آخر درست کیا ہے؟

Image
بعض لوگ کہتےہیں کہ مذہب ایک افیون ہے جو انسان کی عملی قوت کو ختم کرکےاسے ناکارہ بنادیتاہے۔ یہ سوچ کس حد تک درست ہے؟ آئیے دلائل و براہین کی روشنی میں اس کا کچھ تجزیہ کرتے ہیں 
Image
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک طرف یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اسلام میں بڑی نرمی، آسانی اور وسعت ہے جس کی وجہ سے اسلام ہر طرح کے کلچر کو اپنے دامن میں سمو لیتا ہے البتہ
Image
آج کل یہ سوچ  عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دین ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، ہمیں کسی کے معاملے میں کچھ بھی نہیں بولنا چاہیے۔ لوگ جو کر رہے ہیں ان کو کرنے دیا جائے یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے،
Image
فرض نمازوں کے علاوہ سنتیں اور نوافل ادا کرنا اسلام کی خوبصورتی، ذوقِ عبادت کی علامت، عابدین کی پہچان اور مسلمانوں کا معمول ہے۔ لیکن بعض لوگ جدت پسند و روشن خیال مولویت سے متاثر ہوکر نوافل و سُنَن خصوصاً تراویح سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً عبادت کی لذت
Image
آج کل لفظوں میں خیانت عام ہے کہ اچھے الفاظ، بُرے مقصد کے لئے بولے جاتے ہیں جیسے دینی تعلیمات سے بیزار لوگ”روشن خیالی“ کا لفظ قرآن وحدیث کی تعلیمات کو تاریکی سمجھتے ہوئے اور اسلام مخالف طرزِ عمل کو روشنی قرار دیتے ہوئے بولتے ہیں حالانکہ یہ سراسر باطل ہے۔  کچھ ایسا ہی معاملہ
Image
علماء پر تنقید کرنے والے
Image
قربانی قدیم عبادت ہے، تمام امتوں میں ہمیشہ سے رائج رہی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا
Image
اسلام کا نظریۂ حیات نہایت خوبصورت، وسیع، جامع اور اعلیٰ ہے کہ ہم بندے ہیں اور ہمیں خدا کی بندگی کے تقاضے پورے کرکے دنیا کی زندگی بامقصد گزارنی ہے