معاشرے کے ناسور

Image
گلی چھوٹی تھی جہاں سے ایک وقت میں ایک ہی گاڑی گزر سکتی تھی، ایسی جگہ پر کار کے ٹائر کا پنکچر ہونا،اوپر سے گرمی کا موسم!50برس کے جمال صاحب کے ہوش اُڑا دینے کے لئے کافی تھا۔ ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مِصداق انہوں نے کار کے نیچے جیک
Image
دو عالم کے مالک و مختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ،پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اُس کا دَرَجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنے باز ہوتا ہے۔ اس کے لشکرمیں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے 
Image
فروری2019ء کو کراچی میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جب ایک ماں نے اپنی اڑھائی سالہ پھول سی بچّی سمندر میں پھینک دی،اس کے بعد خود بھی مرنا چاہتی تھی لیکن اسے بچا لیا گیا۔ بچّی کی لاش دو دن کے بعد ساحلِ سمندر سے مل گئی۔ قتل کی وجہ گھریلو ناچاقی اور غربت وغیرہ بتائی گئی۔
Image
پتنگ اڑانے کے ساتھ مخصوص تہوار بسنت کا آغاز سزائے موت پانے والے غیرمسلم کی یادگار سے ہوا اور ہرگزرتا سال اس کی گندگیوں ،ناپاکیوں میں اضافہ ہی کرتا چلا گیا ، پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ موٹرسائیکل پر بیٹھے ننھے بچوں کے گلوں پر دھاتی ڈور پھرنے لگی 
Image
 مکّۂ پاک کی مسجدُ الحرام کے ایک خادم کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میری ڈیوٹی صفا و مروہ کے قریب زَم زَم شریف کے کولروں پر تھی، ایک صاحب میرے پاس آئے جن کی عمر تقریباً 50 سال ہوگی اور وہ اچّھے خاصے صحت مند تھے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ’’ ہم میاں بیوی لاہور
Image
ایک بادشاہ اور اس کے ساتھی شکار کی غرض سے جنگل کی جانب چلے جارہے تھے۔ جونہی بادشاہ شہر کی فَصِیل (چار دیواری) کے قریب پہنچا اس کی نگاہ سامنے آتے ہوئے ایک آنکھ والے شخص پر پڑی جو راستے سے ہٹنے کے بجائے بڑی بے نیازی سے چلا آرہا تھا۔
Image
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہماراروزمرہ کا مُشَاہَدہ ہے کہ لوگ بلا جھجھک (Without Hesitation) ایک دوسرے پر لعنت کرتے رہتے ہیں اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر قبیح(بُرے) فعل کا اِرْتِکاب کر رہے ہیں ۔
Image
کسی مسلمان کا برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہونا بلاشُبہ بُرا ہے لیکن کسی پر گناہوں اور برائیوں کا جھوٹا اِلزام لگانااِس سے کہیں زیادہ بُرا ہے۔
Image
فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں،