روشن مستقبل

Image
پیارے بچّو! آج ہم آپ کو ایسے شہرکے بارے میں بتاتے ہیں جہاں ایک عجیب وغریب قانون تھا کہ  سال کے آخر میں جو بھی اجنبی آدمی اس شہرمیں پہلی مرتبہ داخل ہوتا تو وہاں کےلوگ اس کا بڑا زور 
Image
گھر میں آج خُصُوصی طور پر کھچڑا بنانے کی تیاری ہورہی تھی، ننّھی مدیحہ  نے اپنی امّی جان سے پوچھا :امّی جان!آج کھچڑا کیوں پکا رہے ہیں؟امّی جان:آج 10محرم الحرام ہے۔ اس دن ہمارے پیارے نبی
Image
عیدِ قُربان کی آمد آمد تھی۔ لوگ قُربانی کے لئے جانور لا رہے تھے۔ حَسَن  بھی کئی دن سے داؤد صاحب سے پوچھ رہا تھا کہ ابّوجان! ہمارا بکرا کب آئے گا؟ میرے دوست فیضان کے ابّو بکرا لے آئے ہیں۔
Image
ابّو! ابّو! آپ کو ایک بات بتاؤں؟حَسن نے اپنے ابّوجان کو مُخاطَب کرتے ہوئے کہا۔ جی بیٹا بولیں! داؤد صاحب نے جواب دیا۔ حسن: ابّوجان ! آپ عامر اور صابر کو تو جانتے ہی ہیں آج اسکول میں عامر اور صابر کی لڑائی ہوگئی تھی۔ حسن اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے
Image
ننھاحَسَن رضا گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا کہ داؤد صاحب اذان کی آواز سُن کر کمرے سے باہر آگئے اور حسن کو مخاطَب کرتے ہوئے بولے:حسن بیٹا! آجائیں،اذان ہو چکی ہے نماز کے لئے مسجد  چلیں۔ جی ابّو جان! ابھی آیا حسن نے جواب دیا۔
Image
حسن کھانا چھوڑ کر اپنے ابوجان کی جانب بھاگا جو کہ دوسرے کمرے میں مدنی چینل دیکھ رہے تھے۔حسن کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا:ابّوجان! مبارَک ہو! رمضان شريف کا چاند نظر آگیا ہے، اب تو بہت مزہ آئے گا۔ داؤدصاحب اپنے لختِ جگر کی باتیں سُن کر مُسکرا دیئے
Image
داؤد صاحب اور ننّھا حَسَن  عصر کی نماز  پڑھنے کے لئے مسجد کے  قریب پہنچے تو داؤد صاحب نے کہا: بیٹا حسن! ہم مسجد میں پہلے سیدھا قدم رکھ کر داخل ہوں گے اور ساتھ ہی مسجد میں داخل ہونے کی دُعا پڑھیں گے۔ جی ابوجان ضرور، حسن نے جواب دیا۔
Image
آج دفتر میں بہت سارا کام ہونے کی وجہ سے داؤد صاحب بہت تھک گئے تھے اس لئے گھر آتے ہی آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔ اچانکانہوں نے دیکھا کہ ان کا چھوٹا بیٹا جُنید تالے میں چابی لگاکر اسے کھولنے کی کوشش کررہا ہے، مگر اس سے
Image
شام کا وقت تھا، حَسَن اور فاطمہ اپنے ابّوجان کی دفتر سے واپسی کے انتظار میں تھے۔ حَسَن بولا: کافی دن ہوگئے ہیں ابّوجان نے کوئی کہانی نہیں سُنائی! جی بھیّا! واقعی کافی دن ہوگئے، بس آج تو ابّوجان سے لازمی کہانی سنیں گے، فاطمہ نے جواب دیا۔ اچانک دروازے پر