جنگ بدر کا پس منظر (قسط:01)


جنگ بدر کا پس منظر(قسط:01)

کفّارِ قریش نے جب مکّے کی سَرزمین کو مسلمانوں پر بہت ہی تنگ کردیا تو پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور مسلمانوں نے مدینۂ منورہ ہجرت کی، جہاں انصار نے ان کا استِقبال کیا اور مدینے میں اسلامی ریاست کی بنیاد پڑنے لگی لیکن کفّارِ مکّہ کو خدشہ تھا کہ اسلامی ریاست کا یہ بیج جلد ہی تَن آور درخت میں تبدیل ہو جائے گااور اسلام کی قوّت ہمارا اختتام ثابت ہوگی تو وہ اس پر چین سے نہ بیٹھے اور مدینۂ منورہ میں بھی مسلمانوں کے گِرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اقدامات شروع کردئیے جن میں *مدینے کے بااَثر لوگوں کو دھمکی آمیز خط بھیج کر مسلمانوں کے قتل کا مطالبہ کرنا([1]) *مسلمانوں کو حج و عمرہ کی ادائیگی سے روکنا اور اگر کوئی اپنا ذاتی اَثر و رسوخ (Influence) استعمال کرکے آبھی جائے تو بےجا اُلجھ کر اسے پریشان کرنا([2]) *مدینے کے قُرب و جوار میں قتل و غارت اور لوٹ مار پر مشتمل مسلح کاروائیاں کرنا([3]) اور *مدینۂ منورہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کے قتلِ عام کے منصوبے بنانا شامل ہیں۔([4]) لیکن اب ہجرت کا دوسرا سال تھا، اب سامنے وہ مسلمان نہیں تھے جنہیں کفّار کے مظالم پر صبر کرنے کا حکم ہو بلکہ اللہ پاک کی طرف سے مسلمانوں کو تلوار میان سے باہر کرنے کا پروانہ مل چکا تھا،([5]) اب مسلمان اپنی ریاست کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور اپنی ریاست کی حفاظت و استِحکام کے لیے کسی بھی قربانی اور کسی سے بھی ٹکرانے کےلیے تیّار تھے۔

مسلمان اور قریش کے درمیان جاری کشیدگی اب باقاعدہ حالتِ جنگ میں بدل چکی تھی اور یہیں سے مسلمان دفاعی جنگوں (Defensive Battles) کے مرحلے میں داخل ہو رہے تھے، یہیں سے کفّارِ قریش اور مسلمانوں کے آمنے سامنےکی ابتداء ہوئی جس کے بعد مختلف چھوٹے بڑے معرکے تاریخ کے صفحات پر درج ہوئے جنہیں غزوات و سَرایا([6])کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کفّار کی طرف سے کیے جانےوالے مذکورہ اقدامات کے بعد یہ ضَروری ہوگیا تھا کہ پیغمبرِ اسلام  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  بھی اپنی اور اپنے جاں نثار ساتھیوں کی حفاظت اور ریاستِ مدینہ کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں، چنانچہ حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  بھی مدینے کے اطراف میں فوجی دستے روانہ فرمانے لگے (بلکہ کچھ دستوں کی بذاتِ خود سربراہی بھی کی) اور اطراف کے قبائل سے امدادِ باہمی کے معاہدے بھی فرمانے لگے۔ یہ فوجی دستے(Military Units) مکّہ و مدینہ کے درمیان کفّار کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے، روٹین کی گشت کرتے، کفّارِ مکّہ کے مسلح دستوں کا سامنا کرتے اور سب سے اَہَم یہ کہ کفّارِ مکّہ کے تجارتی قافلوں کا راستہ روکتے۔

در اصل اہلِ مکّہ کا تجارتی دارومدار شام پر تھا، ان کے تجارتی قافلے مدینے کے راستے شام آتے جاتے تھے، مسلمانوں نے تجارت کی اہمیّت کے پیشِ نظر ان کی تجارتی راہداری (Trade Corridor) کو بلاک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تاکہ کفّارِ قریش گھٹنوں پر آسکیں جیساکہ حضرت سعد بن معاذ نے کعبہ شریف میں ایک بار ابو جہل کو دھمکایا تھا کہ ”اگر تم ہمیں بیتُ اللہ کے طواف سے روکو گے تو ہم تمہاری شامی تجارت منقطع کردیں گے۔“([7])

کفّارِ قریش کی کمر توڑنے کے لیے اس تجارتی راہداری کو بلاک کرنا کتنا ضَروری تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ غزوۂ بدر سے پہلے ہونے والی 8 جنگوں میں سے 6 جنگیں (1)سریہ حمزہ (2)سریہ عبیدہ بن حارث(3)سریہ سعد بن ابی وقاص(4)غزوۂ ابواء/ودّان (5)غزوۂ بواط (6)غزوہ عشیرہ) اسی مقصد کے لیے تھیں، بلکہ خود جنگِ بدر کا بھی ابتداءً یہی مقصد تھا۔

مسلمانوں کے ان پے در پے حملوں سے کفّار اپنی تجارت کو آخِری سانسیں لیتا دیکھ رہے تھے اور وہ جانتے تھے کہ تجارت کا مطلب روٹی اور روٹی کا مطلب زندَگی ہے مگر پھر بھی بجائے امن و امان پر مشتمل کوئی معاہدہ کرنے کے وہ پہلے سے زیادہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوتے گئے۔

اسی (ہجرت کے دوسرے) سال قریش کا ایک تجارتی قافلہ جناب ابو سفیان (جوکہ ہجرت کے آٹھویں سال فتحِ مکہ کے موقع پر ایمان لے آئے تھے، ان) کی قِیادت میں مکّے سے شام جا رہا تھا، مسلمانوں نے شام جاتے ہوئے اس قافلے کی راہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ ہاتھ نہ آیا اور شام کی طرف نکل گیا، یہی قافلہ جب شام سے واپس مکّہ لوٹ رہا تھا تو مسلمان دوبارہ اس کے تعاقب میں مدینے سے بدر آئے لیکن اب کی بار اس تجارتی قافلے کے بجائے اچانک قریش کا عسکری/جنگی لشکر (Military Force) سامنے آگیا، اس فوجی لشکر سے ہونے والے ٹکراؤ کو ہی ”جنگِ بدر“ کہتے ہیں جس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ۔۔۔

پہلی بار جب پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  (مکّہ سے شام جاتے ہوئے) اس تجارتی قافلے کو Capture کرنے کے لیے نکلے تو آپ کے ہمراہ تقریباً 200یا 250 صحابہ تھے، یہ قافلہ ہاتھ سے نکل گیا اور پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  واپس مدینۂ منورہ تشریف لے آئے، اسی مہم کو ”غزوۂ عُشیرہ“ کہا جاتا ہے۔([8])

یہ کوئی عام تجارتی قافلہ نہیں بلکہ کفّارِ قریش کا قومی نوعیت کا تجارتی قافلہ (National Trade Caravan) تھا جس میں کفّارِ قریش کے ہر مرد و عورت نے اپنی پائی پائی لگادی تھی؛ اس کی مالیت 50ہزار دینار تھی اور 1000اونٹ اس کے علاوہ تھے، یہ قافلہ قریش کی معاشی اُمیدوں کا واحد سہارا تھا اور اس قافلے میں قریش کے بہت سے اَہَم افراد بھی شریک تھے۔([9])

اب اس نوعیت کی تجارتی مہم روزمرّہ کی روزی روٹی چلانے کے لیے تو ہو نہیں سکتی تو بہت ممکن ہے یہ کفّارِ قریش کی مسلمانوں کے خلاف عسکری تیاری ہو جس کے لیے قریش اپنی پوری جان لگا رہے تھے، پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس قافلے کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، ریاستِ مدینہ کے جاسوس دستے (Intelligence Wings) پہلے سے کہیں بڑھ کر فعّال تھے؛ مکّے سے روانگی سے لے کر شام سے واپسی تک اس قافلے کی مسلسل ریکی کی جارہی تھی،مدینے میں جب اس قافلے کی شام سے واپسی کی خبر ملی تو اس پر گھات لگانے کے لیے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عجلت میں12رمضان کو دوبارہ نکلے([10]) اور نکلنے سے کئی دن پہلے حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو بطور جاسوس مدینے سے دُور دراز متعلقہ و ممکنہ سمت میں روانہ کرچکے تھے،([11]) بدر کے قریبی مقامات پر بھی جاسوس (حضرت بَسْبَس وحضرت عَدی رضی اللہ عنہما) پھیلے ہوئے تھے اور لوگوں کی باتیں سُن رہے تھے، انہوں نے دو خواتین کو کسی لین دین پر آپس میں جھگڑا کرتے سُنا، ان میں سے ایک خاتون کہہ رہی تھی:”ابھی ایک دو دن میں فلاں قافلہ یہاں آنے کو ہے، میں اس کے لیے مزدوری کرکے تمہاری اَدائیگی کردوں گی۔“ قافلوں کے چھوٹے موٹے کام کرکے اپنا گُزر بسر کرنے والے یہ غریب قبائلی لوگ خوب جانتے ہیں کہ کب کونسا قافلہ کہاں سے گزرے گا کہ یہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ یہ خواتین قریش کے قافلے کی بابت ہی بات کر رہی تھیں، صحابۂ کرام یہ قیمتی معلومات لے کر رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو پہنچا چکے تھے۔([12])

دوسری طرف جناب ابو سفیان تھے جو کسی وجہ سے اتنے بڑے قافلے کی قِیادت کر رہے تھے۔ قریشِ مکّہ کا تمام سرمایہ ان کی فراست کے بھروسے تھا، وہ بھی اس قافلے کو صحیح سلامت مکہ پہنچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے، حجاز کی سرزمین میں داخل ہونے سے پہلے ہی انہوں نے معلومات اکٹّھی کرنا شروع کردی تھیں اور انہیں اس بات کا خوف لاحق ہوگیا تھا کہ واپسی پر مسلمانوں کی طرف سے گھات لگ سکتی ہے اسی لیے انہوں نے ایک پروفیشنل خبر رساں ضَمضَم بن عَمرو غفاری کو روانہ کیا کہ وہ تیزی سے جاکر مسلمانوں کے حملے کے بارے میں کفّارِ مکّہ کو آگاہ کرے اور قریش اس قافلے کی مدد کے لیے فوجی امداد (Military Aid) بھیجیں جس میں ان سب کا مال ہے۔([13])

(بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ذمہ دار شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دلائل النبوہ للبیہقی،3/178

([2])بخاری، 3/3، حدیث:3950

([3])سیرتِ ابن ہشام، ص247

([4])سیرت مصطفیٰ،ص201

([5])پ17،الحج:39

([6])جس جنگ میں حُضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود شریک ہوئے ہوں اُسے ”غزوہ“ اور جنگ کے لیے کوئی لشکر/دستہ روانہ فرمایا ہو مگر خود شرکت نہ فرمائی ہو اُسے ”سَرِیَّہ“ کہتے ہیں۔

([7])بخاری،3/3،حدیث:3950

([8])زرقانی علی المواہب،2/234

([9])سیرتِ حلبیہ، 2/175

([10])مواہبِ لدنیہ،1/178

([11])امتاع الاسماع، 1/81

([12])سیرت ابن ہشام،ص255

([13])سیرت ابن ہشام،ص250


Share