(1)شبِ براءت کو قبرستان جانا
سوال: کیا شبِ براءت ہی میں قبرستان جانا ضروری ہے؟
جواب:شبِ براءت میں قبرستان جانا پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت ہے۔ حضرت مفتی احمدیار خان رحمۃُ اللہ علیہ نے شبِ براءت میں قبرستان جانا سنت لکھا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 2/290)سارا سال رات دن جب بھی قبرستان جائیں منع نہیں ہے۔(دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 12شعبان شریف1444ھ)
(2)روزے دار کا اپنا تھوک حلق میں اُتارنا کیسا؟
سُوال: کیا روزے کی حالت میں اپنا تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب: اپنا تھوک خود ہی حلق میں اُتر جائے یا جان بوجھ کر اُتار لے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ہاں! تھوک ہتھیلی پر لیا اور اب نِگل لیا تو روزہ گیا۔(مدنی مذاکرہ، 17رمضان المبارک1441ھ)
(3)وتر کی دوسری رکعت میں دُعائے قُنوت پڑھ لی تو۔۔۔
سُوال: رمضانُ المبارک میں کوئی شخص وتر کی دوسری رکعت میں شامل ہوا اور تیسری رکعت میں امام کے ساتھ دُعائے قنوت پڑھ لی تو کیا وہ اپنی تیسری رکعت میں دوبارہ دُعائے قنوت پڑھے گا؟
جواب: دوسری رکعت میں دُعائے قُنوت پڑھ لی تو تیسری رکعت میں دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں، تیسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت مِلا کر نماز مکمل کرلے۔
(دیکھیے:غنیۃ المتملی، ص421-مدنی مذاکرہ، 10رمضان المبارک1441ھ)
(4)روزے کی حالت میں بھاپ لینا کیسا؟
سُوال: کیا روزے کى حالت مىں اِسٹىم ىعنى بھاپ لے سکتے ہىں؟
جواب:جی نہیں!روزے کی حالت میں بھاپ لینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (مدنی مذاکرہ، 18رمضان المبارک1441ھ)
(5)پھوپھی کو زکوٰۃ دینا کیسا؟
سوال: کیا پھپھی کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
جواب: اگر زکوٰۃ کی مستحق ہیں تو دے سکتے ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 27رمضان المبارک1440ھ)
(6)صلوٰۃ التسبیح میں سجدہ سہو واجب ہوجائے تو کیا کریں؟
سوال:صلوٰة التسبیح میں اگر سجدہ سہو واجب ہوجائے تو کیا ان سجدوں میں بھی تسبیح پڑھیں؟
جواب:بہارِ شریعت میں ہے: (صلوٰة التسبیح میں) اگر سجدہ سہو واجب ہو اور سجدہ کرے تو ان دونوں میں تسبیحات نہ پڑھی جائیں۔(بہار شریعت، 1/684- مدنی مذاکرہ،07ربیع الآخر1441ھ)
(7)مَرحومىن پر فطرہ واجب نہىں ہوتا
سُوال: کىا مَرحومىن کا فطرہ بھى دىا جا سکتا ہے؟
جواب: مَرحومىن پر فطرہ واجب نہىں ہوتا۔ ہاں اگر ان کی زندگى مىں ان پر فطرہ واجب تھا اور انہوں نے ادا نہیں کیا تو اب اگر اَولاد ان کی طرف سے ادا کر دے تو اللہ پا ک کى رَحمت سے قبولیت کی اُمىد کى جا سکتى ہے۔
(مدنی مذاکرہ، 15رمضان المبارک1441ھ)
(8)قراٰنِ پاک کو شہید کہنا کیسا؟
سوال: جب کسی عام کتاب کا صفحہ الگ ہوتا ہے تو اسے پھٹنا کہتے ہیں اور جب قراٰنِ پاک کا کوئی صفحہ الگ ہوتا ہے تو اسے شہید ہوجانا کہا جاتا ہے۔کیا ایسا کہنا دُرُست ہے؟
جواب: بےشک یہ ادب کی بات ہے اور یہی مناسب۔ جب کوئی عمارت گِرائی جاتی ہے یا خود ہی زمین بوس ہو جاتی ہے تو اسے منہدم (مُنْ-ہَ-دِم) ہو جانا یا گِر جانا کہا جاتا ہے اور جب یہی بات کسی مسجد کے لیے آتی ہے تو ادباً اسے شہید ہوجانا کہتے ہیں،بااَدب بانصیب۔شہید اَدب والا لفظ ہے اور اسے ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں۔
(مدنی مذاکرہ، 8رمضان المبارک 1441ھ)
(9)کسی پیر سے طالب ہوتے وقت لفظ ”طالب “ بولنا بھول گئے تو؟
سُوال: اپنے پیر صاحب کے علاوہ کسی اور سے طالب ہوتے وقت اگر کوئی یہ کہنا بھول گیا کہ ”طالب ہوتا ہوں میں!“ تو کیا پہلی بیعت ٹوٹ جائے گی؟
جواب: جی نہیں! بلکہ پہلے پیر صاحب ہی کا مرید رہے گا، کیونکہ بیعت توڑنے کی نیت نہیں تھی۔
(مدنی مذاکرہ، 13 ربیع الاول شریف 1442ھ)
(10)وَلی بننے کی دُعا کرنا کیسا؟
سُوال:اپنے بىٹے کو اللہ کا وَلى بنانے کا کىا طرىقہ ہے؟
جواب:ولى، اللہ پاک کى عطا سے بنتا ہے، کوشش سے نہىں بنتا کہ ”مىں کوشش کروں اور ىہ ىہ کرلوں تاکہ ولى بن جاؤں۔“ وِلاىت وَہْبِى یعنی عطائى ہے، کسبى نہىں ہے،(دیکھئے: فتاویٰ رضویہ، 21/606) یعنی کوشش سے نہىں ملتى۔ البتہ یہ دُعا کرسکتے ہىں کہ ”مىرا بىٹا وَلى بن جائے۔“ اگر آپ کو وَلى بننے کا شوق ہے تو اپنے لیے بھى دُعا کرلىں کہ ”ہم باپ بىٹے وَلى بن جائىں، بلکہ ہمارا سارا خاندا ن وَلى بن جائے۔“ یہ دُعا کرنے مىں حَرَج نہىں ہے۔
(مدنی مذاکرہ، 17محرم الحرام 1442ھ)
(11)عورتوں کا اشراق و چاشت کے نوافل پڑھنا
سوال: کیا عورتیں اشراق و چاشت کے نوافل ادا کرسکتی ہیں؟
جواب: جی بالکل ادا کرسکتی ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 11جمادی الاولیٰ 1445ھ)
(12)جائے نماز کو پاؤں سے فولڈ کرنا کیسا؟
سُوال: جائے نماز کو پاؤں سے فولڈ کرنا کىسا ہے؟
جواب: نماز پڑھنے کے بعد جائے نماز کو پاؤں سے فولڈ کرنا مناسب نہیں ہے، اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو جھک کر فولڈ کرنا چاہئے، ویسے بھی جھکنا ایک طرح کی ایکسرسائز ہے جو بندے کے لیے مفید ہے۔جب آپ نے نماز پڑھتے ہوئے سجدہ کیا ہے تو تھوڑا جھک کر جائے نماز بھی فولڈ کر دیجیے۔(مدنی مذاکرہ، یکم ربیع الاول 1442ھ)
(13)بچّے کے پیدائشی بال نہ کٹوانا کیسا؟
سُوال: کیا بچّے کى پىدائش کے بعد اس کے بال نہ کٹوانے سے گناہ ملتا ہے؟
جواب: بچّے کے پیدائشی بال کٹوانا سُنّتِ مُسْتَحَبّہ اور ثواب کا کام ہے،(دیکھئے: بہار شریعت، 3/355 ) اگر نہ کٹوائے تو کوئى گناہ نہىں ہے۔ (مدنی مذاکرہ، 30صفر المظفر 1442ھ)
(14)کیا گھر میں مکڑی کے جالے لڑائی کا سبب ہوتے ہیں؟
سوال: لوگ کہتے ہىں: ”گھروں کی دىواروں پر لگے مکڑی کے جالے گھروں مىں لڑائى کا سبب بنتے ہىں“، کىا ىہ بات درست ہے؟
جواب: اس بارے مىں اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے،میں نے اىسا کہىں نہىں پڑھا۔ یادرہے! گھروں کی دیواروں پر لگے جالوں کو صاف نہ کرنا گناہ نہىں، مگر صاف کردىنے چاہئیں ورنہ گھر میں تنگدستى و غربت آتى ہے۔
(تعلیم المتعلم، ص125-مدنی مذاکرہ، 13رمضان المبارک 1441ھ)
Comments