روشن مستقبل

Image
ننھاحَسَن رضا گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا کہ داؤد صاحب اذان کی آواز سُن کر کمرے سے باہر آگئے اور حسن کو مخاطَب کرتے ہوئے بولے:حسن بیٹا! آجائیں،اذان ہو چکی ہے نماز کے لئے مسجد  چلیں۔ جی ابّو جان! ابھی آیا حسن نے جواب دیا۔
Image
حسن کھانا چھوڑ کر اپنے ابوجان کی جانب بھاگا جو کہ دوسرے کمرے میں مدنی چینل دیکھ رہے تھے۔حسن کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا:ابّوجان! مبارَک ہو! رمضان شريف کا چاند نظر آگیا ہے، اب تو بہت مزہ آئے گا۔ داؤدصاحب اپنے لختِ جگر کی باتیں سُن کر مُسکرا دیئے
Image
داؤد صاحب اور ننّھا حَسَن  عصر کی نماز  پڑھنے کے لئے مسجد کے  قریب پہنچے تو داؤد صاحب نے کہا: بیٹا حسن! ہم مسجد میں پہلے سیدھا قدم رکھ کر داخل ہوں گے اور ساتھ ہی مسجد میں داخل ہونے کی دُعا پڑھیں گے۔ جی ابوجان ضرور، حسن نے جواب دیا۔
Image
آج دفتر میں بہت سارا کام ہونے کی وجہ سے داؤد صاحب بہت تھک گئے تھے اس لئے گھر آتے ہی آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔ اچانکانہوں نے دیکھا کہ ان کا چھوٹا بیٹا جُنید تالے میں چابی لگاکر اسے کھولنے کی کوشش کررہا ہے، مگر اس سے
Image
شام کا وقت تھا، حَسَن اور فاطمہ اپنے ابّوجان کی دفتر سے واپسی کے انتظار میں تھے۔ حَسَن بولا: کافی دن ہوگئے ہیں ابّوجان نے کوئی کہانی نہیں سُنائی! جی بھیّا! واقعی کافی دن ہوگئے، بس آج تو ابّوجان سے لازمی کہانی سنیں گے، فاطمہ نے جواب دیا۔ اچانک دروازے پر
Image
دادا جان! امام صاحب کو سب اتنا پسند کیوں کرتے ہیں؟ مسجد سے گھرآتے ہوئے شاکِر کے اس سوال پر شہریار صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔راستے میں دونوں طرف طرح طرح کے پھول (Flowers) کِھلے ہوئے تھے، شہریار صاحب نے ان پھولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے 
Image
ہزاروں سال پہلے  کی بات ہے،’’نَمْرُود‘‘ نام کے ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس نے خدا ہونے کا جُھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا اور جو اُسے خدا نہ مانتا اُس پر  بہت ظُلْم و سِتَم کرتا اور قتل بھی کروادیتا تھا۔ اُس دور کے نبی حضرتِ سیّدُنا ابراہیم علیہ السّلام بھی نَمْرُود  کو خدا نہ ماننے 
Image
حضُور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ پاک کے حکم سے مکّہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شُروع کی ۔ اس وقت مکّہ میں زیادہ تَر لوگ  بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جب انہیں بتوں کی 
Image
 اللہ پاک نے قارون کو اِتنے خزانے عطا فرمائے تھے کہ اُن خزانوں کی چابیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت پر بھی بھاری تھا، لوگ اُس کے خزانے کی بھاری چابیاں اٹھا کر تھک جایا کرتے تھے، جب قارون سفر پر نکلتا تو اُس کے خزانوں کی چابیاں خچروں