اسلامی عقائد و معلومات

مرحومین کو فائدہ پہنچائیے(تیسری اور آخری قسط)

* مولانا عدنان چشتی عطاری مدنی

 (ماہنامہ اپریل 2022)

مختلف صحابَۂ کرام اور ان کے شاگردوں نے قبروں پر سبز شاخیں رکھنےکی وصیت کرکے اور دیگر صحابہ و تابعین نے اُن وصیتوں کو پورا کر کے اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ قبروں پر سبز شاخیں ڈالنے کا عمل نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا خاصہ نہیں ہے کیونکہ اگر یہ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خصوصیت ہوتی تو صحابَۂ کرام کبھی اس کی وصیت نہ فرماتے اور نہ ہی اس وصیت پر عمل کیا جاتا جیسا کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دیگر خصوصیات پر نہ تو کسی صحابی نے عمل کیا اور نہ ہی اس کی وصیت کی۔ صحابہ و تابعین کے عمل اور عُلما و مفتیانِ کرام کے فتاویٰ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ وہ نیک کام ہے جس پر اُمّت صدیوں سےعمل کرتی چلی آ رہی ہے۔

صحابیِ رسول کی وصیت :

صحابیِ رسول حضرت ابوبَرزَہ اسلَمی  رضی اللہُ عنہ  بیان کیا کرتے تھے کہ حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ایک قبر کے پاس سے گزرے جس میں میت کو عذاب ہورہا تھا تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ایک ٹہنی لے کراس پر گاڑدی اور ارشاد فرمایا : جب تک یہ تَررہےگی اس کےعذاب میں کمی ہوتی رہےگی۔

حضرت ابوبَرزہ نضلہ بن عبید اسلمی  رضی اللہُ عنہ  نے وصیت کی تھی کہ جب میرا انتقال ہو تو قبر میں میرے ساتھ دو تر شاخیں رکھ دینا۔ آپ کا انتقال کِرمان اور قُومَس کے درمیان ہوا توآپ کے ساتھیوں نے کہا : انہوں نے اپنی قبر میں دو شاخیں رکھنے کی وصیت کی تھی مگر اس جگہ تو شاخوں کا نام ونشان نہیں ہے۔ ابھی وہ حضرات اسی کَش مَکش میں تھے کہ سجِسْتان سے چند سوار آتے دکھائی دیئے جن کے پاس تر شاخیں تھیں انہوں نےان سے دو شاخیں لیں اور حضرت ابوبرزہ  رضی اللہُ عنہ  کے ساتھ قبر میں رکھ دیں۔ [1]

قبرمیں دو شاخیں رکھی جائیں :

صحاح سِتَّہ کے راوی حضرت مُوَرِّق عِجلی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : اَوْصٰى بُرَيْدَةُ الاَسْلَمِيُّ اَنْ تُوضَعَ فِي قَبْرِهٖ جَرِيدَتَانِ یعنی صحابیِ رسول حضرت بُریدہ اسلمی  رضی اللہُ عنہ  نے وصیت کی تھی کہ میری قبرمیں دو شاخیں رکھی جائیں۔[2]

شارحِ بخاری حضرت امام ابنِ حجر عسقلانی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اس کے تحت لکھتے ہیں : یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ حضرت بُریدہ اسلمی  رضی اللہ عنہ  نے نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اقتدا میں قبر پر دو ٹہنیاں لگانے کی وصیت کی ہو یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ قبر کے اندر ٹہنیاں رکھنے کی وصیت کی ہو کہ کھجور میں برکت ہے اس لئے کہ اللہ پاک نے اسے شجرۃ طیبۃ فرمایا ہے۔ پہلا قول اظہر ہے۔ [3]

شارحِ بخاری حضرت امام عجلونی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اس کے تحت فرماتے ہیں : بے شک حضرت بُریدہ  رضی اللہُ عنہ  نے دو ٹہنیاں قبر کے اندر رکھنے کی وصیت اس لئے کی کہ وہ اس سے زیادہ فائدے کی امید رکھتے تھے۔ حضرت بریدہ  رضی اللہُ عنہ  نے حدیث کو صرف ان دو قبر والوں کے لیے خاص نہیں سمجھا جیسا کہ اصل یہی ہے۔[4]

حضرت مُوَرِّق عِجلی  رحمۃُ اللہِ علیہ کہتےہیں : حضرت بُریدہ اسلمی  رضی اللہُ عنہ خراسان کے قریب فوت ہوئے ، فَلَمْ تُوجَد اِلَّا فِي جَوَالِقِ حِمارٍ یعنی وہ دو شاخیں ہمیں گدھے کے پالان میں سے ہی ملیں تو جب حضرت بُریدہ  رضی اللہُ عنہ  کو دفن کر دیا گیا تو ان کی قبر میں وہ شاخیں رکھ دی گئیں۔ [5]

قبروں کے پاس درخت لگانے کی اصل :

 خاتمُ المحدّثین حضرت امام جلالُ الدّین سُیوطی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : علما نے فرمایا کہ جب ایک “ شاخ “ کے سبب ان کے عذاب میں تخفیف ہو رہی ہے تو پھر مسلمان کی تلاوتِ قراٰن سے (عذاب میں) تخفیف کا کیا عالَم ہو گا۔ قبروں کے پاس درخت لگانے کی اصل یہی حدیثِ پاک ہے۔ [6]

دو سبز شاخیں :

زمانۂ نبوی پانے والے جلیلُ القدر تابعی بزرگ امام ابوالعالیہ رُفیع بن مہران  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے بھی اپنی قبر پر کھجور کی شاخیں رکھنے کی وصیت فرمائی تھی جیسا کہ حضرت عاصم اَحوَل  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : اَنَّ اَبَا العَالِيَةِ اَوْصٰى مُوَرِّقاً العِجْلِيَّ اَن يَّجْعَلَ فِي قَبْرِهٖ جَرِيْدَتَيْنِ یعنی حضرت ابوالعالیہ  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے حضرت مُورّق عِجلی  رحمۃُ اللہِ علیہ  کو وصیت کی کہ میری قبر میں دو سبز شاخیں رکھ دینا۔ [7]

حضرت امام بغوی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : فَاَمَّا الْجَرِيدُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَلا بَاْسَ بِهِ یعنی قبر پر شاخ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ آپ نے دلیل کے طور پر حضرت ابنِ عباس  رضی اللہُ عنہما والی روایت اور حضرت بُریدہ اسلمی  رضی اللہُ عنہ کی وصیت کو ذکر فرمایا ہے۔ [8]

حضرت علامہ ابنِ حجر ہیتمی مکی شافعی  رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں : جوکچھ میں نے تقریر کی اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کیلئے مسنون ہے کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پیروی میں شاخ تَرخرما کی رکھے۔ کیونکہ اصل حضور کے افعال میں اقتدا کرنا ہے ، البتہ اگر خصوصیت کی کوئی دلیل موجود ہو تو وہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا خاص عمل کہلائے گا جبکہ یہاں تخصیص کی کوئی دلیل نہیں تو اس مسئلہ میں رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اقتدا کرنا مندوب و مستحسن ہوگا۔

عوام قبروں میں جو کھجور کے پتے بچھاتے ہیں اس حدیث میں ان کے اس عمل کی دلیل بھی پائی جاتی ہے۔ جب انسان کے ساتھ کھجور کے درخت کے کچھ اجزا موجود ہوں تو وہ کثرت کے ساتھ اللہ پاک کی تسبیح کریں گےجس کی وجہ سے انسان کو اُنْس حاصل ہوگا یا اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ [9]

حضرت امام احمد بن محمد طحطاوی حنفی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : ہمارے بعض متأخرین ائمہ احناف نے فتویٰ دیا ہے کہ قبروں پر جو پھول اور ٹہنیاں رکھنے کا دستور ہے اس حدیثِ پاک کی رو سے سنّت ہے۔ مزید فرماتے ہیں : جب ٹہنیوں کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف کی اُمّید ہے تو تلاوتِ قراٰن کی برکت تو اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ [10]

گزشتہ شماروں میں ذکر کردہ تمام روایات سے قبر پر سبز شاخیں رکھنے کا مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح قبر پر شاخ رکھنا جائز ہے اسی طرح قبر کے اندر بھی تَر شاخ رکھی جاسکتی ہے۔ اس لئے کہ قبر پر رکھنے کا جو مقصود ہے وہی مقصد قبر کے اندر رکھنے سے بھی حاصل ہو رہا ہے اسی لئے بعض بزرگوں نے اس کی وصیت بھی فرمائی ہے جیسا کہ حضرت ابوبرزہ  رضی اللہُ عنہ  کی وصیت ابھی گزری ، حضرت امام ابنِ حجر مکی  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے اسے بھی جائز کہا ہے۔

ابنِ حجر ہیتمی مکی کا ایک فتویٰ :

آپ سے سوال کیا گیا کہ قبر کے اوپر یا اندر پھول وغیرہ رکھنا کیسا ہے؟

حضرت علامہ ابنِ حجر ہیتمی مکی  رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں : حضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا قبر کے اوپر ٹہنیاں رکھنے کے عمل سے علمائے کرام نے پودے اور پھول رکھنے کا استنباط کیا ہے اور اس کی کیفیت بیان نہیں کی لیکن صحیح حدیث میں ہے کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ہر قبر پر ایک ایک ٹہنی رکھی تھی پس اس میں ساری قبر شامل ہے ، لہٰذا قبر کے جس مقام پر بھی شاخ رکھی جائے مقصود حاصل ہوجائے گا۔ البتہ عبداللہ بن حمید نے اپنی مسند میں تخریج کی ہے کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے قبر پر شاخ مُردے کے سر کی جانب رکھی تھی۔ [11]

يُسَنُّ وَضْعُ جَرِيدَةٍ خَضْرَاءَ عَلَى الْقَبْرِ لِلِاتِّبَاعِ وَسَنَدُهٗ صَحِيحٌ وَلِاَنَّهٗ يُخَفِّفُ عَنْهُ بِبَرَكَةِ تَسْبِيحِهَا اذْ هُوَ اَكْمَلُ مِنْ تَسْبِيحِ الْيَابِسَةِ لِمَا فِي تِلْكَ مِنْ نَوْعِ حَيَاةٍ وَقِيسَ بِهَا مَا اُعْتِيدَ مِنْ طَرْحِ الرَّيْحَانِ وَنَحْوِهِ یعنی (احادیث و غیرہ) کی پیروی کرتے ہوئے قبر پر ہری شاخ کا رکھنا مسنون ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔ چونکہ تر ٹہنی خشک ٹہنی کے مقابلہ میں زیادہ تسبیح کرتی ہے کہ اس میں

ایک طرح کی حیات ہوتی ہے اور اس کی تسبیح کی برکت سے عذابِ قبر میں کمی (بھی) ہوتی ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے ترو تازہ پھول وغیرہ رکھنا بھی مسنون ہوگا۔ [12]یہی عبارت شارح بخاری حضرت امام عجلونی  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے بھی شرح بخاری میں نقل کی ہے۔ [13]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ ، اسلامک ریسرچ سینٹر ، کراچی



[1] تاریخ ابن عساکر، 62/100، تغلیق التعلیق للعسقلانی، 2/492

[2] طبقات ابن سعد، 7/6، سیر اعلام النبلاء، 4/102، بخاری، 1/458 بتغیر

[3] فتح الباری،4/193ملخصاً

[4] الفیض الجاری،3/227ملتقطاً

[5] طبقات ابن سعد،7/6، مرآۃ الزمان، 9/442

[6] شرح الصدور،ص313

[7] سیر اعلام النبلاء،5/211، طبقات ابن سعد، 7/84

[8] شرح السنۃ للبغوی،3/274

[9] فتاویٰ حدیثیہ،ص362ملخصاً

[10] حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی،ص 624

[11] فتاویٰ کبریٰ فقہیہ،1/401

[12] تحفۃ المحتاج فی شرح المنهاج،1/434

[13] الفیض الجاری،3/227


Share

Articles

Comments


Security Code