روشن مستقبل

Image
روزانہ کی طرح اسکول سے آنے کے بعد خُبَیب نے امّی  کو سلام کیا، امّی آج بہت بھوک لگ رہی ہے پلیز!جلدی سے کھانا دیدیجئے۔اچّھابیٹا!یونیفارم چینج کرکے ہاتھ منہ دھولیجئے تب تک میں اپنے بیٹے کے لئے دسترخوان لگادیتی ہوں۔
Image
اسی وجہ سے جس تاریخ کوصحابَۂ کرام،تابعین،عُلَمائے دین اور اولیائےکرام میں سے کوئی اس دنیا سے رُخْصَت ہوئے ہوتے ہیں اس تاریخ کو عقیدت مندوں کی ایک تعداد ان کے مزارات پر حاضری دیتی ہے اور فیض یاب ہوتی ہے،ان سے محبّت رکھنے والے مسلمان ان کے ایصالِ ثواب
Image
12سالہ اُویس اپنی والدہ کے ساتھ آج خالہ سے ملنے اور ان  کا نیا گھر دیکھنے آیا ہوا تھا۔ پانی وغیرہ پینے کے بعد اویس کی نظریں کسی کو ڈھونڈنے لگیں، خالہ جان نے اُس سے پوچھا: بیٹا کسے ڈھونڈ رہے ہو؟
Image
پیارے بچّو! آج ہم آپ کو ایسے شہرکے بارے میں بتاتے ہیں جہاں ایک عجیب وغریب قانون تھا کہ  سال کے آخر میں جو بھی اجنبی آدمی اس شہرمیں پہلی مرتبہ داخل ہوتا تو وہاں کےلوگ اس کا بڑا زور 
Image
گھر میں آج خُصُوصی طور پر کھچڑا بنانے کی تیاری ہورہی تھی، ننّھی مدیحہ  نے اپنی امّی جان سے پوچھا :امّی جان!آج کھچڑا کیوں پکا رہے ہیں؟امّی جان:آج 10محرم الحرام ہے۔ اس دن ہمارے پیارے نبی
Image
عیدِ قُربان کی آمد آمد تھی۔ لوگ قُربانی کے لئے جانور لا رہے تھے۔ حَسَن  بھی کئی دن سے داؤد صاحب سے پوچھ رہا تھا کہ ابّوجان! ہمارا بکرا کب آئے گا؟ میرے دوست فیضان کے ابّو بکرا لے آئے ہیں۔
Image
ابّو! ابّو! آپ کو ایک بات بتاؤں؟حَسن نے اپنے ابّوجان کو مُخاطَب کرتے ہوئے کہا۔ جی بیٹا بولیں! داؤد صاحب نے جواب دیا۔ حسن: ابّوجان ! آپ عامر اور صابر کو تو جانتے ہی ہیں آج اسکول میں عامر اور صابر کی لڑائی ہوگئی تھی۔ حسن اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے
Image
ننھاحَسَن رضا گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا کہ داؤد صاحب اذان کی آواز سُن کر کمرے سے باہر آگئے اور حسن کو مخاطَب کرتے ہوئے بولے:حسن بیٹا! آجائیں،اذان ہو چکی ہے نماز کے لئے مسجد  چلیں۔ جی ابّو جان! ابھی آیا حسن نے جواب دیا۔
Image
حسن کھانا چھوڑ کر اپنے ابوجان کی جانب بھاگا جو کہ دوسرے کمرے میں مدنی چینل دیکھ رہے تھے۔حسن کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا:ابّوجان! مبارَک ہو! رمضان شريف کا چاند نظر آگیا ہے، اب تو بہت مزہ آئے گا۔ داؤدصاحب اپنے لختِ جگر کی باتیں سُن کر مُسکرا دیئے