ایک واقعہ ایک معجزہ

Image
اُمِّ حبیبہ نے کہا : صُہیب کیا تلاش کررہے ہو؟صہیب نے کہا : جھاڑو ڈھونڈرہا ہوں۔ اُمِّ حبیبہ ہنستے ہوئے بولی : کیوں! آج گھر کی صفائی تم کروگے ؟صہیب نے فوراًکہا
Image
دادا جان نے کہا : صبح سے دوپہر ہوگئی ہے ، صہیب کا کچھ پتا بھی ہے؟ ناشتے کے بعد سے تو نظر ہی نہیں آیا۔ خبیب نے کہا : مجھے تو لگتا ہے آج وہ گھر بھی نہیں آئے گا
Image
خُبیب اور اُمِّ حبیبہ داداجان کے کمرے میں گئے تو صُہیب بھی پیچھے پیچھے آگیا۔ داداجان نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : آج بچّے خود آئے ہیں ضرور کوئی بات ہے
Image
دونوں بھائی لیٹے لیٹے کتاب پڑھ رہے تھے۔ کمرے میں صرف ایک چھوٹا سا بلب جل رہا تھا۔ داداجان نے جب یہ دیکھا تو پہلے کمرے کی لائٹیں جلائیں پھر ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔
Image
خُبیب اور صُہیب کبھی کبھی داداجان کے ساتھ پارک جاتے تھے ، داداجان پارک میں تھوڑی دیر چلتےپھر بینچ پر بیٹھ جاتے اوریہ دونوں بھائی کھیل کود کرتے رہتے۔
Image
صُہیب نے منہ سے چادر ہٹاتے ہوئے کہا : اوہ ہو! بھائی جان! لائٹ آف کرنے کے ساتھ آپ نے فین بھی بند کردیا۔ خُبیب نے کہا : ارے! میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔
Image
پیارے بچّو! اس واقعے کے بعد ان کی میموری بہت پاوَر فُل ہوچکی تھی۔ اب آپ لوگ ان کا نام بتائیے؟ صُہیب نے بھولے پَن سے کہا :
Image
داداجان جیسے ہی بچّوں کے پاس آکر بیٹھے تو صُہیب نے تھوڑا سا منہ بناتے ہوئے کہا : داداجان! آج دوپہر میں تو بہت گرمی تھی۔ اور جب سورج نکلتا ہے
Image
اس بار بھی سب بچے ڈنر کرنے کے بعد داداجان کے کمرے میں چلے گئے۔ خُبیب نے کہا : داداجان! میں نے سنا ہے کہ آج رات چاند گرہن ہوگا۔