جنت میں دو محلات دِلانے والی نیکیاں
ہر مسلمان کی دلی تمنّا ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں اچّھے اعمال سے اپنی دنیا اور آخِرت سنوارے، قبر و آخرت کی سختیوں سے نجات پائے، جنّت الفردوس میں اعلیٰ درجات حاصل کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے جنّت میں دودو محلّات نصیب ہوجائیں، یقیناً یہ ہر نیک بندے کی آرزو ہے۔ آئیے! جنت میں دو محل حاصل کرنے کے بارے میں ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چند فرامین سنتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان فرامین کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں، چنانچہ
مغرب و عشاکے درمیان نفلی اعتکاف کی بَرَکت
(1)صحابیِ رسول حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جومغرب وعشا کے درمیان مسجد میں ٹھہرے اور باجماعت نماز ادا کرے اور نماز و تلاوت کے علاوہ کوئی بات نہ کرے، تو اللہ پاک کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کے لیے جنت میں دو ایسے محل بنائے جن کا آپس میں فاصلہ ایک 100 سال کی مسافت کے برابر ہو اور اس کے لیے دونوں محلّات کے درمیان درخت لگائے گا کہ اگر اہلِ دنیا اس کا چکر لگائیں تو وہ ان سب کو کافی ہوجائے۔ ([1])
یہ ثواب چند شرائط کے ساتھ ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ مغرب کی نماز باجماعت اَدا کرے، اگر اکیلے نماز پڑھی تو یہ ثواب نہیں ملے گا۔ دوسری یہ کہ نماز باجماعت مسجد میں اَدا کی جائے اور اس سے مراد محلّے کی مسجد ہے، لہٰذا اگر کسی نے اپنے گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی یا اپنے گھر کے قریب کسی چھوٹی مسجد میں جو محلے کی مسجد نہ ہو تو اسے یہ ثواب حاصل نہیں ہوگا اور تیسری یہ کہ فرض نماز کے بعد تسبیح مکمل کرکے اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں نماز پڑھی ہے، مجبوری کے علاوہ نہ اُٹھے ورنہ ثواب نہ پائےگا۔ ([2])
مغرب کے بعد نوافل ادا کرنے کی بَرَکت
(2)مسلمانوں کی پیاری امّی جان حضرت بی بی عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کے نزدیک افضل نماز، مغرب کی نماز ہے، اسے نہ تو مسافر سے کم کیا اور نہ ہی مقیم سے، اس کے ذریعے رات کی نماز کو شروع فرمایا اور دن کی نماز کو ختم فرمایا تو جس شخص نے نمازِ مغرب پڑھی اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اللہ پاک اس کے لئے جنت میں دو محل بنائے گا۔ روایت کرنے والے فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ دو محل سونے کے ہوں گے یا چاندی کے۔ اورجس نے چار رکعتیں پڑھیں اللہ پاک اس کے 20 سال کے گُناہ معاف فرمائے گا۔ یا فرمایا: 40سال کے گُناہ معاف فرمائے گا۔([3])
(3)ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں کہ نبیِ کریم، رءُوف رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک کو نمازِ مغرب سے زیادہ کوئی نماز محبوب نہیں، اس کے ذریعے بندہ اپنی رات کا آغاز کرتا ہے اور اپنے دن کا اختتام کرتا ہے۔ اللہ پاک نے اسے نہ مسافر سے ساقط (یعنی ختم)کیا ہے اور نہ مقیم سے، جس نے مغرب کے نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور کسی سے بات چیت نہ کی تو وہ علیّین (یعنی بلند درجے)میں لکھ دیا جاتا ہے یا علیین میں اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اگر اس نے یہ نماز پڑھی اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اور کسی سے بات چیت نہ کی تو اللہ پاک اس کے لیے دو محل بناتا ہے جو موتیوں اور یاقوت سے مزیّن ہوں گے اور ان کے درمیان ایسی جنّتیں ہوں گی جن کا علم اللہ پاک کے علاوہ کسی کو نہیں اور اگر اس نے یہ نماز پڑھی اور اس کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور کسی سے گفتگو نہ کی تو اس کے چالیس سال کے گُناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔([4])
اے عاشقانِ رسول! ہمیں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نفل نمازوں کی طرف بھی توجُّہ دینی چاہئے اور اللہ پاک کی رضا کے لئے خوب خوب نفل نمازیں بھی اَدا کرنی چاہئیں۔
سورۂ اخلاص پڑھنے کی بَرَکت
(4)الله پاک کے آخِری نبی، مکّی مدنی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا:( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)) 10بار پڑھے، اﷲپاک اس کے لیے جنّت میں ایک محل تیّار کرے گا اور جو 20بار پڑھے، اﷲ پاک اس کی برکت سے جنّت میں دو محل بنائے گا اور جو 30بار پڑھے اﷲ پاک اس کی بَرَکت سے جنّت میں تین محل تیار کرے گا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسولَ اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! تب تو اﷲ پاک کی قسم ہم اپنے محل بہت بنوالیں گے۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اﷲ پاک اس سے بھی زیادہ وُسعت والا ہے۔([5])
حضرت شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کے تحت لکھتے ہیں: یہ حدیث شریف مطلق ہے، یعنی یہ سورت زندَگی میں ایک بار پڑھے یا روزانہ ، دونوں صورتوں میں اللہ پاک کا فضل و کرم بہت وسیع ہے۔([6])
عشا کے بعد دو نَفل کا ثواب دو جنّتی مَحَل
(5)حضرتِ عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جو عشا کے بعد 2 رَکعَت پڑھے گا اور ہر رَکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد 15 بار( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) )(مکمل سورت) پڑھے گا اللہ پاک اس کے لیے جنّت میں 2محل ایسے تعمیر کرے گا جسے اہلِ جنّت دیکھیں گے۔([7])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ان احادیث پر عمل کر کے ہم نہ صرف اپنی دنیا کو سنوار سکتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں خوب نیکیاں کرکے جنّتی محل حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments