اسلام کی روشن تعلیمات

Image
انسانی خواہشات(Human Desires)سمندر سے زیادہ گہری اور زمین و آسمان سے زیادہ وُسعت رکھتی ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے
Image
مُعاشرتی زندگی(Social Life) میں ”رَوَیّہ“(Attitude) بہت اَہَمِّیَّت کا حامل ہے۔ عُموماً ماں باپ،بھائی بہن، سیٹھ ملازم، اپنے پرائے، دوست دشمن غرَض ہر ایک سے مختلف طرح کا رَوَیّہ رکھا جاتا ہے۔
Image
ایک ہی محلے یا سوسائٹی میں رہنے والے لوگ اگر ایک دوسرے سے میل جول نہ رکھیں، دُکھ درد میں شریک نہ ہوں تو بہت سی مشقتیں اور پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس لیے اسلام نے جہاں ماں باپ اور
Image
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماراپیارا دین ”اسلام“تعلیم دیتا ہے کہ جو عمر اور مقام ومرتبے میں چھوٹا ہو ، اس کے ساتھ  شفقت و محبت کا برتاؤ کریں اور جو علم ،عمر ،عہدے اور منصب میں ہم سے بڑے ہیں، 
Image
مہمانوں کی عزّت و تکریم اور خاطرتواضع  اسلامی معاشرے کی اعلیٰ تہذیب اور بلندیِ اَخلاق کی روشن علامت ہے۔ اسلام نے مہمان نوازی کی بہت ترغیب دلائی ہے۔
Image
یک دوسرے کی مدد کے بغیر دنیا میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، اس معاونت میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے قدم قدم پر یقین دہانی کی ضرورت پڑتی ہے، اس یقین دہانی کا ایک ذریعہ وعدہ ہے۔
Image
اللہ تعالٰی نے انسان کو”بہترین مخلوق“کےاعزاز سے نوازا،  فضیلت و بزرگی   اور علم  و شرف کےقابلِ فخر  تمغے عطا فرماکر  اسے مسجودِ ملائکہ  بنایا۔حُسنِ صوری و معنوی  عطا فرما کر ”احسنِ تقویم“ کا تاج پہنایا
Image
ایک دوسرے کی بھلائی چاہنااورخیرخواہی کرنا دینِ اسلام کی تعلیمات کا سنہری باب ہے۔ حضور سرورِ کائنات صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے اس کی خُوب ترغیب اِرشاد فرمائی ہے۔
Image
اِسلام نے معاشرے کو بہترین بنانے کے کئی طریقے عطا فرمائے ہیں۔ ان میں سے ایک ”ایثار“ (Sacrifice) ہے۔ ایثار معاشرے کے افراد کو باہم مَربُوط کرتا اور ان کے تعلق میں مضبوطی لاتا ہے۔