اسلامی عقائد و معلومات

Image
زمانَۂ نبوّت سے آج تک اَہلِ حق کے درمیان کبھی بھی اِس مسئلے میں اِختِلاف نہیں ہوا،سبھی کا عقیدہ ہے کہ صَحابَۂ کِرام علیہمُ الرِّضوان اور اَولیائے عِظام رحمہمُ  اللہ  السَّلام کی کرامتیں حق ہیں۔ ہر زمانے میں اللہ والوں سے
Image
صَدیوں پہلے کائنات میں ایک ایسا بے مِثال پھول کِھلا کہ جس کی پاکیزہ خُوشبو نے  زمانے میں پھیلی کُفر و شِرک اور ظُلم و زیادتی کی بَدبُو کو ایمان و اسلام اور اَمْن و سلامتی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔اس گُل کی خوشبو صَدیاں گزرنے سے 
Image
جس نے مَرَضُ الموت میں سورۃُ الْاِخْلاص کی تلاوت کی وہ فتنۂ قبر میں مبتلا نہیں ہوگا اور قبر کے دبانے سے بھی مامُون رہے گا۔(حلیۃ الاولیاء،ج 2،ص243،حدیث : 2091)
Image
حاضِر و ناظِر ہونے کا معنیٰ یہ ہے   کہ قُدسی ( یعنی اللہ کی دی ہوئی) قوت والا ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالَم (یعنی سارے جہان، زمین و آسمان، عرش و کرسی، لوح و قلم، ملک و ملکوت) 
Image
جنّت ایک مکان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے بنایا ہے، اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا، جو کوئی
Image
دوزخ کی حقیقی گہرائی تو اللہ پاک ہی جانتا ہے یا اس کے بتائے سے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، البتہ حدیثِ پاک میں اتنا فرمایا گیا ہےکہ اگر پتھر کی چَٹان جہنّم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر برس میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی
Image
ہر نبی کا ایک حَوض رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے لئے ایک حَوض ہے اور انبیا آپس میں فخر کریں گے کہ کس کے حَوض پر زیادہ لوگ آتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ میرے حَوض پر سب سے زیادہ لوگ ہوں گے۔(ترمذی،ج 4،ص200، حدیث:2451)
Image
امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:1122ھ) فرماتے ہیں: ہمارے نبیِّ مُکرّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غیب جانتے ہیں(مزید فرماتے ہیں: قراٰنِ پاک میں) جہاں (علمِ غیب کی) نفی ہے وہ علمِ ذاتی کی ہے جو بے واسطہ ہوتا ہے لیکن حضرت سیّدِ عالَم
Image
قراٰن و حدیث سے ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب شریف کا بیان  پچھلے شماروں میں ہوچکا۔اب علما و اولیا اور محدثینِ کرام کے اقوال و تصریحات کی روشنی میں مصطفےٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ثبوتِ علمِ غیب کے نور سے اپنے دِل و دِماغ کو پُرنور کیجئے