ذہین بچّے

Image

ایک دفعہ کی بات ہے ملکِ یَمَن میں ایک مچھیرا رہتا تھا اور مچھلیاں پکڑ کر اپنا گزارا کرتا تھا۔


Image
 امیرُ المؤمنین! میں بچہ ضرور ہوں لیکن میں حضرت سلیمان  علیہ السَّلام  کے ہُدہُد پرندے سے چھوٹا نہیں ہوں
Image
پیارے بچّو! تقریباً 15 سو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک ماں  اپنے بچّے کے ساتھ سفر پر تھی ،
Image
ذہین بچّو! آج ہم  آٹھویں صدی ہجری کے ایک بچّے کی ذِہانت کا پڑھنے جا رہے ہیں جس  کے پاس حافظہ (Memory) کی بہترین نعمت موجود تھی
Image
مدینۂ پاک میں بچّے کھیل رہے تھے ، اللہ کے پیارے  اور آخری رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   وہاں سے گزرے اور بچّوں کو سلام کیا ، پھر ایک بچّے کوآپ نے کسی کام سے بھیج دیا۔
Image
وہ مسلمان مرد کے مُشابہ ہوتا ہے
Image
آپ کی سیدھی طرف آپ کے چچّا حضرت عباس کے چھوٹے بیٹے عبدُاللہ بیٹھے تھےجبکہ دوسری طرف بڑی عمر کے صحابہ تھے۔
Image
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ   کی حکومت تھی۔