانچویں سال اپنی تمام اَراضی، عملہ اور جاگیریں فروخت کرکے حضرت یوسف علیہ السَّلام سے غلّہ خریدا، اس طرح یہ تمام چیزیں حضرت یوسف علیہ السَّلام کے پاس پہنچ گئیں۔
چھٹے سال جب ان کے پاس کوئی چیز باقی نہ رہی تو انہوں نے اپنی اولادیں بیچ دیں اور اس طرح غلّے خرید کر اپنا وقت گُزارا۔ ساتویں سال وہ لوگ خود بک گئے اور غلام بن گئے اس طرح مصر میں کوئی آزاد مرد باقی رہا نہ عورت، جو مرد تھا وہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کا غلام تھا اور جو عورت تھی وہ آپ علیہ السَّلام کی کنیز تھی۔
اس وقت لوگوں کی زبان پر یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کی سی عظمت و جلالت کبھی کسی بادشاہ کو مُیَسَّر نہ آئی۔ حضرت یوسف علیہ السَّلام نے بادشاہ سے فرمایا: تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر کیسا کرم ہے اور اُس نے مجھ پر کیسا عظیم احسان فرمایا ہے؟ اب اِن لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ با دشاہ نے عرض کی: جو آپ علیہ السَّلام کی رائے ہو وہ ہمیں منظور ہے، ہم سب آپ کے تابع ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السَّلام نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں نے تمام اہلِ مصرکو آزاد کردیا اور اُن کے تمام اَملاک اورکل جاگیریں واپس کر دیں۔
پیٹ بھر کر نہ کھایا
اس زمانہ میں حضرت یوسف علیہ السَّلام نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السَّلام سے عرض کی گئی کہ اتنے عظیم خزانوں کے مالک ہو کر آپ علیہ السَّلام بھوکے رہتے ہیں۔ آپ علیہ السَّلام نے فرمایا: میں اس اندیشے سے بھوکا رہتا ہوں کہ سیر ہو کر کہیں بھوکوں کو بھول نہ جاؤں۔سُبْحٰنَ اللہ! کیا پاکیزہ اَخلاق ہیں۔ مفسّرین فرماتے ہیں کہ مصر کے تمام مرد و عورت کو حضرت یوسف علیہ السَّلام کے خریدے ہوئے غلام اور کنیزیں بنانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام غلام کی شان میں آئے تھے اور مصر کے ایک شخص کے خریدے ہوئے ہیں بلکہ سب مصری اُن کے خریدے اور آزاد کئے ہوئے غلام ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السَّلام نے جو اس حالت میں صبر کیا تھا اس کی یہ جَزا دی گئی۔([2])
بھائیوں کی مصر آمد
آہستہ آہستہ قحط کے اَثرات سے کَنْعان بھی متأثر ہوگیا، حضرت یعقوب علیہ السَّلام کی اجازت سے بیٹے غلّہ خریدنے آئے([3]) حضرت یوسف علیہ السَّلام نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا مگر بھائی حضرت یوسف علیہ السَّلام کو پہچان نہ سکے کنویں میں ڈالے جانے سے اب تک 40 سال کا طویل عرصہ گزر گیا تھا،([4]) حضرت یوسف علیہ السَّلام نے ایک تدبیر سے اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔([5])
یعقوب علیہ السَّلام کا حُزن و ملال
ایک بھائی مصر میں ٹھہر گیا باقی بھائی واپس کَنعان آگئے حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے بنیامین کی خبرسن کر اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا اور بیٹوں سے فرمایا: ہائے افسوس! یوسف کی جُدائی پر۔اس وقت حضرت یعقوب علیہ السَّلام کا حُزن و ملال انتہا کو پہنچ گیا تھا، جب بیٹوں نے وضاحت پیش کی تو فرمایا: میری پریشانی اور غم کم ہو یا زیادہ، میں اس کی فریاد تم سے یا اور کسی سے نہیں بلکہ اللہ پاک ہی سے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنی رَحمت اور احسان سے مجھے وہاں سے آسانی عطا کرے گا جہاں سے میرا گمان بھی نہ ہو گا۔([6])
مساکین کو کھانا کھلائیے
سید دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے کسی کے سامنے یوں فرمایا: حضرت یوسف پر رونے کی وجہ سے میری بینائی کمزور ہوگئی، حضرت جبرائیل علیہ السَّلام حاضر ہوگئے اور عرض کی: اللہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایاہے: میرے علاوہ کسی اور سے فریاد کیوں کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: میں اللہ ہی سے اپنے رنج وغم کی فریاد کرتا ہوں،پھر آپ نے یوں دعا کی: اے میرے رب! کیا تو اس بوڑھے پر رحم نہیں کرےگا، میری بصارت کمزور ہوگئی پیٹھ جھک گئی، میرے پھول (حضرت یوسف و بنیامین) کو مجھ سے ملادے تاکہ میں مرنے سے پہلے ان کی خوشبو سونگھ لوں،حضرت جبرائیل علیہ السَّلام حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض گُزار ہوئے: اللہ کریم آپ کو سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے:(یہ دونوں آپ سے ضرور ملیں گے) اگر ان دونوں کا وصال بھی ہوگیا ہوتا تو پھر بھی میں ان دونوں کو آپ کےلیے زندہ کردیتا، آپ مساکین کو کھانا کھلائیے، بےشک! میرے بندوں میں مجھے زیادہ محبوب اَنبیاءِ کِرام اور مساکین ہیں، ا س کے بعد حضرت یعقوب علیہ السَّلام کا معمول تھا کہ جب بھی ناشتہ کرتے تو ایک شخص کو حکم دیتے کہ وہ یہ اعلان کردے کہ جو غریب ناشتہ کرنا چاہتا ہے وہ حضرت یعقوب کے ساتھ ناشتہ کرلے ، اور جب آپ کا روزہ ہوتا تھا تو کسی شخص سے یہ اعلان کرواتے : جو غریب روزہ دار ہے وہ یعقوب کے ساتھ روزہ افطار کرلے۔ ([7])
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا
ایک مرتبہ ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السَّلام حضرت یعقوب علیہ السَّلام کے پاس حاضر ِخدمت ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اور اس گھر میں کیسے داخل ہوئے؟ ملک الموت نے عرض کی: میں وہ ہوں جو اولاد کو یتیم کردیتا ہوں، عورتوں کو بیوہ کردیتا ہوں لوگوں کو ایک دوسرے سے جُدا کردیتا ہوں، آپ علیہ السَّلام نے فرمایا: تب تو تم حضرت عزرائیل علیہ السَّلام ہو۔عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: مجھے بتاؤ کہ تم لوگوں کی روح کو قبض کرتے ہو تو ایک ساتھ قبض کرتے ہو یا الگ الگ؟([8]) عرض کی: میں ایک ایک روح قبض کرتا ہوں، پوچھا: کیا میرے یوسف کی روح تم نے قبض کی ہے؟ عرض کی: جی نہیں! پوچھا: میرے پاس ملاقات کے لیے آئے ہو یا روح قبض کرنے کے لیے؟ عرض کی: آپ کے پاس صرف سلام عرض کرنے حاضر ہوا ہوں،اللہ آپ کی روح اس وقت تک قبض نہیں فرمائے گا جب تک آپ اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السَّلام سے نہیں مل لیتے۔یہ سُن کر جب یعقوب علیہ السَّلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو([9]) تو بیٹوں نے کہا: ہم بنیامین کے معاملے میں کوشش کرنا تو نہیں چھوڑیں گے البتہ حضرت یوسف چونکہ اب زندہ نہیں، اس لیے ہم انہیں تلاش نہیں کریں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رَحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ پاک کی رَحمت سے کافر لوگ ہی نااُمّید ہوتے ہیں۔([10])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments