زندگی کا پہلا رِسالہ

روشن مستقبل

زندگی کا پہلا رِسالہ

*   شاہ زیب  عطاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

خیریت تو ہے! کیا ایمرجنسی لگی ہوئی ہے جو کتابوں پہ کتابیں تلاش کئےجا رہے ہو؟ اپنے چھوٹے بھائی حامد سے قاسم نے پوچھتے ہوئے کہا جب وہ پریشانی میں کتابوں کی فہرست (Index) دیکھے جارہا تھا۔

گھر کے لائبریری روم میں حامد کچھ ہی دیر پہلے آیا تھا جبکہ ان کے بڑے بھائی قاسم پہلے سے ہی وہاں مطالعہ میں مصروف تھے۔ دونوں بھائی روزانہ اس روم میں رات کو مطالعہ کرتے تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔

حامد نے وجہ بتاتے ہوئے جواب دیا کہ آج اسکول میں ٹیچر نے سب طلبہ کو ایک سُوال کا جواب تلاش کرنے کا                                                                              کام دیا ہے ، وہ ڈھونڈ رہا ہوں۔

زبردست! اچھا انداز ہے لیکن وہ سوال کیا ہے؟ پڑھانے کے انداز کی تعریف کرتے ہوئے قاسم نے سوال کے بارے میں پوچھا۔

حامد : عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک “ دعوتِ اسلامی “ کے بانی مولانا الیاس عطّار قادری صاحب نے بہت سی کتابیں اور رَسائل لکھے ہیں ، لیکن ان کی سب سے پہلی تصنیف کس موضوع پر ہے اور اس کا نام کیا ہے؟

قاسم : اچھا سوال ہے ، مجھے اس سوال کا جواب معلوم ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں گا نہیں۔ ’’پلیز بھائی! بتائیے نا! مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ اس کا جواب کہاں پر ملے گا؟‘‘حامد نے جواب ملنے کی امید سے قاسم کے قریب آکر اپنی گزارش پیش کرتے ہوئے کہا۔

قاسم نے سمجھاتے ہوئے کہا : میرے چھوٹے بھائی! یہ غلط ہے کہ میں آپ کو جوا ب بتادوں کیونکہ یہ آپ کا ہوم ورک ہے ، آپ کے ٹیچر نے آپ کی قابلیت بڑھانے کیلئے اس سوال کو حل کرنے کا        کام دیا ہے اگر میں بتادوں گا تو آپ کے ٹیچر کا مقصد کیسے پورا ہوگا؟ میں بس آپ کو چھ(6) چھوٹی بڑی  کتابوں کے نام بتادیتا ہوں باقی تلاش کرنا آپ کا کام ہے۔

’’یہ بھی بہتر ہے ، ‘‘ یہ کہنے کے بعد حامد بتائی ہوئی کتابوں اور رسالوں میں تلاش کرنے میں لگ گیا اور قاسم اپنے مطالعے میں مشغول ہوگئے۔

صبح کو ناشتہ کرتے وقت حامد کے چہرے پر خوشی اور ہونٹوں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کو دیکھ کر ان کے بھائی سمجھ گئے تھے کہ سوال کا جواب مل گیا ہے ، انہوں نے مزید تصدیق کرتے ہوئے پوچھا : حامد! سوال کا جواب مل گیا تھا؟

حامد : جی بھائی جان! لیکن ڈھونڈتے ڈھونڈتے وقت کافی لگ گیا۔

قاسم نے کتابوں سے خود ڈھونڈنے کے فائدے بتاتے ہوئے کہاکہ دیکھو! خود تلاش کرنے سے اگرچہ کافی وقت آپ کا لگ گیا لیکن فائدہ بہت ہوا ہوگا کہ اصل چیز کے ساتھ اور بھی بہت ساری چیزو ں کے بارے میں معلومات ملی ہوگی ، اس لئے کوشش کیا کریں کہ جس سُوال کا جواب نہ آئے اسے خود تلاش کیا کریں تاکہ اس سے تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا ہو اوربہت ساری معلومات بھی حاصل ہو۔

بھائی کا شکریہ ادا کرکے حامد بذریعہ وین اسکول کے لئے روانہ ہوا۔

دورانِ کلاس  ٹیچر نے کل کے ہوم ورک کے بارے میں جب پوچھا تو جواب کے لئے اکیلے حامد ہی کا ہاتھ کھڑا ہوا ، باقی سب طلبہ کے ہاتھ نیچے تھے۔ ٹیچر کے اجازت دینے پر حامد نے جواب بتاتے ہوئے کہا : مولانا الیاس قادری صاحب کی پہلی تصنیف امام احمد رضا خان کے بارے میں ایک رِسالہ ہے اور اس کا نام “ تذکرۂ امام احمد رضا “ ہے۔ مزید یہ کہ یہ رسالہ انہوں نے “ یومِ رضا “ یعنی 25صفر 1393ہجری بمطابق31 مارچ 1973ءکو عوام میں جاری کیا۔

 ٹیچر نے حامد کو دُرست جواب دینے پر تحفہ دیا اور سب طلبہ کو یہ رِسالہ پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہوئے کہا کہ آپ سب یہ رسالہ پڑھ کر آئیں پھر کلاس میں اس کے متعلق ایک مقابلہ کروائیں گے ، اس پر سب طلبہ نے بلند آواز سے رسالہ پڑھ کر آنے کا اظہار کیا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code