حدیث شریف اور اس کی شرح

Image
اللہ کے پیارے حبیب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عظیم ہے: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ یعنی جو اللہ اور قِیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ مہمان کا اِکرام کرے۔
Image
علم کی آفت یعنی نِسْیان اور بُھولنے کا مرض کوئی معمولی آفت نہیں ہے بلکہ بہت بڑی آفت ہے اس آفت سے کیسے بچا جائے اس سے متعلق حکیمُ الاُمّت  مفتی احمد یار
Image
حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی عجز و اِنکسار اختیار کرو تاکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر تکبّر نہ کرے نہ مال میں نہ نسب و خاندان میں نہ عزت یا جتھہ (طاقت) میں۔
Image
بخاری شریف کی ذِکْر کَردہ حدیثِ پاک میں والد، اولاد اور تمام لوگوں کا ذکر ہے، مگراس میں بندے کی اپنی ذات بھی شامل ہے، لہٰذا اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ والد اور اولاد سے بڑھ کر تو محبت کرے
Image
 میرے لئے زمانہ مختصر کیا کہ میری امّت کو قبروں میں کم دن رہنا پڑے(یعنی دوسری امّتوں کے مقابلے میں کم عرصہ قبر میں رہنا پڑے گا کیونکہ یہ سب سے آخری امت ہے )۔
Image
ہر وہ نیا کام کہ جس کو عبادت سمجھا  جائے حالانکہ وہ شریعتِ مطہّرہ کے اُصولوں سے ٹکرا رہا  ہو یا کسی سنّت، حدیث کے مخالف ہو تو وہ کام مَرْدُود (یعنی قبول نہ ہونے والا) اور محض باطل ہے۔
Image
زیارتِ قبرِ مبارکہ کا حکم: روضۂ رسول کی زیارت بہت بڑی سعادت،عظیم عبادت،قُربِِ ربُّ العزت پانے کا ذریعہ اور قریب بواجب ہے جس کا حکم کتاب و سنت اور اجماع و قیاس سے ثابت ہے۔
Image
مبرور ”بِرٌّ “ سے بناہے جس کے معنی اس اطاعت اور احسان کے ہیں جس سے خدا کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔حجِ مبرور کو ”حجِ مقبول“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ علما نے اس کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں۔(1) حجِ مبرور وہ حج ہے جس میں گناہ سے بچا جائے 
Image
اگر مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ تعظیمی کرنے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ بیوی پر شوہر کے کثیر حُقوق ہیں جن کی ادائیگی سے وہ عاجز ہے۔ اس حدیثِ پاک میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کے وُجوب میں انتہائی مبالغہ ہے۔