تاریخ کے اوراق

Image
ہجرت کے آٹھویں سال رَمَضانُ المبارَک کے مہینے میں آسمان و زمین نے ایک ایسی فتح کا منظر دیکھا کہ جس کی مثال نہیں نہیں ملتی
Image
“ بَدر “ مدینۂ منوّرہ سے 80میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کا نام ہے جہاں زمانۂ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ موجودہ روڈ کے اعتبار سے یہ تقریباً 152کلومیٹر کا سفر ہے ،
Image
آج نگاہِ فلک اِک عجب منظر دیکھ رہی تھی ، دو لاکھ کے ظالم اور متکبردشمن کے مقابلے کے لئے  3ہزار کا مختصر مٹھی بھر دستہ دینِ مصطفوی کی خاطر رواں دواں تھا ،
Image
جس شے مىں نَرمى ہو وہ آراستہ ہوجاتى ہے اور جس چیز سے نکال دى جائے وہ عىب دار ہوجاتى ہے۔( مسلم، ص1073، حدىث:2594) سىرتِ نبوى کى وَرَق گَردانی (یعنی مطالعہ کرنے) سے معلوم ہوتا ہے کہ نرمی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مِزاج مبارَک کا حصّہ تھی، جىسا کہ فتحِ مکّہ کے باب
Image
حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلَیْہ الصَّلٰوۃ والسَّلام جنگ میں اِس صندوق کو آگے رکھتے تھے، اِس سے بنی اسرائیل کو سُکون نصیب ہوتا تھا ٭بنی اسرائیل کو جب کوئی مشکل پیش آتی تو وہ اِس صندوق کو سامنے رکھ کر دُعا کرتے تھے
Image
مدینۂ منوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً کے مقدّس پہاڑوں میں سے ایک مبارک و مُحبِّ رسول پہاڑ جبلِ اُحُد ہے جو دور سے دیکھنے میں سرخ رنگ کا معلوم ہوتا ہے۔حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی طرف اشارہ کرکے
Image
ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔
Image
عرب لوگ عموماً اپنے قبرستانوں کو جنت کہہ کر پکارتے ہیں اور معلیٰ بلند جگہ کو کہتے ہیں، یہ قبرِستان بھی چونکہ بلندی پرہے اسی لئے اسے جَنَّتُ الْمَعْلٰی، جَنَّتُ الْمَعْلاۃ، مَقْبَرَۃُ الْمَعْلَاۃ کہا جاتا ہے، 
Image
غارِ ثور اسلام کے تاریخی مقامات میں سے نہایت مبارک مقام ہے، دنیا بھر کے عاشقانِ رسول دیگر ایام میں بالعموم اور عمرہ و حج کے موقع پر بالخصوص اِس مقدس مقام کی نہ صِرف زیارت کرتے ہیں بلکہ یہاں نوافل وغیرہ ادا کرکے خوب برکتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔