حدیث شریف اور اس کی شرح

Image
مذکورہ حدیثِ پاک ہمیں “ معزز بننے کا نسخہ “ عطا کر رہی ہے
Image
اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اِس فرمان کی وضاحت یہ ہے کہ جس نے طِب کے اُصول و ضوابط نہ پڑھے ہوں اور وہ لوگوں کے سامنے خود کو طبیب ظاہر کرکے علاج کرے 
Image
رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک موقع پر فرمایا : تم اس وقت تک ہرگز مؤمن نہيں ہوسکتے جب تک آپس ميں رحم نہ کرنے لگو۔
Image
 “ طَیِّب “ کامعنی پاکیزہ لیکن جب اس لفظ  کی نسبت اللہ کی  جانب ہو تو اس  سے مراد یہ ہوتی ہےکہ اللہ “ تمام عیوب سے پاک “ ہے۔
Image
“ جاننا “ انسان کا بنیادی  حق ہے کیوں کہ اِس کی بدولت وہ جینے کا سلیقہ سیکھتا ہے اور ترقی و کامیابی کا زینہ چڑھتا ہے
Image
صَحابیِ رسول حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن یزید  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جب کسی لشکر کو رُخصت کرنا چاہتے تو فرماتے :
Image
شرحِ حدیث : اس حدیثِ پاک سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا سے علم اُٹھا لیا جائے گا اور اس کا اُٹھایا جانا ایسے نہ ہوگا کہ علم بُھول جائے گا یا سینوں سے کھینچ لیا جائے گا
Image
سرزمین ِ مدینہ کو اپنے  قدموں کےبوسےلینےکی سعادت عطا فرمائی ان  سعادتوں سے فیضیاب ہوکرشہرِمدینہ نے عظمت و رفعت پائی ،
Image
پیارے اسلامی بھائیو! حلال روزی کمانےکی دینِ اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔