باتیں میرے حضور ﷺ کی

Image
حضرت سیّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو اس وقت پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم شدید بُخار میں مبتلا تھے۔ میں نے جسمِ انور کو چُھوا اور عرض گزار ہوا: یَارسولَ اللہ
Image
جمہور (یعنی اکثر) عُلَما کے نزدیک سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر پانچوں نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد بھی فرض تھی۔ صَدْرُ الاَفاضِل  مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازِ تہجد سَیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر فرض تھی،
Image
ضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارسولَ اللہ! میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن بُھول جاتا ہوں؟ ارشاد فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ۔ میں نے چادر پھیلائی تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے 
Image
حکایت: مامون الرشید کی مجلس میں ایک یہودی آیا اور اس نے بڑی عمدہ گفتگو کی۔ مامون الرشید نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے انکار کر دیا۔ ایک سال بعد وہ دوبارہ آیا تو مسلمان ہو چکا تھا اور اس نے فِقْہ کے موضوع پر شاندار کلام کیا۔ قبولِ اسلام کا سبب پوچھنے پر 
Image
حضرت سیِّدُنا عبّاس رضی اللہ عنہ نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ!آپ کی نبوت کی نشانیوں نے مجھے آپ کے دِین میں داخِل ہونے کی دعوت دی تھی۔میں نے دیکھا کہ آپ گہوارے(یعنی جُھولے)میں چاندسےباتیں کرتے اور اپنی اُنگلی سے اس کی جانب اِشارہ کرتے
Image
اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل و خصائص کا لکھنا، پڑھنا اور سننا سنانا بہت بڑی سعادت اور ایک عمدہ عبادت ہے۔ قدیم زمانے سے علمائے کرام رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سیرت کے دیگر پہلوؤں کی طرح آپ کے
Image
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اعلانِ نَبُوَّت سے پہلے اور بعد ہر قسم کے صغیرہ کبیرہ گناہوں سے پاک ہیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے جان بوجھ کر یا بُھولے سے، ظاہر میں یا باطن میں، پوشیدگی میں یا اعلانیہ، سنجیدگی میں یا مزاح میں، خوشی میں یا غصے میں
Image

اگرچہ ہر مسلمان کے دل میں فطری طور پر رحمتِ عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحبّت موجود ہوتی ہے لیکن کوشش کرکے اس مَحبت میں اضافہ کرنا بہت بڑی سعادت مندی ہے۔مَحبت و عشقِ رسول کی لازوال دولت پانے اور

Image
خصائصِ مصطفےٰ کی حقیقی تعداد تو دینے والا ربِّ رحیم جانتا ہے یا لینے والے  رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ان کے فضائل نامَقصور اور خصائص نامَحصور (یعنی آپ کے فضائل میں کوئی کمی