روشن ستارے

Image
 بلند مرتبہ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا محمد بن مَسْلَمہ اَوْسِی انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ
Image
غزوۂ خندق کے موقع پرایک رات سخت آندھی اور شدید سردی تھی
Image
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم: جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ صورت و سیرت  میں حضرت عیسیٰ علیہِ السَّلام کے مِثْل کو دیکھے
Image
تاجدارِ رسالت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا سفرِہجرت ختم ہوا اور مدینے میں آمد ہوئی تو جا نثاروں کا جُھرمَٹ ساتھ تھا۔ سُواری جُوں جُوں آگے بڑھتی جاتی راستے میں انصار انتہائی جوش ومَسَرَّت کے ساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر عرض کرتے:
Image
حضرتِ سیّدُنا عمر  فاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں ایک سال سَخْت  قَحط پڑا تو امیر المؤمنین نے مصر کے گورنر کو فرمان بھیجا : جب تم اور تمہارے ملک والے سیر ہوں تو تمہیں کچھ پروا نہیں کہ میں
Image
 ہمارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُھَا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔(معجم کبیر ،ج11ص65،حدیث: 11601)
Image
ذہین فطین، باہمّت، فصیحُ البیان، بُلندپایہ حاکم، تجرِبہ کار جرنیل، نظْم ونَسَق کے ماہر، عشقِ رسول میں بےقرار رہنے والے،”مُغِیرۃُ الرَّأی“ کا لقَب پانے والے صحابیِ رسول حضرت سیّدنامُغیرہ بن  شُعبہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ 
Image
 ایک مرتبہ خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیّدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ جمعہ کے دن مسجد نبَوی شریف کی جانب تشریف لارہے تھے کہ ایک مکان کے پرنالے سے خون مِلےپانی کے چند قطرے
Image
مدنی منّے کی آمد ہوگئی: رحمتِ دوجہاں  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدینے میں جلوہ گری پر ایک جانب خوش بخت اپنی قسمت چمکارہے تھے اور اپنے دامن میں ایمان کی دولت سمیٹ رہے تھے۔