حدیث شریف اور اس کی شرح

Image
اگر مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ تعظیمی کرنے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ بیوی پر شوہر کے کثیر حُقوق ہیں جن کی ادائیگی سے وہ عاجز ہے۔ اس حدیثِ پاک میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کے وُجوب میں انتہائی مبالغہ ہے۔
Image
علّامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس مبارک مہینے میں جس کثرت سے بندوں کو بخشا جاتا اور ان کے درجات کو بلند کیا جاتا ہے وہ نہ رمضان سے پہلے ہوتا ہے اور نہ ہی بعد، اسی وجہ سے رمضان کی آمد کے انتظار میں سارا ہی سال  جنّت کو سجایا جاتا ہے۔(مرقاۃُ المفاتیح، ج 4،ص 458، تحت الحدیث: 1967) 
Image
بازار کہنے کی وجہ جس طرح دنیاوی بازار میں ایک ساتھ بہت سے لوگ جمع ہوجاتے ہیں اسی طرح جنّت میں بھی جنّتی کسی جگہ اکھٹے ہوں گے اس لئے اسے ’’بازار‘‘ فرمایا گیا ہے۔ (شرح النووی علٰی مسلم، جز:17،ج 9،ص170) 
Image
 مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجرُ مِائَۃِ شَہِیْدٍ ترجمہ: جو فسادِ امّت کے وقت میری سنّت پر عمل کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص55، حدیث: 176)
Image
ذاب سے مراد وہ دُکھ اور تکلیف ہے جو میّت کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب گھر والوں کا چِلّا کر رونا سنتی ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، 4/224،تحت الحدیث:1741) یہ بات فتاویٰ رضویہ میں بھی مِرقاۃ وغیرہ کے حوالے سے لکھی ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 24/481) مزید فتاویٰ رضویہ میں ہے:چِلاّ  
Image
علّامہ علی بن سلطان محمد قاری حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (سالِ وفات: 1014ھ) اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: اَصَحْ یہ ہے کہ حاجت کے علاوہ طَلاق دینا ممنوع ہے، لفظِ مُباح اس چیز پربھی بولا جاتا ہے جو بعض اوقات میں مباح ہو، یعنی طلاق صرف اس
Image
حضرت علّامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی فرماتے ہیں: ولیُّ اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ والی ہوگیا کہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالیٰ کی عبادت اور مسلسل اطاعت
Image
 حضرتِ سیّدُنا عباس بن عبدُالمطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی: یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! قریش بیٹھے ایک دوسرے کے حَسَب نَسَب پر گفتگو کر رہے ہیں  اور 
Image
حِسَان الْوُجُوه“سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے چہرے ہشاش بشاش، خوشی سے کھلے ہوئے ہوں کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے سینے فراخ وکشادہ ہیں، ان کے اخلاق اچھے ہیں اور ان کے دلوں میں لوگوں کو خوش کرنے کی چاہت ہے اور جو شخص