کیا تصوف الگ سے کوئی دین ہے؟

آخر درست کیا ہے؟

کیا تصوف الگ سے کوئی دین ہے؟

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2024ء

مسلمانوں میں صوفیاء کرام سے محبت ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ صوفیاء کو دوسرے الفاظ میں صالحین یعنی نیکیوں کے شائق اور عامل کہہ سکتے ہیں۔ صوفیاء کرام جس طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہیں، اسے اصطلاح میں تصوف کہا جاتا ہے اور علمی طور پر اسے علمِ تصوف سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مفسرین و محدثین ومجددین و علماء و فقہاء کی سیرتوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ صوفیاء کرام کا بہت اِکرام کرتے اور تصوف سے بڑی محبت کرتے تھے۔ اپنی علمی تصنیفات میں کتبِ تصوف کا حوالہ دینا، صوفیاء کرام کے اقوال لکھنا اور دین کے معیاری عمل کی مثالیں پیش کرنے کےلئے اہلِ تصوف کے احوال و واقعات نقل کرنا ہمیشہ سے اکابرعلمائے اسلام کا معمول رہا ہے۔ اس سب کے باوجود، دورِ جدید میں قرآن و حدیث کا ناقص فہم رکھنے والے بعض لوگ تصوف کاکلیۃً انکار کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ تصوف تو دینِ اسلام سے الگ اور اس کے مدمقابل دوسرا دین ہے۔

اس منفی طرزِ فکر اور ناقص ترین فہم ِ دین پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔ بہرحال اہلِ دانش کے لئے کچھ وضاحت پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف اسی طرح ایک علم ہے جیسے علم تفسیر، علم حدیث اور علم ِ فقہ وغیرہا۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں علم تفسیر کے نام سے کوئی علم نہیں تھا، قرآن مجید تھا،اور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث تھیں۔ صحابہ کرام نے قرآن سمجھنا ہوتا،تو رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سمجھ لیتے تھے، یہ نہیں تھا کہ جداگانہ علم تفسیر اور اصولِ تفسیر کو سامنے رکھ کر تدبرِ قرآن کرتے۔ اسی طرح زمانہِ رسالت میں احادیثِ مبارکہ تو موجود تھیں لیکن اصولِ حدیث،فن ِحدیث یا علم ِحدیث نام کا کوئی جدا علم نہیں تھا۔ اسی طرح نماز، روزہ،حج،زکوٰۃ،نکاح، طلاق، حلال و حرام وغیرہ کے شرعی مسائل تو تھے لیکن علم ِفقہ یا علمِ اصولِ فقہ کے نام سے کوئی علم نہیں تھا۔لوگوں کو جو مسائل پیش آتے، وہ نبیِّ پاک علیہ الصّلوۃ والسّلام یا اکابر صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم سے پوچھ کرعمل کرلیتے۔ مذکور بالا علوم باقاعدہ مدوّن و منضبط نہیں تھے، بلکہ زمانہِ صحابہ کے بعدمعرضِ تحریر میں آئے اور پوری اُمّت کے درمیان مقبول ہوئے۔ پھر ہر علم کے ماہرین تیار ہوئے۔علمِ تفسیر کے اپنے ماہرین حضرت قتادہ، عکرمہ،طبری علیہم الرحمۃ، علمِ حدیث کے اپنے ماہرین جیسے اما م بخاری،امام مالک، امام احمد، امام مسلم علیہم الرحمۃ۔علمِ فقہ کے اپنے ماہرین ہیں جیسے امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک،امام شافعی، امام احمد علیہم الرحمۃ۔

یہی معاملہ علمِ تصوف کا ہے۔علمِ تصوف بھی اسی طرح ایک علم ہےکہ قرآن و حدیث کے علوم کو جس طرح مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا کہ وہ علم جس میں کلام اللہ یعنی قرآن مجید کےالفاظ،معانی اور اس کےمتعلق کلام ہو، اسے علم تفسیر کہا گیا،یونہی جس علم میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اعمال و اقوال و سکوت کا بیان ہو، وہ علم حدیث ہوگیا اور اس کے قواعد و ضوابط کا علم، علمِ اصولِ حدیث قرار پایا۔ یونہی جس علم میں یہ بیان ہے کہ آدمی نماز کیسے پڑھے؟ کیا چیز حلال ہے؟ کیا چیز حرام ہے؟ اس طرح کے تمام امور کے علم کو علم ِ فقہ کا نام دیا گیا۔

اسی طریقے سے قرآن مجید اور احادیثِ طیبہ کا ایک بڑا حصہ وہ ہےجس کا تعلق قلبی اعمال و احوال سے ہے جیسے اخلاص، صبر،شکر، توکل،قناعت،زہد،فکرِ آخرت،محبت ِ الٰہی، تسلیم و رضا یعنی اللہ کی رضا کو ہر شے پر فوقیت دینااور اس کی مشیت پر راضی رہنا۔ یہ تمام وہ اوصاف ہیں جنہیں قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے۔ان اوصاف کے برعکس کچھ دوسرے قلبی اعمال ہیں جنہیں رذائل سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے ریاکاری، بے صبری، تنگ دلی، ناشکری، ترکِ توکل، محبتِ دنیا، آخرت سے غفلت،تکبر، حسد، بغض وغیرہا۔ ان سب کی مذمت بھی قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ پہلی قسم کے اعمال کا حصول اور دوسری قسم کے اعمال سے اجتناب شریعت کا مطلوب ہے اور ان امور پر ضمنی طور پر تو کتبِ تفسیر و شروحِ حدیث میں کلام کیا جاتا ہے لیکن ان علوم میں مفصل نہیں۔ لہٰذا جس طرح مسلمانوں کی سہولت کےلئے فقہ ِ ظاہر کے احکام کو جداگانہ علمِ فقہ میں بیان کیا جاتا ہے اسی طرح فقہِ باطن یعنی قلبی اعمال و احوال کے احکام، تصوف کی کتابوں میں بیان کئے جاتے ہیں۔ کتبِ تصوف کا بنیادی موضوع قلبی نیک اعمال کی پہچان اور حصول کے طریقے نیز قلبی رذیل اعمال کی پہچان اور بچنے کے طریقے سیکھنا ہے۔ اس حقیقت کی زندہ مثال دیکھنی ہو تو تصوف کی مرکزی اور مشہور ترین چند کتابوں کا مطالعہ کرلیں مثلاً کیمیائے سعادت، احیاء العلوم، عوارف المعارف، الفتح الربانی، فتوح الغیب، کشف المحجوب، رسالہ قشیریہ، مکتوباتِ مجدد الف ثانی وغیرہا۔

اگر علمِ تفسیر،علمِ حدیث اور علمِ فقہ اسلام کے مد مقابل نہیں بلکہ اسی کی تشریح و توضیح کا نام ہےتو علمِ تصوف بھی اسلام کی تشریح و توضیح ہی کا نام ہے اور اگر تفسیر و حدیث و فقہ کا علم اسلام کےمتوازی کسی اور علم کا نام نہیں اور ان علوم پر عمل کسی اور دین پر عمل نہیں تو علمِ تصوف بھی علمِ دین کے متوازی کوئی دوسرا علم نہیں اور اس پر عمل اسلام کے مدمقابل کسی دوسرے دین پر عمل نہیں بلکہ تصوف اسلام ہی کے ایک شعبے کا علم اور تصوف کے اعمال اسلام ہی پر عمل کی صورت ہیں۔

اللہ و رسول جل جلالہ و صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکام کی مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے تشریح و توضیح کرنے پر یہ کہنا کہ یہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہے یعنی برخلاف ہےتو یہ سوچ کی کج روی، فہم کی غلطی اور اندازِ فکر کا ٹیڑھا پن ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بخاری شریف کی مشہور حدیث مبارک ہے جسے حدیثِ جبرئیل بھی کہتے ہیں اور حدیثِ احسان بھی۔ خلاصہ حدیث یہ ہے کہ جبرئیل امین علیہ الصّلوۃ والسّلام،رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کئے۔ ان میں تین سوال یہ تھے، پہلا سوال تھا: ماالایمان یعنی ایمان کیا ہے؟ دوسرا سوال تھا: ماالاسلام اسلام کیا ہے؟ تیسرا سوال تھا: ماالاحسان احسان کیا ہے؟نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر اور اللہ کے فرشتوں اوراللہ سے ملاقات اور اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان رکھو۔ اسلام کے متعلق فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ احسان کے متعلق فرمایا کہ احسان یہ ہےکہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اب ذرا اس حدیث پر غور کریں تو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسلام کو جدا بیان کیا،ایمان کو جدا بیان کیا اوراحسان کو جدا بیان کیا۔تو کیا یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کے مخالف ہیں؟کیا اسلام،ایمان نہیں ہے؟بالکل ہے۔ کیا احسان اسلام نہیں ہے؟بالکل ہے۔ تو بات یہ ہے کہ دین ِ اسلام کی مختلف شعبوں کے اعتبار سے تقسیم ہے اور اسی تقسیم میں جو تیسری قسم ہے جسے احسان فرمایا گیا، اسی احسان کو ہزاروں اولیاء اور لاکھوں علماء تصوف کہتے چلے آرہے ہیں۔ تصوف کے مختلف نام ہیں، جیسے تصوف، احسان، تزکیۂ نفس، طریقت،مجاہدہ نفس۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اسے تصوف کہہ لیں یا احسان کہہ لیں یا تزکیۂ نفس کہہ لیں یا طریقت کہہ لیں،یہ اصطلاحات ہیں، اس کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار نہیں ہوسکتا کہ دین میں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ ہے یا دین میں جیسے اللہ، آخرت پر ایمان ہے،اسی طرح عبادت کا وہ اعلیٰ درجہ جو اللہ کی بارگاہ میں سب سے پسندیدہ ہے،وہ بھی دین کا حصہ ہےاور اسی کا نام تصوف ہے بلکہ اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ

 تصوف روحِ دین ہے کیونکہ تصوف اعمالِ شریعت کو اعلیٰ و احسن انداز میں ادا کرنے کا نام ہے مثلاً نماز اس قدر عمدہ انداز میں پڑھی جائے کہ

)اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-( (پ21،العنکبوت:45)

”بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے۔“

کا مظہر بن جائے اور یہ نماز وہی ہوگی جو حدیث میں فرمایا کہ ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ دوسرے انداز میں یوں کہہ لیں کہ نماز کے فرائض، واجبات اور سنتیں ادا کرنا شریعت ہےاور اسی نمازمیں اتنا خشوع و خضوع شامل کردیناکہ وہ برائی اوربے حیائی سے روکنے والی بن جائے، یہ تصوف ہے۔

)كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ( (پ2،البقرۃ:183)

”تم پر روزے فرض کئے گئے“

کے حکم پر عمل کرنا شریعت ہے اور روزے ایسے رکھناکہ تقوی مل جائے،نفس قابو میں آجائے اور آیت کے حصے

)لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)( (پ2،البقرۃ:183)

’’تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ ‘‘

پر عمل ہوجائے، یہ تصوف ہے۔ گویا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ شریعت ہے اور لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ تصوف ہے۔

زکوۃ کیا ہے؟ مخصوص شرائط کی موجودگی میں مال کی مخصوص مقدار راہِ خدا میں دینا۔ اتنا مال دیدیا تو شریعت پر عمل ہوگیا، لیکن قرآن نے فرمایا :

)خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا( (پ11،التوبۃ:103)

’’ اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔ ‘‘

یعنی اے حبیب لوگوں کے مال سے زکوۃ وصول کرو اور اس کے ذریعے تم ان کے دل سے دنیا اور مال کی محبت ختم کرکے ان کے دل پاک صاف کردو۔گویا خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً شریعت ہے اور تُطَهِّرُهُمْ اور تُزَكِّیْهِمْ تصوف ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ شریعت اور تصوف کے متعلق یہ کہنا کہ یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ خود دین کے احکام کی روح سمجھنے کے برخلاف ہے۔ جو شخص دین کے احکام پوری طرح نہیں سمجھتا کہ افعالِ شرع کے پیچھے مطلوب کیا ہے، وہی ایسی بات کہہ سکتا ہے، ورنہ حقیقت یہی ہے کہ تصوف اسلام کے متوازی،مد مقابل کسی اور دین کا نام نہیں بلکہ تصوف وہی ’’ اِحسان ‘‘ہے جسے نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایمان اور اسلام کے ساتھ ملا کر بیان کیا اور تصوف وہی مطلوب ِ شرع ہے جسے قرآن ہی میں احکام ِ شرع کے ساتھ جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ، دار الافتاء اہلِ سنّت، فیضان مدینہ، کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code