حدیث پاک اور اُس کی شرح

بے سکونی کا کامیاب علاج

* مولاناحسین انور عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2022

بے چین دِلوں کے چین ، سرورِ کونَین  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : اُنْظُرُوا اِلىٰ مَنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا اِلٰى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَهُوَ اَجْدَرُ اَنْ لَا تَزْدَرُوْا نِعْمَةَ اللهِ یعنی(دنیاوی معاملے میں) تم اپنے سے نیچے والے کو دیکھو ، اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھو یہ عمل اس کا باعث ہے کہ تم اللہ کی نعمت کی ناقدری نہ کرو۔ [1]

اللہ پاک کے پیارے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے کن بلند مرتبہ لوگوں کو دیکھنے سے منع فرمایا؟ اور کن کم رُتبہ افرد کی طرف نظر کرنے کا ارشاد فرمایا؟اِن باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے امام نووی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اس حدیثِ پاک کے تحت نقل  فرماتے ہیں :

یہ حدیث تمام امورِ خیر کو جامع ہے کیونکہ جب بندہ دنیاوی اعتبارسے اپنے سے بَر تَر شخص کو دیکھتا ہے تو اُس کا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی اُس فلاں بندے کی طرح بنے اور خود کے پاس جو اللہ کی نعمت ہے اُسے تھوڑا سمجھتا ہے اور زیادہ کی طلب میں لگ جاتا ہے(اور یوں غافل ہوجاتا ہے)اکثر لوگوں کا یہی حال ہے اور جب بندہ دنیاوی امور میں اپنے سے کم مرتبے اپنے سے کم مال ودولت والے کو دیکھتا ہے تو اُسے سمجھ آتی ہے کہ مجھ پر تو اللہ پاک کی کس قدر نعمتیں ہیں تو وہ ان نعمتوں پراللہ پاک کا شکر بجا لاتا ہے۔ [2]

جبکہ اس کے برعکس اگر وہ شخص نیکیوں میں اپنے سے افضل شخص کو دیکھےگا تواُس جیسا بننے کی خواہش ہوگی اور اپنی نیکیاں کم نظر آئیں گی اور وہ زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ اگر اپنے سے کم نیکیوں والے کو دیکھے گا تو اب اسے خود کا عمل اچھا نظر آئےگا اور یہ خود پسندی کا شکار ہونے کےساتھ ساتھ سُستی اور کاہلی کا مظاہرہ بھی کرنے لگے گا۔ [3]  ایک دوسری حدیث میں فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مال اور شکل و صورت کے اعتبار سےاپنے سے افضل شخص کو دیکھے تو اُسے چاہئے کہ اُس شخص کی طرف نظر کرےجِس سے یہ خود افضل ہے۔ [4]

امام ابنِ جوزی اور حافظ عراقی  رحمۃُ اللہِ علیہ ما فرماتے ہیں : اس حدیث میں اچھی زندگی گزارنے کا بہترین انداز بیان ہوا ہے کیونکہ کسی بھی کام میں کوئی آپ سے آگے بڑھےکبھی بھی نفس کو یہ گوارا نہ ہوگا لہٰذا دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچوں کو دیکھے اور دینی معاملات میں اپنے سے اوپر والوں کو تاکہ دنیا سے دل اُچَاٹ ہو اورآخرت کی فکر بیدار ہو۔ [5]

بے سُکونی کی وجہ : آج معاشرےمیں جس طرف نظر اُٹھائیں بےچینی اور بےسکونی دکھائی دیتی ہے اس کی وجوہات بہت ساری ہیں مگر ایک بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم اللہ پاک کی یاد میں مشغول ہونے کے بجائے دنیا کی رنگینیوں میں مست ہوگئے ہیں ، بس دنیا کمانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں ، نیکیاں کمانے میں سستی اور کاہلی کا شکار نظر آتے ہیں ، اپنے سے زیادہ مال دار اور خوبصورت شخص کو دیکھ کر اُس سے جلتے اور اُس جیسا بننے کی کوشش کرتے اور خود پر جو اللہ پاک کی بےشمار عظیم نعمتیں ہیں ان کو بھول جاتے ہیں جبکہ اپنے سے کم تَر کو دیکھ کر شکر ادا نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ذہن پریشان اور دل بے سکون ہیں اسی پریشانی اور بے سکونی سے نجات کا اور خوشگوار زندگی گزارنے کاایک سنہری اصول اس حدیث پاک میں بیان ہوا ہے کہ اگربندہ دنیاوی اعتبار سے اپنے سے بلند مرتبہ شخص کو نہ دیکھے بلکہ اپنے سے کم رُتبہ لوگوں کی طرف نظر کرے تو زندگی خود بخود آسان ہوجائےگی۔

 یہ نسخہ اپنالیں : اگر ہم دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں تو ہم اپنی مالی حالت پر مطمئن اور پُر سکون ہو جائیں کہ جب ایک شخص ہم سے کمزور حالت میں ہوتے ہوئے زندگی گزار رہا ہے تو ہم پر تو اللہ پاک کی بے شمارنعمتیں ہیں ہم کیوں اللہ پاک کا شکر ادا کرکے زندگی نہیں گزار سکتے۔

ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی طرح دنیا کی مشقتوں کو صرفِ نظر کرکے  اللہ پاک سے دین و دنیا کی بہتری اور عافیت کا سوال کرنا چاہیئے اور اپنی آخرت کے بارے میں فکر مند رہنا چاہئے جیسا کہ “ شیخ شِبلی “  رحمۃُ اللہِ علیہ  جب کسی دنیا دار کو دیکھتے تو یہ دُعا مانگتے : اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

شکایت کرنے والے کونصیحت :  ایک فقیر نے کسی ولی اللہ کے وعظ کی مجلس میں کھڑے ہو کر شکایت کی کہ میں نے اتنے دن سے نہ لوگوں سے چُھپ کر کچھ کھایا ہے اور نہ لوگوں کے سامنے کچھ کھایا ہے۔ اُس ولی نے فرمایا : اے اللہ کے دُشمن! جھوٹ بولتا ہے اللہ پاک اتنی شدیدبھوک صرف اپنے خاص انبیا اور اولیا کو نصیب کرتا ہے اور (تو کوئی ولی نہیں لگتا کیونکہ) اگر تو ولی ہوتا تو اس طرح مخلوقِ خُدا کے سامنے اس بات کو بیان نہیں کرتا بلکہ یہ معاملہ لوگوں سے پوشیدہ رکھتا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب مؤمن کا دین دُرست ہو تو پھر وہ جان و مال میں نقصان کی پرواہ کئے بغیر حال و مستقبل میں پیش آنے والی مشقتوں کوبرداشت کرتا چلاجاتا ہے۔ [6]

ابھی آزمائش آئی ہی نہیں : ایک شخص کو کوڑوں اور قید کی سزا ہوئی تو اس نے امام غزالی  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے اس کی شکایت کی۔ امام غزالی نے فرمایا : شکر کر کیونکہ کبھی آزمائش اس سے بڑھ کر ہوتی ہے ، پھر کچھ وقت کے بعد اس کو ایک کنویں میں قید کر دیا گیا پھر اس نے دوبارہ شکایت کی تو آپ نے یہی جواب دیا۔ پھر کچھ وقت کے بعد اس کو ایک یہودی کے ساتھ ایک تنگ ، تاریک اور بدبو دار مکان میں رکھا گیااس نے پھر امام سے اِس کی شکایت کی۔ امام غزالی  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے فرمایا : شکر کر اور صبر کر۔ اس نے عرض کی : حضور اس سے بڑی کیا آزمائش ہوگی؟ تو امام غزالی نے فرمایا : اس سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ تیرے گلے میں کفر کا طوق ڈال دیا جائے اور تو اُسے ہی حق سمجھے۔ [7]

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں بھی دنیا کی محبت سے بچاکر اپنے محبوب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی محبت سے سَرشار فرمائے اور آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کےفرامین کےمطابق اپنی زندگی بَسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                             اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّیْنَ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ فیضانِ حدیث ، اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃالعلمیہ ، کراچی



[1] مسلم ، ص1211 ، حدیث : 7430

[2] شرح مسلم للنووی ، 18 / 97ملخصاً

[3] اکمال المعلم ، 8 / 515 ، تحت الحدیث : 2963ملخصاً

[4] بخاری ، 4 / 244 ، حدیث : 6490 ، مسلم ، ص 1211 ، حدیث : 7428

[5] کشف المشکل ، 3 / 513تا514 ، تحت الحدیث : 2014 ، طرح التثریب فی شرح التقریب ، 8 / 145

[6] مرقاۃ المفاتیح ، 9 / 95 ، تحت الحدیث : 5242

[7] مرقاۃ المفاتیح ، 9 / 95 ، تحت الحدیث : 5242


Share

Articles

Comments


Security Code