حدیث شریف اور اس کی شرح

Image
 میرے لئے زمانہ مختصر کیا کہ میری امّت کو قبروں میں کم دن رہنا پڑے(یعنی دوسری امّتوں کے مقابلے میں کم عرصہ قبر میں رہنا پڑے گا کیونکہ یہ سب سے آخری امت ہے )۔
Image
ہر وہ نیا کام کہ جس کو عبادت سمجھا  جائے حالانکہ وہ شریعتِ مطہّرہ کے اُصولوں سے ٹکرا رہا  ہو یا کسی سنّت، حدیث کے مخالف ہو تو وہ کام مَرْدُود (یعنی قبول نہ ہونے والا) اور محض باطل ہے۔
Image
زیارتِ قبرِ مبارکہ کا حکم: روضۂ رسول کی زیارت بہت بڑی سعادت،عظیم عبادت،قُربِِ ربُّ العزت پانے کا ذریعہ اور قریب بواجب ہے جس کا حکم کتاب و سنت اور اجماع و قیاس سے ثابت ہے۔
Image
مبرور ”بِرٌّ “ سے بناہے جس کے معنی اس اطاعت اور احسان کے ہیں جس سے خدا کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔حجِ مبرور کو ”حجِ مقبول“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ علما نے اس کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں۔(1) حجِ مبرور وہ حج ہے جس میں گناہ سے بچا جائے 
Image
اگر مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ تعظیمی کرنے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ بیوی پر شوہر کے کثیر حُقوق ہیں جن کی ادائیگی سے وہ عاجز ہے۔ اس حدیثِ پاک میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کے وُجوب میں انتہائی مبالغہ ہے۔
Image
علّامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس مبارک مہینے میں جس کثرت سے بندوں کو بخشا جاتا اور ان کے درجات کو بلند کیا جاتا ہے وہ نہ رمضان سے پہلے ہوتا ہے اور نہ ہی بعد، اسی وجہ سے رمضان کی آمد کے انتظار میں سارا ہی سال  جنّت کو سجایا جاتا ہے۔(مرقاۃُ المفاتیح، ج 4،ص 458، تحت الحدیث: 1967) 
Image
بازار کہنے کی وجہ جس طرح دنیاوی بازار میں ایک ساتھ بہت سے لوگ جمع ہوجاتے ہیں اسی طرح جنّت میں بھی جنّتی کسی جگہ اکھٹے ہوں گے اس لئے اسے ’’بازار‘‘ فرمایا گیا ہے۔ (شرح النووی علٰی مسلم، جز:17،ج 9،ص170) 
Image
 مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجرُ مِائَۃِ شَہِیْدٍ ترجمہ: جو فسادِ امّت کے وقت میری سنّت پر عمل کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص55، حدیث: 176)
Image
ذاب سے مراد وہ دُکھ اور تکلیف ہے جو میّت کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب گھر والوں کا چِلّا کر رونا سنتی ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، 4/224،تحت الحدیث:1741) یہ بات فتاویٰ رضویہ میں بھی مِرقاۃ وغیرہ کے حوالے سے لکھی ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 24/481) مزید فتاویٰ رضویہ میں ہے:چِلاّ