والد کا نابالغ بچے کی زمین فروخت کرنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنے نواسے عمر کی پیدائش پر اسے حیدرآباد میں موجود اپنی زمین تحفہ میں دی ، اُس زمین پر عمر کے والد بکر نے قبضہ بھی کرلیا تھا ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل بکر اپنی پوری فیملی سمیت حیدر آباد سے کراچی مستقل طور پر شفٹ ہوچکا ہے ۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں بکر اپنے نابالغ بچہ کی وہ زمین فروخت کرسکتا ہے؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: حکمِ شرع ذہن نشین رہے کہ نابالغ بچے کو گفٹ میں دی جانے والی چیز پر اگر اُس بچے کا ولی یعنی سرپرست قبضہ کرلے تو اس صورت میں ہبہ تام ہوجاتا ہے یعنی وہ گفٹ بچے کی ملکیت میں آجاتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اُس زمین پر بھی بچے کی ملکیت ثابت ہوچکی ہے۔
البتہ باپ اگر نیک چلن ہو یا مستور الحال ہو یعنی اُس کا نیک و بدچلن ہونا معروف نہ ہو تو اُس کا نابالغ بچے کی مملوکہ چیز کوئی معقول وجہ پائے جانے پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ مناسب قیمت میں فروخت کرے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بکر، اگر نیک چلن یا مستور الحال ہے تو اس کا مارکیٹ ویلیو پر اپنے بچے کی زمین کو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔ فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم کا مالک وہ بچہ ہی ہوگا۔
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ : ” زید نے اپنا مکان و دکان اپنی زوجہ کے نام بیع کردیاتھا زوجہ نے انتقال کیا۔ زید کے تین بچے نابالغ اپنی ماں کے وارث ہیں۔ اب زید کے پاس کچھ نہیں کہ اس سے اپنا اوران نابالغوں کاکھانا پینا چلے۔ زیدنیک چلن ہے مال برباد کرنے والانہیں وہ نیک نیتی سے چاہتاہے کہ اپنااوراپنے نابالغ بچوں کاحصہ بیچ کرتجارت کرے جس سے ان سب کارزق پیداہو۔ اس صورت میں زید ان حصوں کے بیچنے کااختیاررکھتاہے یانہیں؟ “ اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اگرزید نیک چلن ہے اولاد کا مال برباد کرنے کا اس پر اندیشہ نہیں اور بیع مناسب اور معقول قیمت کو ہو تو اسے اُن حصوں کے بیچنےکا اختیار ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،25/436)
بہارِ شریعت میں ہے : ’’ باپ نے نا بالغ اولاد کی زمین بیع کر ڈالی اگر اُس کے چال چلن اچھے ہیں یا مستور الحال ہے تو بیع درست ہے اور اگر بدچلن ہے مال کو ضائع کرنے والا ہے تو بیع ناجائز ہے یعنی نا بالغ بالغ ہوکر اُس بیع کو توڑ سکتا ہے، ہاں اگر اچھے داموں بیچی ہے تو بیع صحیح ہے۔‘‘(بہارِ شریعت،2/814)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2)یتیم بچہ اپنا مال کسی کو گفٹ کرسکتا ہے یا نہیں؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی یتیم بچہ خوشی سے اپنی ذاتی رقم سے کسی کو گفٹ دے تو کیا اسے وہ گفٹ وصول کرنا جائز ہے؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: نابالغ بچہ اپنی ذاتی رقم سے کسی کوبطورِ گفٹ کوئی چیز دے اگرچہ اپنی خوشی سے ہو، تب بھی اسے وصول کرنا جائز نہیں، اگر وصول کرلیا ،تو اس پر لازم ہے کہ وہ نابالغ کو واپس کرے۔ ہمارے عرف میں جس کا والد انتقال کر جائے اس کو یتیم کہتے ہیں اگرچہ وہ بالغ ہو چکا ہو ۔ اگر یہ بچہ بالغ ہو تو گفٹ دے سکتا ہے اور نا بالغ ہو تو نہیں دے سکتا۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”خود بچہ بھی اپنا مال ہبہ کرناچاہے تو نہیں کرسکتایعنی اُس نے ہبہ کردیا اور موہوب لہ کو دیدیا اُس سے واپس لیاجائے گا کہ ہبہ جائز ہی نہیں ۔۔۔نابالغ اپنا مال نہ خود صدقہ کرسکتا ہے نہ اُس کا باپ۔ یہ بات نہایت یادرکھنے کی ہے اکثر لوگ نابالغ سے چیز لے کر استعمال کرلیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اُس نے دے دی حالانکہ یہ دینا نہ دینے کے حکم میں ہے۔“(بہار شریعت،3/81)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(3)قرض معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست نے مجھے قرض دیا اور بعد میں اپنی مرضی سے وہ قرض معاف کر دیا ۔ اب حالات ناسازگار ہونے کی بنا پر وہ دوبارہ مجھ سے قرض کا تقاضا کر رہا ہے ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا شرعاً مجھ پر قرض کی ادائیگی کرنا لازم ہے؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کے ذمے پر اُس قرض کی ادائیگی کرنا شرعاً لازم نہیں، کیونکہ دَین ہو یا قرض، معاف کر دینے سے معاف ہو جاتا ہے، اور جو دَین ذمے سے ساقط ہوجائے وہ دوبارہ نہیں لوٹتا ۔
قرض ہو یا دَین معاف کرنے سے معاف ہو جاتا ہے۔ اس کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’ لو قال لغريمه إن كان لي عليك دين فقد أبرأتك وله عليه دين برئ“ ترجمہ:اگر کسی شخص نے اپنے مقروض سے کہا: ’’اگر میرا تم پر کوئی قرض ہے تو میں نے تمہیں بری کر دیا‘‘، اور حقیقت میں اس کا قرض بھی تھا،تو مقروض بری الذمہ ہو جائے گا، یعنی اس پر قرض ختم ہو جائے گا۔(رد المحتار علی الدر المختار،7/504)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:’’لو كان لشخص على آخر دين فأَسقطه عن المدين، ثم بدا له رأي فندم على إسقاطه الدين عن ذلك الرجل، فلأنه أسقط الدين، وهو من الحقوق التي يحق له أن يُسقطها، فلا يجوز له أن يرجع إلى المدين ويُطالبه بالدين؛لأن ذمته برأت من الدين بإسقاط الدائن حقه فيه‘‘ ترجمہ: اگر کسی شخص کا دوسرے پر قرض تھا ، پھر وہ مقروض سے وہ قرض معاف کر دیتا ہے ، اور بعد میں اس کا ارادہ بدل جائے اور وہ قرض کی معافی پر نادم ہو،تو چونکہ اس نے قرض معاف کر دیا تھا اور یہ ان حقوق میں سے ہے جنہیں انسان خود معاف کر سکتا ہے لہٰذا اب اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ مقروض سے دوبارہ قرض کا مطالبہ کرے، کیونکہ مقروض کے ذمے سے قرض اس وقت ختم ہوگیا جب قرض خواہ نے اپنا حق معاف کر دیا۔
(درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام،1/54)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی

Comments